عالمی مالیاتی اداروں سے نجات کا طریقہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکی قرضے 27ہزار ارب روپے سے تجاوز کر رہے ہیں۔ جنوری تک 439 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ، کل مقامی قرضے 17ہزار 9سو ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں ۔بیرونی قرضے98ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی ان سابق قرضوں کو اتارنے کیلئے دوسرے قرض لے رہی ہے ۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران 200ممالک سے قرضہ جاتی پیکج حاصل کرنے کے باوجود ریاستی مالی معاملات سنبھالے نہیں جا رہے ہیں ۔ پانامہ حملے سے پیدا ہونے والے پاک بھارت تنازعہ سے جنگی کیفیات کی وجہ سے مالی معاملات اور مسائل پس منظر میں چلے گئے تھے ۔ قوم متحد ہو کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف صف آرا  دکھائی دیتی تھی مگر صورتحال کی بہتری اور جنگ کا خطرہ  ٹل جانے کے بعد معاملات اپنی پرانی ڈگر پر چل پڑے ہیں ، وہی سیاسی محاذ آرائی اور الزامات لگانے کی فضا دعود کر آئی ہے۔  اپوزیشن اپنے الزامات میں غیر سیاسی ریاستی عناصر کے خلاف  بات کرتی ہے اور انہیں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تناظر میں ان پر پابندیاں عائد کرنے منی لانڈرنگ کو روکنے اور پاکستان کی سماجی اور عالمی آؤٹ لک کو بہتر بنانے کا  مشورہ دیا جاتا ہے۔ جواب میں حکومتی اراکین کی طرف سے اس کو بھارت نواز ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے۔ جب بلاول بھٹو زرداری  انسانی ہمدردی کے تحت میاں نواز شریف کی جیل میں عیادت کرنے جاتا ہے تو اس کو تاریخ کا سب سے بڑا یو ٹرن قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی حسب نسب اور ریاستی سیاست کے طعنے دیئے جاتے ہیں ۔

 ماضی کی سیاست کو دیکھیں تو بے نظیر بھٹو شہید نے میاں نواز شریف کے ساتھ2007میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے ۔محترمہ نصرت بھٹو نے ضیاء الحق کے اقتدار میں شریک راہنماؤ ںکے ساتھ مل کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائی تھی ۔ سیاست میں  انتقام اور دشمنی نہیں ہوتی بلکہ ڈائیلاگ اور مفاہمت کے ساتھ ریاستی معاملات جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی کیلئے راہموار کرنا ہوتے ہیں۔ آج اقتدار میں موجود تحریک انصاف کی قیادت کو بھی مستقبل قریب میں ریاستی اور سیاسی امور کو چلانے کیلئے دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ سکتی ہے یہ سیاسی محاذ آرائی جس کی ترجیحات اور اہداف غیر نظریاتی اور شخصی لیڈر شپ کے کردار و عمل کے حوالے سے ہیں ماضی کی طرح یوں ہی چلتے رہیں گے مگر ان میں سنجیدگی اور اخلاقیات اپنانے  کی ضرورت ہے۔
اس سارے پس منظر میں سب سے اہم معاملہ معیشت کی بحالی  کا ہے  جس کی سر گرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ کاروباری حلقے سخت اضطرابی کیفیت کی شکایت کرتے ہوئے دہائی دیتے ہیں پاکستان کی پہلے سے جاری معاشی سر گرمیاں مزید بحران میں دھنستی جا رہی ہیں جس کی بنیادی وجوہات میں ملکی مصنوعات کے عالمی معیار پر پورا نہ اترنا اور ہائی ٹیک نہ ہونا ہے ۔ ہمارے ملک میں کئی روایتی ارب پتی ہیں جن کا تعلق  تیل کے کار خانوں، کھاد، پیکنگ، سیمنٹ کی صنعتوں سے ہے جہاں پر بہت کم ویلیو ایڈیٹ مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔  ہماری بنیادی مصنوعات روایتی طور پر ٹیکسٹائل ، چمڑے کی صنعت ، سپورٹس اور آلاتِ جراحی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جن میں بہت کم ویلیو ایڈیشن ہونے کی وجہ سے ان کی برآمدات کم ہو رہی ہے۔ جب کہ اس کی جگہ بنگلہ دیش تھائی لینڈ اور بھارت  لے رہے  ہیں ، ہمارے ملک میں کسی بھی ارب پتی نے جہاز سازی ، جدید ڈیفنس ٹیکنالوجی ، کمپیوٹر اور صنعتوں میں سرمایہ کاری کر کے ہائی ٹیک مشینری نہیں بنائی ۔  اور نہ ہی پاکستان میں بائے ٹیکنالوجی کی تحقیقات کیلئے فارما میڈیکل کمپنیاں موجود ہیں اور نہ ہی یہاں پر مصنوعی ذہانت کے تحت ربورٹ تیار کئے جا رہے ہیں ۔

