ایڈیٹرکا انتخاب

  • آسٹریلوی سینیٹ میں ’برقعہ‘

    آسٹریلیا کی سینیٹ میں برقعہ پہن کر برقعے پر پابندی  کا مطالبہ کرنے والی ایک خاتون سینیٹر کی رکنیت ایک ہفتے کے لیے معطل کردی گئی ہے۔ مسلمان سینیٹرز نے اسے نسل پرستی کا مظاہرہ اور شرمناک قرار دیاجبکہ سینیٹ نے  کثرت رائے سے پالین ہنسن کے اقدام لوگوں  کے مذہب پر تنقید  او� [..]مزید پڑھیں

  • سوئے دار محو رقص ذوالفقار علی بھٹو

    موت کی کوٹھری اور اس میں رقص کرتا  پاکستان کے سابق صدر  اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو  کا کردار۔۔ اسٹیج پر روشنی کے ساتھ ہی یہ منظر ہال میں بیٹھے تماشائیوں  کو ناقابل بیان کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے۔  ’سزائے موت‘ کے نام سے بننے والے اس  مونولاگ تھیٹر  کے ب [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ’سزائے موت‘ سے پھوٹتی امید کی کرنیں

    ٹونی عثمان نے شروع سے ہی فن کو اپنی ذات  کے اظہار کا  ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ  اداکاری ، تھیٹر یا فلم ہی کے ذریعے وہ خود  کوپہچان سکتا ہے۔ خودشناسی کی کوشش  سے شروع ہونے والا یہ سفر اب ایک ایسی سطح  تک پہنچ چکا ہے جہاں   زندگی کے نصف ال [..]مزید پڑھیں

  • جنگ والو، کالم بھی غیر ضروری ہیں

    گزشتہ ہفتے روزنامہ جنگ نے اداریہ ختم کیا تو ہم نے اُس پر ایک مختصر تحریر فیس بک کی دیوارِ گریہ پر آویزاں کردی۔ اس تحریر میں ہم نے اداریے کی روایت ختم ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جب اداروں میں مدیر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ اور مدیر کا منصب ایسے لوگوں کو [..]مزید پڑھیں

  • طاقت کی زبان اور رعایا

    اقتدار معاشرے میں فرد کے تحفظ، بنیادی ضروریات کی فراہمی اور مختلف گروہوں میں پرامن تعلقات کو یقینی بنانے کے لئے بطور امانت ایک اختیار کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ تاہم انسانی تاریخ میں اقتدار انسانوں کے وسائل، حقوق اور خوشیوں کو صاحبان اختیار کے ذاتی مفادات کے تابع کرنے کا آلہ [..]مزید پڑھیں

  • ناروے میں پاکستانی سفیر کا سیاسی پیغام

    گزشتہ روز ناروے  میں سفیر پاکستان محترمہ  سعدیہ الطاف قاضی نے ایک تقریب  میں  کچھ ایسی باتیں کیں جو عام طور سے کسی سفارتی نمائیندےکے شایان شان نہیں سمجھی جاتیں۔  انہوں نے ناروے میں مقیم پاکستانیوں کو تصویر کا مثبت رخ دیکھنے  کامشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ  ہر معا [..]مزید پڑھیں

  • صحافی کیا کرسکتا ہے؟

    سیاسی حبس کا موسم ہو، جمہوریت داؤ پر لگی ہو، زور آور ہر ہتھکنڈا آزمانے پر آمادہ ہو ں اور سیاسی  لیڈر ایک دوسرے کا گریبان پکڑے جمہوریت کے نام پر انسانی حقوق اور آزادی رائے  کا خون کررہے ہوں۔ عدالتوں پر پہرے لگے ہوں۔ ضمیر کے مطابق فیصلے کرنے والے ٹک ٹک دیدم کی مثال بن چکے ہوں � [..]مزید پڑھیں

  • اوسلو کا گرونلاند

    گرونلاند اوسلو شہر کے مرکز میں واقع ہے اور تارکین وطن کی سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے ناطے معروف کثیرالثقافتی علاقہ ہے۔ آج سے کوئی چار سو سال قبل یہ علاقہ اوسلو کے ساحل سمندر کا حصہ تھا جو بتدریج ارتفاع زمین اور بیورویکا میں باندھےگئے بند کے نتیجہ میں خشکی میں ت� [..]مزید پڑھیں