پاکستان سے غربت کا خاتمہ کیسے ہوگا؟
- جمعہ 29 / مارچ / 2019
- 10560
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے غربت مٹاؤ پروگرام ’احساس‘ کا آغاز کردیا ہے۔ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے پروگرام میں 80 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے اور نئی وزارت قائم کی جا رہی ہے جو اس پروگرام کے لیے ملک بھر میں کام کرے گی۔
نومبر 2018 میں ورلڈ بینک کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2001 میں پاکستان میں غربت کی شرح 60 فیصد تھی جو 2014 میں کم ہو کر 30 فیصد رہ گئی۔
غربت میں سب سے زیادہ کمی صوبہ خیبر پختونخوا میں دیکھی گئی جبکہ ملک کا سب سے غریب ترین صوبہ بلوچستان ہی رہا۔ اس رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح زیادہ ہے۔
ماہر معاشیات قیصر بنگالی کا کہنا ہے ’اگر ورلڈ بینک کے معیار (دو ڈالر فی دن آمدن) کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو پاکستان کی تقریبًا 60-70 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں حکومت نے غربت کے اعداد و شمار بتانے میں خاصی ہیرا پھیری کی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 17 فیصد ہے جس پر یقین کرنا ممکن نہیں۔
ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ غربت کوئی شعبہ نہیں ہے جس کو کوئی ادارہ بنا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں چند ایک زمیندار ہیں جن کے پاس لاکھوں ایکڑ زمین ہے اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جن کے پاس ایک گز زمین بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک سے غربت ختم کرنے کے لیے اس تضاد کو ختم کرنا ہوگا۔
قیصر بنگالی کا مزید کہنا ہے کہ غربت کا خاتمہ صرف پیسے بانٹنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے اور یہ صرف زیادہ سے زیادہ کارخانے لگانے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے علاوہ حکومت کو زمین کی تقسیم اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات بھی کرنا ہوں گی۔
یونیورسٹی کالج لندن میں شعبہ تدریس سے وابستہ ڈاکٹر عمارہ مقصود کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں جنگ کے باوجود تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی گئی اور عوام کو بلاامتیاز یہ بنیادی سہولیات فراہم کر کے غربت کا خاتمہ کیا گیا۔
لمز یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عثمان خان کے مطابق ’احساس‘ کا سب سے نمایاں پہلو آئین کے آرٹیکل 38-D میں تبدیلی لانا ہے۔ یہ ایک پالیسی ہے جس میں تبدیلی لا کر اسے بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جس سے عوام کو خوراک اور رہائش کی بنیادی سہولیات مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا اورایسا نہ کرنے کی صورت میں حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عمارہ مقصود کے مطابق حکومت کی جانب سے خوراک اور رہائش کے معاملے پر آئینی ترمیم اور سماجی تحفظ کے جاری پروگراموں کو دوبارہ ترتیب دینا ایک احسن اقدام ہے اور یہ ہی اس کو سابقہ حکومتوں کے منصوبوں سے مختلف بناتا ہے۔ ڈاکٹر عمارہ مقصود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کبھی کسی حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے تسلسل سے سیاسی آمادگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے باتیں بہت کی گئی ہیں تاہم پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لائی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ اس وقت ہی ممکن ہے جب عوام کو رہائش فراہم کرنے اور زمین کے حصول کی حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کر کے بھی غربت کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
عثمان خان نے موجودہ حکومت کے اس پروگرام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملک کو غربت کے شکنجے سے نکالنے کے لیے اس طرح کے منصوبوں پر مناسب طریقے سے عمل درآمد کی ضرورت ہے اور اس کی بدولت ہی ملکی معیشیت میں بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر26 فیصد گھرانے غربت کا شکار ہیں۔ جبکہ شمالی اور مرکزی پنجاب میں یہ تناسب 18 فیصد جبکہ جنوبی پنجاب میں 50 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کہ لیے حکومت کو سب سے پہلے مستحق افراد کی نشاندہی کر کے ان کے لے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ پاکستان کے مستحکم ترقیاتی اہداف میں 2030 تک ملک میں غربت کی موجودہ صورتحال کو نصف سطح تک لانا شامل ہے جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
ماضی میں بھی پاکستان کی مختلف حکومتوں نے ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے بیت المال اور زکوٰۃ جیسے منصوبوں کا آغاز کیا تھا۔ قیصر بنگالی کے مطابق ان پروگرامز میں سب سے قابل ذکر اور وسیع قومی منصوبہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جس کے ذریعے 60 سے ستر لاکھ غریب خاندانوں کی مالی مدد کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ فارمولے اور کمپیوٹرائز ذریعے سے مستحق خواتین میں رقم تقسیم کی جاتی ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)