بیوی پر تشدد کے الزام میں شوہر اور ملازم گرفتار

  • جمعرات 28 / مارچ / 2019
  • 6840

لاہور میں رقص سے انکار پر بیوی کا سر مونڈ کر اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے شخص اور اس کے ملازم کو 4روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔

اسما عزیز نامی خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے شوہر نے اپنے 2 ملازمین کے سامنے انہیں برہنہ کیا اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا۔

24 اور 25 مارچ کی درمیانی شب کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا۔

بیوی پر تشد اور اس کےبال کاٹنے والے شوہر کو جمعرات کو ماڈل کچہری میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنی بیوی کے بال کاٹنے اور سر  شیو کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شاہد ضیا نے کیس کی سماعت کی جس کے دوران پراسیکیوٹر محمد عمران عارف نے پولیس رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں خاتون کے بال اور وہ مشین ابھی برآمد کرنی ہے جس سے ان کا سر شیو کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ ڈنڈا بھی برآمد کرنا ہے جس سے متاثرہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے کہا کہ گرفتار ملزمان میں میاں فیصل اور راشد علی شامل ہیں اور دونوں ملزمان سے تفتیش اور اشیا کی برآمدگی کے لیے 10روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم عدالت نے چار روزہ ریمانڈ پر ملزمان کو پولیس کے حوالے کردیا۔

واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ کاہنہ میں متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوہر نے رقص سے انکار پر اپنے ملازمین کے ساتھ مل کر اسے برہنہ کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

انسپکٹر جنرل  پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کا حکم دیا تھا جس کے بعد 26 مارچ کو اس کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے کہا ہے کہ فیصل سے اس کی 4سال قبل پسند کی شادی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر نشے کا عادی ہے جو شادی کے ابتدائی 6 ماہ تک ٹھیک رہا لیکن اس کے بعد سے دونوں کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے۔