 بینکوں میں جدید کمپیوٹر سسٹم بھی بیرون ممالک سے منگوایا جاتا ہے۔ ملک کے ارب پتیوں نے کبھی جدید انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح نہیں دی ہے جس کی وجہ سے ہم بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے درآمدات کرنے پر مجبور ہیں جس کی ادائیگی غیر ملکی کرنسی میں کی جاتی ہے۔ اس طرح ہمارے بیرونی کرنسی کے ذخائر ہمیشہ دباؤ میں رہتے ہیں ، کسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے بچت کی بہت اہمیت ہوتی ہے مگر یہاں پر ان کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے۔ یا انہیں رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں کھپا دیا جاتا ہے اس وقت سب سے منافع بخش کاروبار ہاؤسنگ کالونیوں کی تعمیر ہے، جس نے شہروں کے ارد گرد زرعی رقبہ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے رہائشی کالونیوں کو روکنے کا کہا ہے اور فلیٹس کی تعمیرات کی ہدایات کی ہیں۔

 رئیل اسٹیٹ غیر پیدا واری سرمایہ کاری کی وجہ سے سرمایہ اور اثاثے منجمد ہو جاتے ہیں ۔  پاکستان کے ابتدائی دور میں حبیب، داؤد، سہگل،اور آدم جی وغیرہ کے صنعتی گروپس موجود تھے جنہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی اور مالیاتی ادارے قائم کئے جس سے خاصے لوگوں کو روز گار حاصل ہوا۔  مگر ان خاندانوں نے کبھی ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے صنعتوں کے قیام میں دلچسپی نہیں لی ۔  یہی صورتحال ابھی تک چل رہی ہے زیادہ سے زیادہ یہ تبدیلی آئی ہے کہ ہم نے بیرون ممالک سے پارٹس درآمدات کر کے ان کی اسمبلنگ کا کام شروع کر دیا ہے ۔ مگر اس مشینری کے حوالے سے بنیادی ٹیکنالوجی کی منتقلی کی کبھی کوشش نہیں کی ۔  آج ملک کے سرکاری اور نجی اداروں نے اربوں روپے کی ہائی ٹیک مشینری خراب پڑی ہے جس کو مقامی سطح پر تکنیکی مہارت کی عدم موجودگی کی وجہ سے  چالو نہیں کیا جا سکا  ۔
حکومت نے اپنے طور پر دفاعی معاملات میں خود کفیل ہونے کیلئے میزائل اور سپیس ٹیکنالوجی حاصل کی ہے مگر ان کا عوام کی استعمال کی مصنوعات کی تیاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جس سے ہم عالمی معیار کی ہائی ٹیک مصنوعات  تیار اور درآمد کر سکیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان نے دفاعی شعبے میں میزائیلوں ، ٹینکوں اور طیاروں کی تیاری سے خود کفالت کی منزل حاصل کر لی ہے ۔
دوسرے ملکوں کے ارب پتیوں کے بارے غور کریں جس میں آئندہ نسل کے ارب پتی مارک زیوک برگ (فیس بک) لیری پیج (گوگل)فیس لورز (ایمزن) سیٹو جائز  وغیرہ شامل ہیں۔  یہ لوگ  دنیا میں سب سے زیادہ کما رہے ہیں۔ ان کمپنیوں کی جدید ایجادات اور تحقیقات کی وجہ سے آج امریکہ پوری دنیا کی سیاست ، معیشت اور دفاعی نظام پر غالب ہے،  تحقیقات اور ایجادات کیلئے ریسرچ سنٹر قائم کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ان تحقیقاتی اداروں کی صورتحال بہت خراب ہے جہاں پر بجٹ سے صر ف تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں ہم اپنی زرعی پیدا وار میں فی ایکڑ اضافہ کرنے کیلئے مقامی طور پر کوئی بیج نہیں تیار کر سکے ہیں۔  ان کیلئے ادوایات اور کھاد ، بنیادی کیمیکل اور دیگر اجزاء درآمد کرتے ہیں ۔

