سہیل وڑائچ

  • فوج اور سیاست

    آئین کی کتاب پڑھیں تو اس میں واضح طور پر درج ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے مگر پاکستان کی گذشتہ 60 سالہ تاریخ میں عملی طور پر اس کے برعکس معاملہ رہا ہے جمہوریہ پاکستان میں چار مارشل لاء نافذ ہوئے اور طویل جمہوری جدوجہد کے بعد ان کا خاتمہ ہوا۔ حال ہی میں پارلیمانی لی [..]مزید پڑھیں

  • وہ کب آئے گا؟

    اُس نے سیاست کرنی ہے تو اسے واپس تو آنا ہوگا۔ اُسے اچھی طرح سے علم ہے کہ اُس کا ووٹ بینک موجود ہے۔ اِس ووٹ بینک کو قائم رکھنا ہے تو اُس کے لئے قابلِ یقین بیانیے کی بھی ضرورت ہے۔ ووٹ بینک اُسی دن تک قائم رہتا ہے جس دن تک اُمید قائم رہے، اُمید ٹوٹ جائے تو ووٹ بینک بھی بکھر جاتا ہے� [..]مزید پڑھیں

  • گاجر مولی!

    گاجر: (مولی سے) تمہارا رنگ پاکستانی جھنڈے جیسا سفید اور سبز ضرور ہے مگر تمہاری بھی پاکستانی عوام کی طرح سرے سے کوئی حیثیت نہیں۔ مولی: تمہارا رنگ سرخ ہے ذائقہ بھی میٹھا ہے مگر گاجر اور مولی ایک ہی تھیلی کے چٹی بٹی ہیں، جب بھی کوئی برا وقت آتا ہے گاجر مولی کو عوام کی طرح اکٹھے ہی � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • حکومت، پریشر میں کیوں؟

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کسی طرف سے خطرہ نہیں۔ ریاستی ادارے اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ اپوزیشن میں ایسا دم خم نظر نہیں آتا کہ وہ کوئی تحریک چلا سکے یا پارلیمان کے اندر اِن ہائوس تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔ بظاہر جو مستحکم صورتحال نظر آ رہی ہے اس میں تحریک انصاف کی حکومت [..]مزید پڑھیں

  • بہاؤ مت روکیں!

    ’یہ کنٹرول کر لیا اب وہ کنٹرول کر لیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا‘۔ نائن الیون اور نیونارمل کے بعد کا زمانہ عجیب ہے دنیا بھر میں یہ وبا عام ہو گئی ہے، مسائل کا حل کنٹرول میں ہے جبکہ صدیوں کی انسانی تہذیب کا ثمر تھا کہ مسائل کا حل آزادی دینے میں ہے۔  اٹھارہویں صدی سے آزادی کا [..]مزید پڑھیں

  • سلیکٹرز سے کون پوچھے؟

    اس دفعہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ حساس، سنجیدہ اور پیچیدہ ہے۔ کرکٹ کی جس طرح تباہی ہو رہی ہے اس پر خاموش بیٹھنا کسی پاکستانی کے بس میں نہیں ہے۔ ہم سب کرکٹ کے کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کرکٹ ہمارا جوش، جنون اور شوق ہے۔ ہم سیاست کی غلطیاں تو معاف کر سکتے ہیں [..]مزید پڑھیں

  • کِلّہ بہت مضبوط ہے!

    پنجابی کا یہ محاورہ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے سیاست سے اس وقت روشناس کروایا جب نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی۔ اس دوران جنرل ضیاء الحق لاہور کے دورے پر تشریف لائے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کے بارے میں کہا کہ اس کا کِلّہ بہت مضبوط ہے۔  یوں ان کے خلاف تحریک عدم [..]مزید پڑھیں

  • شہباز شریف کے پیچھے کون؟

    اگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ا [..]مزید پڑھیں

  • سونے کے بنے اوورسیز پاکستانی

    ہم پاکستان میں رہنے والے اگر پیتل کے بنے ہوئے ہیں تو مشہور گانے کی پیروی میں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے اوورسیز پاکستانی بھائی سونے کے بنے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے اوورسیز بھائیوں کی ترقی، کامیابی، خوشحالی اور دانش سے بہت متاثر ہیں۔ زیادہ تر اوورسیز پاکستانی خالی ہاتھ بیرونِ ملک گئے ا [..]مزید پڑھیں

  • واوڈا آیا، کورونا بھگایا

    پسند اپنی اپنی، خیال اپنا اپنا۔ دوسرے جو مرضی کہیں میرا سپر ہیرو فیصل واوڈا ہے۔ کورونا کے بحرانی دور میں کسی کو حکومت سے، کسی کو سائنس دانوں سے اور کسی کو ڈاکٹروں سے امید وابستہ ہے جبکہ میری امیدوں کا واحد مرکز واوڈا ہے۔  وہی ایسا سپر ہیرو ہے جو اس ملک بلکہ اس دنیا کے لوگوں ک [..]مزید پڑھیں