دہشت کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ملک
- تحریر طارق محمود مرزا
- منگل 26 / مارچ / 2019
- 5540
پندرہ مارچ کی دوپہر میں النورمسجد سڈنی سے جمعہ کی نماز ادا کر کے باہر نکلا تو واٹس ایپ پر ایک دوست کا پیغام دیکھا جس میں النور مسجد کرائسٹ چرچ میں ہونے والے قتلِ عام کی اندوہ ناک خبر تھی ۔ جسے دیکھ کر بھی مجھے یقین نہیں آیا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پڑوسی اور دوست ملک ہیں ۔نیوزی لینڈ ،آسٹریلیا کے مشرق میں واقع ہے اور برّ اعظم آسٹریلیا کا دوسرا بڑا ملک ہے ۔ دونوں جزیرہ نما ملکوں کے درمیان بحرالکاہل حائل ہے۔
دنیا میں سب سے پہلے سورج نیوزی لینڈ میں نکلتا ہے اس کے بعد آسٹریلیا اور پھر باقی دنیا اس دن کا سورج دیکھتی ہے۔ وقت کے اعتبار سے نیوزی لینڈ آسٹریلیا سے دو گھنٹے اور پاکستان سے آٹھ گھنٹے آگے ہے۔یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کے بیشترمسلمانوں نے نمازِ جمعہ سے پہلے یہ خبر سن لی تھی ۔جس جس نے یہ خبر سنی سنّاٹے میں آگیا ۔یہ اتنا وحشیانہ ، ظالمانہ اور غیر انسانی فعل تھا کہ پوری دنیا عموماََ اور اسلامی دنیا خصوصاَ گہرے صدمے سے ہم کنار ہوئی ۔کسی عبادت گاہ میں گھس کر اتنے بے گناہوں کا یوں قتلِ عام پوری انسانیت کا قتلِ عام ہے ۔ ایک وحشی کے اس قبیح فعل نے پوری انسانیت کا سر جھکا دیا ۔ ایک درندے کے اندر بھری زہریلی نفرت کی آندھی کے آگے رواداری ، انسانیت ، قانون اور خدا کا خوف کچھ بھی بند نہ باندھ سکا۔نفرت کی اس زہریلی آندھی نے پچاس بے گناہوں کی جان لے لی اور درجنوں دوسروں کو زخموں سے چور کر دیا ۔ ان کے خاندان، عزیز واقارب اور پوری مہذب دُنیا صدمے سے نڈھال ہے ۔ اس دُکھ میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے عوام بھی شریک ہیں۔ کیونکہ یہ گھناوٗنا واقعہ ان دو انتہائی پُرامن ملکوں کے لیے ایک بدنما داغ کی طرح ہے ۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈکے درمیان دیگر بہت سی مشترک اقدار کے ساتھ ساتھ یہ وصف نہایت نمایاں ہے کہ یہاں آنے والے تارکینِ وطن اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ تعصّب،نفرت اور عدم رواداری کا مظاہرہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے ۔
عوام کی اکثریت، بڑی سیاسی جماعتیں اور حکومتیں مذہبی ،لِسانی اور تہذیبی آزادی پر یقین رکھتی ہیں ۔وہ نقل مکانی کر کے آنے والے لوگوں کو خوش دلی سے کیمونٹی کا حصہ مانتے ہیں۔ ان کو اپنے مذہب، زبان اور تہذیب و تمدن پر عمل کرنے کی پوری �آزادی بلکہ تعاون فراہم کرتے ہیں ۔ ان کے مذہبی ، قومی اور کلچرل پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں اور اس تہذیبی رنگا رنگی کو کو قومی طاقت سمجھتے ہیں ۔نصف صدی قبل والی یورپین جھکاؤ والی پالیسی ترک کر کے عشروں سے یہ جڑواں ملک عدم تعصب کے راستے پر گامزن ہیں۔ مگر اس سانحہ نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا دونوں کا امیج جو عشروں کی محنت سے بنا تھا، کو بہت نقصان پہنچایاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قاتل کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اوریہ جرم نیوزی لینڈ میں سرزد ہوا۔ یو ں یہ واقعہ بیک وقت دونوں جڑواں ملکوں کے لیے سُبکی کا باعث بنا ۔
قاتل کا تعلق آسٹریلیا سے ہونے کے باوجود اس نے یہ حملہ نیوزی لینڈ میں اس لیے کیا کہ نیوز ی لینڈکی وزیرِ اعظم نے اسلحہ پر پابندی کا جواعلان اب کیا ہے آسٹریلیا میں1996 میں یہ کام ہو چکا ہے ۔اس لیے قاتل کو نیوزی لینڈ آسان ٹارگٹ لگا جہاں اس نے بیک وقت پانچ بندوقوں کا لائسنس بنوا لیا۔کاش نیوزی لینڈ کی حکومت اسی وقت یہ قانون سازی کر لیتی تو شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔
