تبصرے تجزئیے

  • اقلیتوں کا پاکستان

    اپنے قومی بیانیے میں ایک بات ہمیں اچھی طرح سمجھ  لینی چاہے کہ یہ پاکستان جتنا ہمارا ہے، اتنا ہی اقلیتوں کا بھی ہے۔ ریاست پر اقلیتوں کے اس حقِ ملکیت کو نہ صرف تسلیم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ انہیں اس بات کا احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ ریاست اور اس معاشرے میں سوتیلے نہیں بلک [..]مزید پڑھیں

  • لوڈشیڈنگ، کپیسٹی چارجز اور انڈے کی ماہیت

    جب بھی میں کسی ایسے گمبھیر، پیچیدہ، گنجلک یا انتہائی تکنیکی معاملے میں پھنس جاؤں جسے میری ناقص عقل گہرائی تک سمجھنے اور اس کا حل نکالنے سے عاجز دکھائی دے تو میں ایسے معاملات پر زیادہ سر کھپانے اور اپنے آپ کو کوئی دانشور، ماہر یا ہرفن مولا ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے سردار [..]مزید پڑھیں

  • پُل اور ووٹ بینک

    ایک پُل ووٹ بینک پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟اسلام آباد میں ایک بائی پاس نو ماہ سے زیرِ تعمیر ہے۔ اسے جس تاریخ کو مکمل ہونا تھا، اسے گزرے تین ماہ ہو چکے۔ ہنوز دلّی دور است۔ چند ماہ پہلے تعمیر ہونے والی چھ رویہ شاندار سڑک کو اکھاڑ کر یہ منصوبہ شروع ہوا۔ کروڑوں روپے کا یہ زیاں اس وق� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کلکتے کا جو ذکر کیا تو سر جھک گیا میرا!

    کلکتہ کے مسلمانوں کی تاریخ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں نے صرف عبادت گاہیں نہیں بنائیں بلکہ تعلیمی ادارے قائم کیے، کتابیں لکھیں، اخبار نکالے، ادب تخلیق کیا اور ہندوستان کی سیاسی و تہذیبی زندگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ کلکتہ کبھی اردو صحافت کا ایک � [..]مزید پڑھیں

  • نائن الیون سے باب المندب تک

    11ستمبر 2026 کو پوری دنیا بالخصوص امریکا میں نائن الیون ٹریجڈی کی پچیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اس سانحہ میں نیو یارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک سو دس منزلہ ٹوئنز ٹاورز سے دو جہازوں کو ٹکراتے ہوئے جو انسانی المیہ وقوع پذیر ہوا اس میں یکا یک تین ہزار ہنستے مسکراتے انسان لقمہ اجل بنا دی� [..]مزید پڑھیں

  • وہ ایک بادشاہ تھا مگر ۔۔۔۔

    وہ ایک بادشاہ تھا اور آج خاموش تھا۔ آج وہ اپنے آخری سفر پر روانہ تھا۔ پروقار انداز میں اپنے تابوت میں لیٹا، لوگوں کے آنسوؤں، پھولوں کے ڈھیروں، اپنے نام لکھے گئے ہزاروں تہنیتی پیغامات پر اچٹتی نگاہ ڈالتا، اپنے نام سے جلائی جانے والے ان گنت  دیوں  کی روشنی میں تمکنت کے ساتھ&n [..]مزید پڑھیں

  • موت منڈی کے خوشیا

    پیرس میں 1940 کا موسم سرما قیامت خیز تھا۔ اس برس 14 جون کو نازی فوجیں پیرس پر قابض ہو گئی تھیں ۔ فرانس محض ایک مہینہ نازی طوفان کی مزاحمت کر سکا۔ جون کے پہلے ہفتے میں برطانیہ رودبار انگلستان کے راستے ڈنکرک سے ساڑھے تین لاکھ فوجی واپس لے گیا تھا۔ فرانس بیک وقت سیاسی، موسمی اور انتظ [..]مزید پڑھیں

  • دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال

    پیر کی رات سونے سے قبل تازہ ترین خبروں کے لئے سوشل میڈیا کے کوچے میں گھوم رہا تھا تو نیند کے جھونکوں نے مضمحل بنادیا۔ لیپ ٹاپ بند کرنے ہی والا تھا تو حکومت کے جاری کردہ ایک نو ٹی فکیشن پر نظر پڑ گئی۔ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے اضافے کا اعلان تھا۔ اسے دیکھتے ہی نیند کیا ہوش ہ� [..]مزید پڑھیں

  • صوبے ضرور بنائیے

    افراتفری نہیں کہتے غلط معنی اس لفظ کے لیے جائیں گے۔ لیکن منجمد پانیوں میں کچھ تو حرکت آئے۔ چار سال سے زائد کا عرصہ ہو چلا ہے جب سے یہ بندوبست قائم ہوا کہ ہر چیز ساکت پڑی ہوئی ہے۔ حالات میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں بس اقتدار سمٹتا چلا جا رہا تھا۔  حکمرانی کے پرزے مضبوط ہو رہے تھ� [..]مزید پڑھیں

  • چہرے نہیں حقیقی نظام بدلو

    ہم عرصۂ دراز سے یہ نعرہ سنتے آ رہے ہیں کہ "چہرے نہیں، نظام بدلو"، لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نعرے کا مخاطب کون ہے؟ نظام کس نے بدلنا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نظام ہوتا کیا ہے؟ شاید جماعت اسلامی والے جانتے ہوں کہ نظام کون بدل سکتا ہے، کیونکہ وہی سب سے زیادہ یہ نعر� [..]مزید پڑھیں