یاسر پیرزادہ

  • قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر دیکھنے والے

    میں قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھتا ہوں۔ روزانہ ایک ہی منظر ہوتا ہے۔ نیچے لوگ آتے ہیں۔ پہلے پہل تو وہ یونہی آ کر قلعے کی دیواروں کو تکتے رہتے تھے۔ یہ دیواریں اُس قدر مضبوط اور اونچی ہیں کہ انہیں دیکھنے کے لیے سر کو آسمان کی طرف کرنا پڑتا ہے۔ مگر اب وہ صبح سویرے جمع ہو جاتے [..]مزید پڑھیں

  • بہشتی دروازے کی گارنٹی

    آج کل پاکپتن کا بہشتی دروازہ ’کھڑکی توڑ‘ رش لے رہا ہے۔ اگر اِس کی کوئی ٹکٹ ہوتی تو بلیک کرنے والوں کی چاندی ہو جاتی۔ یہ بارہ فٹ کا ایک لکڑی کا پرانا دروازہ ہے جسے عقیدت مند ’بہشتی دروازہ‘ کہتے ہیں۔ محرم کے پانچ دنوں میں اسے کھولا جاتا ہے۔ ان پانچ دنوں میں وہاں جو حشر [..]مزید پڑھیں

  • کیا امام حسینؓ کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا؟

    ڈاکٹر علی شریعتی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کربلا کو سمجھنا ہو تو پہلے یہ سمجھو کہ امام حسینؓ کے پاس کربلا جانے کے علاوہ اور کیا راستہ تھا؟ اِس سوال پر غور کرتے ہیں مگر پہلے حکومت کے اُس ماڈل پر نظر ڈال لیں جو امیر معاویہ نے قائم کیا تھا تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ امام حسینؓ جس ’نامز [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک مرد جلانے والا، ایک مرد بچانے والا

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی اِس قدر سفاک کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دے! یہ انسان نما حیوان ہمارے معاشرے میں کہاں سے آ گئے ہیں، کون اِن کی تربیت کر رہا ہے، کیسے یہ جنونی بن جاتے ہیں! ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ کے سول اسپتال کے سرجری وارڈ میں اپنی ڈیوٹی پر موجود تھی� [..]مزید پڑھیں

  • عالمی لیڈران اور اُن کا لباس

    کوئی کچھ بھی کہے، میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مداح ہوں۔ کم ازکم انہیں ٹائی کی ناٹ تو ٹھیک بنانی آتی ہے۔ اُن کے پاس ٹائیاں بھی بہت عمدہ ہیں، سرخ، نیلی اور زرد اُن کی پسندیدہ ہیں۔ آپ اکثر تصویروں میں دیکھیں گے، انہی رنگوں میں سے کوئی ایک ٹائی انہوں نے باندھی ہوگی۔ امریکی صدر کے لباس کا � [..]مزید پڑھیں

  • لاہور کی ’کلچہ سپریمیسی‘ و دیگر مسائل امت

    سوشل میڈیا پر لاہور اور کراچی کے کھانوں کی بحث پڑھ پڑھ کر آنکھیں پَک گئی ہیں۔ اپنی طرف سے وسیم اکرم نے یہ کہہ کر بحث کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پکّے لاہوریے ہیں مگر گزشتہ کئی برس سے کراچی میں مقیم ہیں اِس لیے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کے کھانے بہترین ہیں اور لاہور کے کھانوں [..]مزید پڑھیں

  • سارا قصور مسلم دنیا کا ہے

    فرض کریں کہ آج یہ دنیا تاریخ کے اُس دور میں واپس چلی جائے جب غلامی کو قانونی حیثیت حاصل تھی اور یہ بھی فرض کر لیں کہ اُس وقت کے لوگوں کے دماغ میں مزاحمت، جدوجہد اور بغاوت کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا تھا تو ایسی صورت میں کیا ہوتا؟ کیا انسان کبھی غلامی سے نجات پا سکتا؟ ظاہر ہے کہ نہی [..]مزید پڑھیں

  • زندگی کو کنٹرول کرنے کی خواہش

    سید مزمل شاہ ایک خوبصورت اور نوجوان صحافی ہیں، خوبصورت زیادہ ہیں اور صحافی کم ہیں کیونکہ وہ صحافت سے زیادہ فلسفے اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ فریڈرک نِطشے اُن کا پسندیدہ فلسفی ہے۔  نطشے سے اُن کی وابستگی کا عالم یہ ہے کہ بعض اوقات مجھے یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں نطش [..]مزید پڑھیں

  • غالب کا لائف سٹائل اور ہماری شاہ خرچیاں

    اگر موٹیویشنل اسپیکرز کی نظر سے دیکھا جائے تو مرزا اسد اللہ خاں غالب ایک ناکام آدمی تھے۔ عُسرت کی زندگی گزاری، آمدن سے زیادہ خرچ کیا، قرض کی مے پیتے رہے، جوئے میں پیسے ہارتے رہے، شاہ خرچیوں کی بدولت اُن پر چالیس پچاس ہزار قرضہ چڑھ گیا لیکن اپنی حرکتوں سے باز کبھی نہ آئے۔ سترہ � [..]مزید پڑھیں

  • اگر ہمیں تیس ارب ڈالر مل جائیں توکیسا ہو؟

    جہالت کا علاج موجود ہے مگر انسان کے ’ڈ نگر پن‘ کا کوئی علاج نہیں۔ جب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بجنا شروع ہوئے ہیں، تب سے ’شریکوں‘ کو آگ لگی ہوئی ہے اور اِن میں اپنے پیٹی بند بھائی بھی شامل ہیں۔ انہیں یہ بات کیسے ہضم ہو کہ سرکار کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل [..]مزید پڑھیں