وجاہت مسعود

  • کوا اندھیری رات میں شب بھر اڑا کیا

    ہم اہل پنجاب کا شین قاف درست نہیں ہوتا۔ حروف پر مبنی زبانوں میں اصوات کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بچہ والدین اور ارد گرد کے افراد سے خود بخود آوازیں سیکھ لیتا ہے۔ متعلقہ منطقے میں جو آوازیں موجود نہیں ہوتیں ، ان کی تحصیل کار دارد ہوتی ہیں۔ یہ سامنے کی بات تھی جسے عرب و عجم کا جھگڑا ب� [..]مزید پڑھیں

  • محصور شہر سے لکھی احتجاجی عرض داشت

    یہ عجیب محاصرہ ہے۔ فصیل سے باہر کوئی نہیں ہے۔ سب فریق شہر پناہ کے اندر مقیم ہیں۔ اہل شہر خوف کی پناہ گاہوں میں سر چھپائے بیٹھے ہیں۔ قبرستانوں کو جانے والے راستوں پر گھاس کیا اگتی، دھول تک بیٹھنے نہیں پاتی۔ گلی میں کسی کے قدموں کی چاپ نہیں۔ ہاٹ بازار سب کھلے ہیں، مٹھائی کی دکانوں [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بختاور اور آصفہ بھٹو نے پاکستان کی لاج رکھ لی

    استاد محترم فرمایا کرتے ہیں کہ ستر برس سے پاکستان کا سیاسی مکالمہ ایک ہی نقطے کا اسیر ہے ۔ ہمیں عورتوں کے حقوق اور آزادی سے خوف آتا ہے۔ استاد محترم سے اختلاف کی جسارت ممکن نہیں لیکن یہ قصہ اگست 1947 میں شروع نہیں ہوا ۔ امتیاز علی تاج کے والد محترم مولوی ممتاز علی سرسید احمد خان کے [..]مزید پڑھیں

  • سچی سرکار کا مفروضہ اور زبان کا کچا پن

    ایک ہی روز میں صبح کے گھنٹوں میں پیمرا نے ایک طوطی خوش بیاں کی ٹیلی ویژن سکرین پر رونمائی بین کر دی۔ الزام غیر محتاط گفتگو، توہین آمیز لب و لہجہ اور کھلی اشتعال انگیزی۔ اسی روز سہ پہر کو قومی اسمبلی میں دو جماعتوں کے ارکان گتھم گتھا ہو گئے۔ لات، گھونسے کا دور چلا ۔ گالی گفتار میں [..]مزید پڑھیں

  • بیانیے کی جنگ تو اب شروع ہوئی ہے

    برادرم یاسر پیرزادہ کی کتاب ’بیانیے کی جنگ ‘ چند ماہ قبل شائع ہوئی۔ یہ کتاب ان کالموں کا مجموعہ ہے جو آپریشن ضرب عضب سے پہلے کے ان تاریک برسوں میں لکھے گئے، جب پاکستان میں رہنے والے دن رات دھماکوں کی زد میں تھے۔ ہوا میں بارود کی بو ٹھہر گئی تھی۔ یاسر پیرزادہ ہمارے ان قلم کا [..]مزید پڑھیں

  • رواداری، زرداری اور چکوال کے آئی ڈی پی

    بیسویں صدی میں سیاسیات کے استاد جان رالز نے ایک اہم اصول بیان کیا تھا۔ وہ اسے رواداری کا مخمصہ قرار دیتے تھے۔ رواداری ایک اعلیٰ اخلاقی قدر ہے۔ اس میں رائے، عقیدے، زبان، ثقافت اور دوسری ممکنہ اختلافی شناختوں کے لیے مساوات اور احترام پایا جاتا ہے۔ انسانی معاشرے میں رواداری سے ا� [..]مزید پڑھیں

  • خزاں کا پانی نئے معانی نہیں سمجھتا

    سوالات کا موسم ہے۔ پرانا ذہن ہر سوال کا جواب دینے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ نیا ذہن پرانے جوابات پر سوال اٹھانے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہاں حتمی جواب فنا کا اشارہ ہے اور سوال زندگی کے تسلسل کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارے ہر دلعزیز رہنما عمران خان دو نومبر کو اسلام آباد میں اپنی طاقت کا مظاہرہ � [..]مزید پڑھیں

  • نوے روز کا انتظار: خدشے سے خواب تک

    قومی افق پر روشنی کے کچھ آثار نمودار ہوئے ہیں۔ دبے لفظوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ محترم جنرل راحیل شریف 27 نومبر کو اپنے منصب کی میعاد مکمل کر کے سبک دوش ہوجائیں گے۔ جنرل راحیل شریف غیر معمولی صلاحیت کے حامل سپاہی ہیں اور پاک فوج کی سربراہی ایک غیر معمولی سپاہی ہی کو زیب د� [..]مزید پڑھیں