اس واقعہ کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام نے مسلمانوں کے ساتھ جس جذبہِ خیر سگالی کا اظہار کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ وہاں کے عوام جنہوں نے پہلے مسجدیں دیکھی بھی نہیں ہوں گی پھولوں کے گلدستے لے کر جوق در جوق مساجد کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد ، ان سے اظہارِ ہمدردی اور اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں ۔عام لوگ نمازیوں کی حفاظت کے لیے مسجد میں نمازیوں کے پیچھے آکرکھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہودیوں نے یکجہتی کے اظہار کے لیے اپنی عبادت گاہیں بند رکھیں۔ مقامی عیسائیوں نے مسلمانوں کو چرچ میں نماز ادا کرنے کی پیش کش کر دی ۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن فوراََ جائے ورادات پر پہنچیں اور براہِ راست متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جو الفاظ کہے وہ بھی قابلِ غور ہیں ’’ ہمیں اس لیے نشانہ نہیں بنایا گیا کہ نیوزی لینڈ نفر ت پسندی کا حامل ملک ہے بلکہ ہم اس لیے نشانہ بنے کیونکہ ہم اس کے برعکس نفرت پسندی سے پاک ہیں ۔ نفرت پسندی کا نشانہ بننے والے ہم میں سے ہیں کیونکہ انہوں نے نیوزی لینڈ کو اپنا نیا گھر بنایا اور جس نے نفرت پسندی کامظاہرہ کیا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے کیونکہ اس نے ہماری روایات کو نشانہ بنایا ہے وہ صرف دہشت گرد ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں‘‘
آسٹریلیا میں بھی حکومت اور عوام نے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔امریکہ، برطانیہ،فرانس اور دیگر ممالک نے اس وحشیانہ عمل کی بھرپور مذمّت کی ہے ۔ مسلم ممالک نے جہاں اس بربریت کی مذّمت کی ہے وہاں مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے مسلم فوبیا پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اس موقع پر ترکی کے صدر طیب اردگان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا بیان بین الاقوامی میڈیا میں نہایت نمایاں ہے ۔ دونوں لیڈروں نے یورپین ممالک میں بڑھتی ہوئی مسلم فوبیا پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
مسلمانوں کی یہ تشویش بے جا نہیں ہے کیونکہ جہاں مغربی ممالک کے عوام اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت نفرت سے پاک سیاست پر یقین رکھتی ہے وہاں بھارت کے مودی کی طرح کچھ کالی بھیڑیں نفرت کی سیاست کے بل بوتے پر زندہ ہیں ۔جیسے آسٹریلیا کی و ن نیشن پارٹی جو پولین ہینسن نامی خاتون نے وائٹ آسٹریلین پالیسی پر عمل درآمد کی غرض سے بنائی ہے۔ اگرچہ اس پارٹی کو کبھی بھی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی پھر بھی وہ عوام کے ایک خاص طبقے کو متاثر ضرور کرتی ہے۔ اسی سوچ کے حامل ایک آسٹریلین سینیٹر فریزر ائنگ نے نیوزی لینڈ کے سانحہ کو جوازدینے کی کوشش کی تھی جس کا مجموعی طور پر کیمونٹی نے اِنتہائی برا منایا ۔ حتٰی کہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک نوجوان نے اس کے سر پرا نڈہ پھو ڑ دیا ۔
یہ نفرت اور تعصب کچھ ملکوں میں زیادہ ہے اور کچھ میں کم ،لیکن صحافت اور سیاست کے کچھ منفی عناصر کی وجہ سے بہرحال زندہ ہے۔ ایسی صحافت اور ایسی سیاست شروع تو آسانی سے ہوتی ہے لیکن اس کے انجام اور اس کے نتائج پر کنٹرول بہت مشکل ہوتا ہے ۔ محبت اور رواداری کے پودے کو پروان چڑھانے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے جسے نفرت کی ایک آندھی پل بھر میں زمین بوس کر سکتی ہے۔اتنے بڑے سانحہ کے بعد مغربی دنیا خصوصاََ یہاں کے میڈیا کو سمجھ لینا چائیے کہ دہشت کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ملک۔دہشت گردی کسی بھی مذہب، ملک، رنگ اور نسل میں جنم لے سکتی ہے اس لیے ہدفِ تنقید دہشت گردی ہونی چائیے نہ کہ کوئی مخصوص مذہب یا ملک ۔ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے پوری دنیا کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