امریکہ مسعود اظہر کے معاملے پر ہوشمندی سے کام لے: چین

  • جمعہ 29 / مارچ / 2019
  • 6500

چین نے کہا ہے کہ امریکہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ کمیٹی کو نظرانداز کرنے پر محتاط رویہ اختیار کرے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ ’امریکہ کے یک طرفہ ردعمل سے مسائل مزید پیچیدہ ہوجائیں گے‘۔  واضح رہے کہ چین کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب امریکہ نے پابندی کمیٹی 1267 کو نظر انداز کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے ارکان میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق قرارداد کا مسودہ تقسیم کیا ہے۔

بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ ژوانگ نے کہا کہ ’امریکہ کے اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مرکزی کمیٹی برائے انسداد دہشت گردی کے اختیارات کو اہمیت نہیں دیتا۔ ایسے اقدامات سے امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا اور اس کے ردعمل میں مسائل پیچیدہ ہوجائیں گے‘۔

ترجمان نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ’عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زبردستی قرارداد کو منظور کروانے کی کوششیں ترک کردے۔  چینی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کا کہنا تھا کہ جیش محمد کے سربراہ کو دہشتگرد قرار دینے میں متعدد پیچیدہ عوامل شامل ہیں تاہم چین مذاکرات اور اتفاق رائے کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔

14 مارچ کو چین نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

چین اس سے قبل 3 مرتبہ عالمی طاقتوں کی اسی کوشش کو ناکام بنا چکا ہے۔

سلامتی کونسل میں امریکہ، فرانس، اور برطانیہ کی جانب سے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے قرارداد 27 فروری کو پیش کی گئی تھی لیکن بیجنگ نے اس کو ناکام بنا دیا تھا۔

قرارداد کو ناکام بنانے کے بعد بریفنگ میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کی حکومت سیکیورٹی کونسل میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی رہے گی۔