وجاہت مسعود

  • نی مائے سانوں کھیڈن دے

    ان دنوں درویش گزرے ہوئے زمانوں کی بار دگر سیر کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو فوجی عدالت نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزاما� [..]مزید پڑھیں

  • تجربہ گاہ اور پیڑ کی بربادی

    دریا کے کنارے کھڑے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ دریا پار کر لیا ہے یا ابھی پانی میں پاؤں دھرا ہے اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ اس کے بعد ایک اور دریا کا سامنا ہو گا۔ ہم یونانی دیومالا کے دیوتا سسی فس کی آزمائش میں ہیں جسے سزا ملی تھی کہ بھاری پتھر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو پت� [..]مزید پڑھیں

  • جنگل نہیں، چمن بندی چاہیے

    انسانوں نے جنگل میں ان گنت صدیاں گزاریں اور پھر رہن سہن کے لئے بستیاں انتخاب کیں۔ اس لیے کہ جنگل میں طاقت کا قانون کمزور کے لئے ہر سانس میں خوف لیے تھا۔ بارش، طوفان، زلزلے، برفانی سردی اور جھلستی دھوپ جیسے مظاہر فطرت انسان کے اختیار سے باہر تھے۔ وسائل کی قلت ایک مستقل مسئلہ تھی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خاک صحرا پہ لکیریں اور اختلافی نوٹ

    درویش نے انگریزی ادب اور قانون میں تعلیم پائی۔ تخلیق ادب سے معذور رہا۔ قانون کی تعلیم مکتبی تھی۔ اقتدار کی بے چہرہ گرفت اور فرد کی بے بسی کے پیچ و خم پڑھنے میں عمر رواں کی دھوپ گزر گئی۔ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے مقدمہ قتل میں بھٹو صاحب کی اپیل مسترد کر دی۔ دو عورتیں اس عدالتی نا [..]مزید پڑھیں

  • معیشت کا سوال ہے بابا!

    1977 کا برس تلاطم انگیز واقعات سے شروع ہوا۔ 7 جنوری کو بھٹو صاحب نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے مارچ میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ آئینی طور پر حکومت کے پاس انتخابات کے لیے کم و بیش ڈیڑھ برس کی مہلت باقی تھی لیکن بھٹو صاحب کو اقتدار پر اپنی گرفت کا یقین تھا۔ ان کے خفی� [..]مزید پڑھیں

  • خوشیوں کے باغ میں گھنٹہ گھر

    لکھنا عطائے توفیق ہے۔ کسی کی اچھی تحریر پڑھ کر محظوظ ہونا حسد میں مبتلا ہونے سے بدرجہا بہتر ہے۔ حالیہ برسوں میں اس اخبار کے ادارتی صفحے پر حماد غزنوی اور فرنود عالم نمودار ہوئے ہیں۔ دونوں کا رنگ تحریر جدا ہے مگر پڑھنے والا علم کی وسعت، مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی سلاست کے سہ جہ [..]مزید پڑھیں

  • صحافت عیار کی زنبیل میں ہے

    تاریخ کے موجودہ عہد ظلمات کو آئندہ مورخ مقبولیت پسندی سے منسوب کرے گا۔ مقبولیت پسندی صرف سیاسی ہتھیار ہی نہیں، صحافت میں بھی رائے عامہ گمراہ کرنے میں کام آتی ہے۔ اس کا پہلا اصول پارسائی کی ڈھال اٹھا کر دوسروں پر تیر اندازی کرنا ہے۔ مقبولیت پسندی کو دلیل یا توازن سے نہیں، اند� [..]مزید پڑھیں

  • تھکے ہوئے شانوں سے بوجھ اتر گیا

    ایک ہی دن میں اتنے بہت سے ستارے بجھ گئے۔ سہ پہر میں محترمہ سیدہ عارفہ زہرا کے انتقال کی خبر آئی۔ رات گئے معلوم ہوا کہ استاذی عرفان صدیقی بھی رخصت ہو گئے۔ کوئٹہ سے برادرم عابد میر نے اطلاع دی ہے کہ میرے مہربان بزرگ اور سیاسی استاد سرور آغا بھی دس نومبر ہی کو داغ مفارقت دے گئے۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • مجھے گفتگو عوام سے ہے

    صاحبان عالی مقام ایسے آہنگ درا سے متصف ہوئے ہیں کہ کبھی صرف فوج کے سربراہ سے مخاطب ہوتے ہیں تو کبھی اپنے فرمودات کسی جلیل القدر سیاسی رہنما کے لئے مختص فرماتے ہیں۔ ہم خرقہ پوش تو اپنے جیسے خاک نشینوں ہی سے مخاطب ہو سکتے ہیں اور ہماری معروضات بھی دستور نامی مختصر کتابچے کی حدود ا [..]مزید پڑھیں

  • ایک قابل احترام ہم عصر کے بارے میں

    کوئی خطہ اور کوئی زمانہ اچھے انسانوں سے خالی نہیں ہوتے۔ یہ البتہ ہمارے بخت کے پیچاک ہیں کہ ہمیں اپنے جوار کے خس و خاشاک سے واسطہ پڑتا ہے یا ہمارے وقفہ حیات میں موجود لعل و گہر ہمیں نصیب ہوتے ہیں۔ درویش زندگی کا تہ دل سے شکر گزار ہے کہ سفر حیات میں خوش خصال بزرگوں کی بے پناہ شفقت ن� [..]مزید پڑھیں