آٹو موبائل انڈسٹری میں جاپان اور کوریا کے برانڈز دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں ، آئی ٹی اور الیکٹرانکس کی مصنوعات جاپان سے آتی ہیں۔ جاپان نے چھوٹے درجے کی ٹیکنالوجی ، ملائیشیا ، انڈو نیشیا ، تھائی لینڈ اور فلپائن میں منتقل کی ہے تو وہاں کے حکمرانوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنے اندر کھپانے کیلئے انسانی سرمائے پر بہت کچھ خرچ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ممالک ایشین ٹائیگر بن کر ابھرے ہیں ، لیپ ٹاپ تائی وان بنا کر بھیجتا ہے جبکہ ویتنام ہیلی کاپٹر تیار کر رہا ہے۔ سنگا پور کی ترقی حیرت انگیز ہے۔ چین کی مصنوعات دنیا کی تمام منڈیوں میں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔
جاپان ، چین، ملائیشیا، سنگا پور، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک نے ترقی اپنے بہتر تعلیمی نظام کے ذریعے کی ہے انہوں نے روایتی ڈگریوں کے پیچھے طالب علموں کو بھگانے کی بجائے انہیں    ٹیکنیکل تعلیم دی ہے۔  جبکہ ہمارے تعلیمی نظام کا حال دیکھیں کہ انجینئرنگ ، ایم بی اے، بی اے اور سائنس کی تعلیم پر سالوں لگانے کے بعد ان کے پاس کوئی تکنیکی مہارت نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ حاصل کردہ تعلیم کے شعبوں سے متعلق اداروں میں انہیں نوکریاں نہیں ملتیں۔ وہ بیرون ملک ہوٹلوں سٹوروں نوکری کرتے یا ٹیکسی چلانے پر مجبور ہیں۔ ہم ہر سال 200ارب روپے کے لیپ ٹاپ تقسیم کرتے ہیں لیکن ان کو تیار کرنے کا کوئی کار خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

 ہماری ترجیحات کا اندازہ لگائیں کہ ہم سی پیک کے تحت طویل ہونے والی 2000کلو میٹر کی راہداریوں پر تعمیر ہونے والے ڈھابوں، ہوٹل اور پنکچر کی دکانیں کھول کر یا ٹول ٹیکس کے ذریعے بل گیٹ بن جائیں گے یا صنعتی انقلاب لے آئیں گے؟  ہمیں ٹیکنالوجی کی منتقلی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اکستان کو قرضہ جاتی دباؤ سے  نجات کیلئے ہائی سکیل انڈسٹری کا قیام اور جدید ویلیو ایڈیٹ مصنوعات کی برآمدات کے ساتھ،  اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ مقامی صنعت کاروں کو روایتی صنعتوں کے ساتھ جدید صنعت کاری کی طرف آمادہ کرنا اور اس کے ساتھ نظام کی شفافیت ، ریاست کے مالی وسائل بڑھانے کیلئے ٹیکس وصولی کے نظام میں انقلابی بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جس کا اعادہ وزیر اعظم عمران خان کئی تقریر میں کر چکے ہیں۔ ملائیشیا کے ڈاکٹرمہاتیر محمد کے چند الفاظ ہمارے لیے کافی ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ملک  علاقے میں محاذ آرائی اور دشمن  کے ساتھ  ترقی نہیں کر سکتا ۔