نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد: ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ

  • جمعہ 29 / مارچ / 2019
  • 7040

قومی سلامتی کمیٹی برائے داخلہ امور نے انسدادِ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان  پر علمدرآمد اور اداروں کے درمیان روابط آسان بنانے کے لیے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں این آئی ایس سی کا اجلاس ہوا جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس  کے ڈائریکٹر جنرل  لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر، ڈی جی انٹیلی جنس بیورو ،  وفاقی سیکریٹریز اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ وزیراعظم کی کابینہ سے وزارتِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیرِ خزانہ اسد عمر اور وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے شرکا سے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان حکومت کی اولین ترجیح ہے جو قوم کی خواہش ظاہر کرتی ہے جبکہ اس پر تمام سیاسی جماعتیں بھی متفق ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔  پاکستان کسی بھی عسکریت پسند گروہ کو اس کی سرزمین، دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

وزیرِ خزانہ اسد عمر نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا پیسیفک گروپ  کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں شرکا کو بریف کیا۔  سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت سائبر سیکیورٹی، منی لانڈرنگ، مدارس کی اصلاحات سمیت دیگر مسائل پر شرکا کو بتایا۔

وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت متعلقہ اداروں اور محکموں کے درمیان روابط کو یقینی بنانے پر وزارت داخلہ کی تعریف کی۔  اجلاس کے دوران شرکا نے این اے پی کے تمام امور کو دیکھنے، عملدرآمد اور روابط کو آسان بنانے کے لیے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

نیشنل ایکشن پلان میں ملک بھر سے دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرنا، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر وفاقی اور صوبائی حکومت کی سیکیورٹی کی کوششوں کو تیز کرنا، دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا اور ریاستی سیکیورٹی کو درپیش اندرونی خطرات پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو دستیاب وسائل اور صلاحیت کو استعمال کرنا شامل ہے۔