آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر تک کا امدادی پیکیج ملنے کا امکان ہے: وزیر خزانہ
- جمعہ 29 / مارچ / 2019
- 6850
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ سے 6 سے 12 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکج مئی کے وسط تک حاصل ہوجائے گا۔
آئی ایم ایف عہدیداروں سے بات چیت کے بعد ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ فنڈ سے پیکیج حاصل کرنے کے لیے اپریل کے آخر یا مئی کے پہلے ہفتے میں سمجھوتہ طے پاجائے گا اور 6 سے 12 ارب ڈالر تک کا پیکج ملنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اختلافات گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بڑی حد تک کم ہوچکے ہیں اور اب ہم سمجھوتے کی طرف گامزن ہیں۔
واضح رہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت میں روپے کے ایکسچینج ریٹ کا معاملہ ایک پیچیدہ معاملہ تھا، جس کی قدر میں 2017 سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں 33 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی اصولی اختلاف نہیں، ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کی روشنی میں طے ہونا چاہیے۔ لہٰـذا اس پر کس طرح عملدرآمد ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے جائیں، اس پر بھی بات چیت کی گئی جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔
اس بارے میں ایک تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کچھ اقدامات کی تجویز دی ہے جس میں روپے کا آزادانہ بہاؤ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں کرنسی کے قدر میں مزید کمی ہوگی اور محمکہ جاتی تبدیلیاں مثلاً ٹیکس کے دائرہ میں توسیع کرنا بھی شامل ہے۔
حکومت کو ادائیگیوں کے توازن میں شدید بحران کا سامنا ہے جس کے باعث کچھ تجزیہ کاروں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ کیا حکومت قرضوں کی ادائیگی کر پائے گی کیوں کہ پاکستان کو پاک چین اقتصای راہداری کے قرضوں کی مد میں حاصل ہونے ولے 62 ارب ڈالر کی ادائیگی چین کو بھی کرنی ہے۔
تاہم وزیرخزانہ نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ چینی قرضہ ملک کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں قرض کے سنگین مسائل کا سامنا ہے لیکن چینی قرض سے کوئی مسئلہ نہیں‘۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنےایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ آخری موقع ہوگا جب پاکستان آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک دوراہے پر کھڑا ہے، ہم اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتے جس طرح برسوں سے ملک میں حکومتی نظام جاری ہے۔ ہمیں اصلاحات کرنی ہوں گی، اپنا بجٹ متوازن کرنا ہوگا، ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہوگا۔