افغانستان کا وزیراعظم عمران خان کے بیان پر احتجاج، سفیر واپس بلالیا
- بدھ 27 / مارچ / 2019
- 7590
وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کابل میں نگراں حکومت تشکیل دینے کی تجویز کو افغانستان نے ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے ڈپٹی سفیر کو وزیر اعظم کے ’غیر ذمہ دارانہ‘ بیان پر بحث کے لیے وزارت امور خارجہ میں طلب کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے بیان سے پاکستان کی مداخلتی پالیسی ثابت ہوتی ہے اور یہ افغانستان کی خودمختاری پر حملہ ہے‘۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغان حکومت امن مرحلے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور ان کا طالبان سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے افغان حکومت کے اعتراضات کے پیش نظر طالبان رہنماؤں سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ افغانستان میں نگراں حکومت کے قیام سے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں مزید بہتری آئے گی کیونکہ طالبان نے موجودہ حکومت سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
امریکہ اور طالبان حکومت میں 17 سال تک جاری جنگ کے بعد مذاکرات ہورہے ہیں تاہم طالبان نے اشرف غنی کی قیادت میں افغان حکومت کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اشرف غنی کی حکومت کی مدت مئی میں ختم ہورہی ہے اور ان پر اگلے صدارتی انتخابات سے قبل عہدہ چھوڑنے کا دباؤ ہے۔ اشرف غنی نے نگراں حکومت کے قیام کے مطالبہ کو مسترد کیا ہے۔
افغانستان میں نئے صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو متوقع ہیں۔