ایران پاکستان کی سرحد پر گولے کیوں برساتا ہے؟

  • بدھ 27 / مارچ / 2019
  • 7180

ایرانی فورس رات کو بڑے بڑے گولے مارتی ہے جس کی وجہ سے بچے سوتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ تالاپ گاؤں کے رہائشی قیوم نے یہ بات بتانے ساتھ ٹوٹی پھوٹی اردو میں مجھے متنبہ کیا کہ اگر سورج غروب ہونے کے بعد میں یہاں آتا تو ہماری گاڑی پر بھی گولیاں برسائی جاتیں۔

تالاپ ایران سرحد پر واقع پاکستان کا گاؤں ہے جہاں سے صرف نصف کلومیٹر دور ایرانی سرحد موجود ہے، اس گاؤں کے ایک طرف ایرانی چوکی ہے تو عقب میں پاکستان کے ایف سی کا قلعہ واقع ہے جبکہ ساتھ میں ہی لیویز کا تھانہ ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف میں سنی بلوچ آبادی موجود ہے۔

قیوم کے پاس پانچ کلو گھی کے خالی ڈبے میں ان راکٹوں کے ٹکڑے موجود ہیں جو ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے فائر کیے گئے ہیں جبکہ ان کی دکان کے دروازے کا رخ بھی سرحد کی طرف ہے۔ انھوں نے مٹی سے بنے ہوئے دکان کی دیواریں بھی دکھائیں اور بعض سوراخوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گولیوں کے نشانات ہیں۔

قیوم نے بتایا کہ انھوں نے اس شیلنگ اور فائرنگ کی شکایت ایف سی کو کی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، اسلام آباد رابطہ کرو‘ جس کے بعد انھوں نے اپنے رکن صوبائی اسمبلی عارف جان کو بھی شکایت کی تھی انھوں نے کہا کہ بات کرتا ہوں لیکن ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی۔

تالاب تافتان سے تقریبا 40 کلومیٹر دور ضلع چاغی کا گاؤں ہے، پاکستان اور ایران بارڈر 904 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں بلوچستان کے چاغی کے علاوہ واشک، پنجگور، کیچ، تربت اور گودار اضلاع شامل ہیں۔

نجیب اللہ مقامی زمیندار ہیں انھوں نے ہمیں راکٹ کے دو ٹکڑے دکھائی جو ان کے ٹیوب ویل کے قریب گرے تھے، انہوں نے بتایا کہ اگر یہ ٹیوب ویل کو لگ جاتے تو معاشی نقصان ہوتا اگر کسی بندے کو لگ جاتا تو جانی نقصان ہوتا۔ بقول ان کے ایسی مشکل سے ہی کوئی رات ہوگی جب اس طرح سے فائرنگ نہ ہو یا گولہ نہ مارا جاتا ہو۔

تافتان سے لے کر تالاب تک آس پاس کے گاؤں میں بچے کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں جبکہ تالاب میں ڈر و خوف محسوس کیا جاسکتا ہے، یہاں جیسے ہی جیسے سورج غروب ہوتا ہے لوگ گھروں میں بند ہوجاتے ہیں۔

گاؤں کی آبادی ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل تھی لیکن نصف درجن کے قریب گھرانے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ یہاں ایک سرکاری سکول بھی واقع ہے لیکن بند رہتا ہے جبکہ بچے مدرسے میں پڑھتے ہیں۔

نجیب اللہ مقامی زمیندار ہیں انھوں نے ہمیں راکٹ کے دو ٹکڑے دکھائی جو ان کے ٹیوب ویل کے قریب گرے تھے، انہوں نے بتایا کہ اگر یہ ٹیوب ویل کو لگ جاتے تو معاشی نقصان ہوتا اگر کسی بندے کو لگ جاتا تو جانی نقصان ہوتا۔ بقول ان کے ایسی مشکل سے ہی کوئی رات ہوگی جب اس طرح سے فائرنگ نہ ہو یا گولہ نہ مارا جاتا ہو۔

تافتان سے لے کر تالاب تک آس پاس کے گاؤں میں بچے کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں جبکہ تالاب میں ڈر و خوف محسوس کیا جاسکتا ہے، یہاں جیسے ہی جیسے سورج غروب ہوتا ہے لوگ گھروں میں بند ہوجاتے ہیں۔

گاؤں کی آبادی ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل تھی لیکن نصف درجن کے قریب گھرانے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ یہاں ایک سرکاری سکول بھی واقع ہے لیکن بند رہتا ہے جبکہ بچے مدرسے میں پڑھتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر چاغی فتح خان خجک فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ تالاپ کے ساتھ ہوشاب میں بھی فائرنگ ہوئی تھی جس پر انھوں نے ایرانی حکام سے احتجاج کیا تھا جس کے بعد یہ طے ہوا تھا کہ اگر آئندہ ایسی خلاف ورزی ہوگی تو میر جاوا ( ایران کا ضلعہ) کے افسر اور یہاں سے وہ ساتھ موقعے پر جائیں گے۔

’افغانستان سے منشیات کے اسمگلر یہاں سے ہوکر ایران میں داخل ہوتے ہیں گو کہ ہماری طرف سے بھی گشت ہوتا ہے ایف سی ہے لیویز ہے لیکن انہیں جہاں شک پڑتا ہے تو وہ فائرنگ کرتے ہے۔ ہم نے انہیں کہا ہے کہ ہمیں آگاہ کریں ہم نکلیں گے ایسا نہ ہو کہ مقامی آبادی کو نقصان پہنچے۔‘

ایران اور پاکستان میں مختلف تین سطح پر بارڈر کمیٹیاں موجود ہیں جن میں مقامی اسٹنٹ کمشنر سے لے کر چیف سیکریٹری سطح کی کمیٹی شامل ہے جس میں ایف سی اور کوسٹ گارڈز بھی شامل ہیں۔

گذشتہ سال ایران کی طرف سے آنے والے گولوں اور فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے جس کی خبریں مقامی میڈیا میں شایع ہوئیں تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

رواں سال ماہ فروری ایک کار دھماکے میں پاسداران انقلاب کے 27 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پاسداران انقلاب نے حکومت پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنی طرف شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں ورنہ بین الاقوامی قانون کے تحت وہ کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔

ایران کا الزام ہے کہ جیش العدل نے پاکستان میں پناہ گاہ لے رکھی ہے جبکہ پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے لیکن ایران میں حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تقلقات میں کشیدگی کو سرحدی علاقے میں رہنے والے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