سہیل وڑائچ

  • جنگوں کی ماں

    ایڈولف ہٹلر کے پروپیگنڈا وزیر گوئبلز کو تو ہم نے دیکھا نہیں صرف اس کے بارےمیں پڑھا ہے کہ اس نے کس طرح فیک نیوز، جھوٹے پروپیگنڈے اور معمولی چیزوں کو غیر معمولی بنا کر جرمنی کے عوام کو بے وقوف بنایا۔ مگر ہم نے اپنی زندگی میں عراق کے صدر صدام حسین کے وزیر سعید الصحاف کو 1990-91 کی خلیج� [..]مزید پڑھیں

  • گلگت بلتستان اور تضادستان!

    ہمارا تضادستان عجیب و غریب ہے ۔ دشمنوں کیلئے تو ایک دو دھاری شمشیر برہنہ ہے ہی مگر کئی دوستوں کیلئے بھی غم ناک زنجیر ہے ۔ ہماری روایت ہے کہ ہم اپنے سے پیار کرنے والے کو چوم چوم کر اور دبا دبا کر مار دیتے ہیں۔ تضادستان دشمن کی کلائی موڑنے کا ماہر تو ثابت ہو چکا، وہ اپنے کئی دوستو� [..]مزید پڑھیں

  • نیا قائداعظم اور نئی فاطمہ جناح

    ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں قائداعظم تو ایک ہی پیدا ہوئے ہیں اور اِسی طرح ان کی ایک ہی ہمشیرہ فاطمہ جناح مادرِ ملت بنیں۔ دونوں کا تضادستان میں رتبےکے اعتبار کوئی ثانی ہے نہ ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں اس ملک کے بانی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ بانی کا کوئی ثانی نہیں ہوتا اور اگر کوئی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ع لڑائی

    حروف تہجی کے ہر ہر لفظ کی اپنی اپنی اہمیت اور معنویت ہے، الف کی تو پوری کائنات پر چھتر چھایا ہے’’ اکو الف تیرے درکار‘‘۔ تضادستان میں مگر اس وقت ع بمقابلہ ع ہے ۔ اِدھر بھی ع اور اُدھر بھی ع ۔ بلکہ یک نہ شد، دو دو شد۔ لکیر کے آمنے سامنے دونوں طرف ایک ع نہیں بلکہ دو دو ع � [..]مزید پڑھیں

  • وائٹ ہاؤس کی مکھی

    یہ مکھیوں کی دنیا ہے، اس کا اپنا ایک نظام ہے مکھیاں پیغام سنتی بھی ہیں اور سناتی بھی ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ ہی ان کی زبان ہے۔ میں انہی مکھیوں میں سے ایک دیسی مکھی ہوں۔ تضادستان میں رہائش کی وجہ سے اندرونی سیاست سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور عالمی سیاست کی خبر بھی لیتی رہتی ہوں۔ جس [..]مزید پڑھیں

  • حافظ ڈاکٹرائن!

    پاکستانی صحافت کیلئے کافی عرصہ سے ایک مسئلہ جو چیلنج کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے وہ ہے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی شخصیت، ان کے خیالات اور ان کے مزاج کا پتہ چلانا ۔ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال صحافت اس معاملے کا کھوج لگانے میں ناکام ہے۔ جنرل عاصم منیر نہ تو جنرل باجوہ کی طرح رات کو � [..]مزید پڑھیں

  • گم نام سالگرہ، دانشور اور بیانیہ

    مجید امجد نے کتنا ٹھیک لکھا تھا: میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا اداس شاعر کا یہ شعر اس روز بہت یاد آیا جب میں ایک گم نام سالگرہ میں شریک ہوا۔ لاہور کا سرسبز باغ جناح اس روز بھی گھنے درختوں اور اپنی تازگی کی شان دکھا رہا تھا۔ باغ [..]مزید پڑھیں

  • یہ واقعی نازک لمحہ ہے!

    تضادستان میں ہر دور کو نازک دور کہا اور سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے نازک دور کی اہمیت ہی ختم ہوگئی ہے۔ وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ اب واقعی ایک نازک لمحہ ہے، اس لمحے میں مستقبل کی سیاست طے ہونی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ملک کے اندر بڑےاور غلط فیصلے کمزور حکومتوں نے کئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہا [..]مزید پڑھیں

  • بلبل، پھول اور کانٹا

    تضادستان کے گلستان میں جنگ کے بعد سے بلبل، پھول اور کانٹے کی کارفرمائی زیادہ نمایاں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ 1947 سے لے کر اب تک پاکستان اور بھارت کی جتنی بھی چھوٹی بڑی جنگیں ہوئیں وہ نتیجہ خیز نہیں تھیں۔ بھارت دعویٰ کرتا کہ وہ جیت گیا ہے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہوتاکہ ہم فاتح ہیں [..]مزید پڑھیں

  • مودی جی، رہیں گے یا جائیں گے؟

    جنگوں کے اثرات دیرپا اور دور رس ہوتے ہیں۔ 75سال سے زائد گزرنے کے باوجود جنگ عظیم دوئم کے اثرات ابھی تک یورپ میں موجود ہیں ۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے بھی سیاسی، سفارتی، معاشی اور دفاعی اثرات ہوں گے۔ ماضی کی پاک بھارت جنگوں کے سیاسی اثرات میں 1965 کی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند میں شکست [..]مزید پڑھیں