آمنہ مفتی

  • غلطی کرنے والے جن اور خلائی مخلوق

    خان صاحب کی حکومت کیا گئی ویران سڑکوں پر بہار سی آ گئی۔ پھر سے پنڈال سجنے لگے اور سوشل میڈیا پر جگہ جگہ بلوے اور فساد پھوٹ پڑے۔ پرانے دوست چھوٹ گئے، میاں بیوی میں تلخی آ گئی، رشتے داروں میں قطع تعلق ہو گئے اور جن سے دور دور کی سلام دعا تھی سب بلاک ہو گئے۔ عدم برداشت اور بد زبانی � [..]مزید پڑھیں

  • یہ کھیل ہے کیا؟

    ہمارے بچپن میں ایک کھیل کھیلا جاتا تھا، جس میں ایک فرد بندر بنتا تھا اور ایک ’کلی‘ یعنی چوبی میخ گاڑ کے اس سے ڈوری باندھ کے باقی کھیلنے والوں کے جوتے اس ڈوری کے اندر رکھ لیتا تھا۔ اب بندر کی کوشش ہوتی تھی کہ جوتوں کو اپنی جگہ سے کھسکنے نہ دے لیکن کھیلنے والے اپنے جوتے لے کر ب [..]مزید پڑھیں

  • دنیا تمہارے لیے ہی نہیں ہمارے لیے بھی تو بنی ہے

    اچھے وقتوں میں صرف دسمبر کا مہینہ ہی پاکستانی مردوں اور نیم دانشوروں پر گراں گزرتا تھا اور وہ عشقیہ و ڈیڑھ عشقیہ شاعری کرتے پائے جاتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ خدا نے کلسنے کلپنے کو فروری اور مارچ بھی عطا کر دیے۔ فروری کے غم سے کسی طرح گزرے ہی تھے کہ مارچ کا صدمہ لے بیٹھا۔ اب صورت [..]مزید پڑھیں

loading...
  • میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟

    ایک صاحب گھر سے نکلے، سامنے کیلے کا چھلکا پڑا ہوا دیکھا تو سر پیٹ لیا، ’ہائے او ربا! فیر تلکنا پئے گا!‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر و بیشتر ایسے موڑ پہ کھڑی پائی جاتی ہے جہاں ہم جان بوجھ کے ’رپٹتے‘ اور پھر سالہا سال ٹکور کرتے پھرتے ہیں۔ جنگ ایک بھیانک چیز ہے اور وہ ت� [..]مزید پڑھیں

  • طلاق، شادی اور حس مزاح

    موسم نے کروٹ کیا بدلی کہ لوگ بھی حشرات الارض کی طرح اپنے خول جھاڑنے اور نئی کینچلیاں بدلنے چل پڑے۔ شادی یوں تو ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے لیکن ہمارا معاشرہ بنیادی طور پہ شدید ’شادی کانشس‘ معاشرہ ہے۔ ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالتے کہ لوگ باگ شادی کے بارے میں بھونڈے مذاق شروع کر د [..]مزید پڑھیں

  • پڑا ہوا جزیرہ، مرا ہوا دریا

    ہاؤسنگ کالونیز بنانے کا مرض، نئے شہر بنانے کا مراق، زرعی زمینیں اجاڑ کے ان پہ کنکریٹ کے ویرانے بنانے کی بیماری تو خیر پرانی ہے۔ راوی ریور فرنٹ کا منصوبہ البتہ ماحول کی اس بربادی کی کہانی میں ایک نیا باب کھلا ہے۔ کتنے ہی برسوں سے ترقی، روزگار میں اضافے، سرمایہ کاری اور بڑھتی آ� [..]مزید پڑھیں

  • ظاہر جعفر کا پچھتاوا

    نور مقدم کیس کی سماعت ہوتی ہے۔ گتھیاں سلجھتی ہیں، بات الجھتی ہے اور گرہ پہ گرہ پڑ کے گنجل در گنجل ایک ایسی کہانی نظر آتی ہے جس کا انت بظاہر سب کو نظر آرہا ہے لیکن فی الحال سب اسی خیال میں بیٹھے ہیں کہ شاید انصاف، شاید انصاف۔ عثمان مرزا کیس میں جو ڈرامائی موڑ آیا ہے اس سے ہمارے مع [..]مزید پڑھیں

  • توبہ یہ تبدیلی

    بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ کسی غریب لکڑہارے کی ایمانداری سے خوش ہو کر اسے تین خواہشیں عطا کی گئیں جو کہ منہ سے نکلتے ہی پوری ہو سکتی تھیں۔ لکڑ ہارا چونکہ غریب تھا اس لیے اپنی بیوی سے ڈرتا اور اسے پیر مانتا تھا یعنی پرلے درجے کا زن مرید تھا۔ یہ نوید سن کے کمان سے نکلے تیر کی طر� [..]مزید پڑھیں

  • اے نئے سال بتا۔۔۔

    بچپن سے میری عادت ہے کہ نیا سال بہت دھوم دھام سے مناتی ہوں۔ اگر دعوت ممکن ہو تو خوب زبردست ضیافت کا انتظام کرتی ہوں اور اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو گھر میں ہی موم بتیاں جلا کے، قندیلیں اڑا کے نئے سال کا آغاز کرتی ہوں۔ اس برس جب 2021 گزر کے 2022 آ رہا تھا تو دل میں ایک عجیب خواہش نے [..]مزید پڑھیں