نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوگئےمسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کا جشن
- بدھ 27 / مارچ / 2019
- 6730
سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ عدالت عظمی نے انہیں چھے ہفتے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سابق وزیر اعظم نوازشریف کے استقبال کے لیے لاہور میں کوٹ لکھپت جیل کے باہر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی جہاں کارکنان نواز شریف کے حق میں نعرے لگا رہے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال رہے تھے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے اور نواز شریف کے ہمراہ جاتی امرا روانہ ہوئے جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ضمانی مچلکے جمع کرانے اور سپریم کورٹ سے جاری روبکار لاہور پہنچانے تک نواز شریف کی رہائی طوالت اختیار کر گئی تاہم روبکار موصول ہوتے ہی انہیں رہا کر دیا گیا۔ روبکار کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا تھا کہ عدالتی روبکار کو قانونی طریقہ کار کے مطابق لاہور بھجوائی گئی تھی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا کو 6 ہفتوں کے لیے معطل کرتے ہوئے ان کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔ تاہم وہ اس مقررہ میعاد کے دوران بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پارٹی قائد نواز شریف کی ضمانت کے ساتھ ہی موجودہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے 2 درجن چمچوں کا جھوٹ قوم کے سامنے آگیا ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور ہونے کے بعد حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود نواز شریف کو عدالت نے علاج کے لیے ریلیف دیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اور ہمیں عدالت سے اسی کی توقع تھی۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے جس کم ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے آج تک اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیراعظم اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کسی سیاسی لیڈر کی صحت کو طنز کا نشانہ بنائے تو میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟
انہوں نے مزید کہا کہ آج یہ بات ریکارڈ پر آگئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک تاثر پیش کیا جارہا تھا کہ نواز شریف اپنا علاج کروانے سے انکار کر رہے ہیں، تاہم اب یہ ریکارڈ پر آچکا ہے کہ نواز شریف نے کبھی بھی طبی امداد سے انکار نہیں کیا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو دل کی گہرایوں سے سراہتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ نواز شریف گھر آئیں گے تو ان کے علاج معالجے کا انتظام کریں گے۔
جب صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آج مسلم لیگ (ن) کے لیے 2 اچھی خبریں ہیں جن میں ایک آپ کا نام ای سی ایل سے نکالنا جبکہ دوسری نواز شریف کی ضمانت ہے جس پر شہباز شریف نے کہا کہ آج کی بڑی خبر نواز شریف کی ضمانت ہے۔
نواز شریف کو سپریم کورٹ سے 6 ہفتوں کی ضمانت ملنے کے بعد مریم نواز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں عدالت کے اس فیصلے پر خوشی ہے، تاہم ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ ملنے پر وہ نا خوش ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زاہد خان نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