ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کے آثار اور غریبوں کے لئے بے چین عمران خان
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 29 / مارچ / 2019
- 6900
لگتا ہے تحریک انصاف کی حکومت کا ہنی مون پیریڈ اب پورا ہو چکا ہے ۔ دو روز پہلے سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو طبی بنیاد پر چھے ہفتے کی ضمانت ملنے کے بعد ایسی خبروں، تبصروں اور تجزیوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ یوں لگنے لگا ہے کہ موجودہ حکومت کے چل چلاؤ کا وقت قریب آگیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس تاثر کو قوی کرنے میں وہ تمام صحافی، اینکر اور رائے سازی کرنے والے عناصر پوری تندہی سے کردار ادا کررہے ہیں جنہیں اصولی طور پر ملک میں جمہوری رویوں اور نظام کے استحکام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔
پاکستانی سیاست کا یہ افسوسناک پہلو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ جمہوریت یا آزادی رائے کے لئے اصولی بات کرنے سے گریز کی کیفیت دیکھنے میں آتی ہے۔ اس بات کو براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور سے تسلیم کرلیا گیا ہے کہ حکومت کرنا اور پالیسی سازی ، ان طاقت ور عناصر کا حق ہے جو غیر منتخب اداروں سے تعلق کی بنا پر نام نہاد اسٹبلشمنٹ کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم ملک کی 70 سالہ تاریخ میں جمہوریت سے گریز، عوامی حق رائے کو مسترد کرنے اور آئین کو پامال کرنے کی داستان خواہ کتنی ہی بھیانک ہو لیکن تبصروں کی رنگینی ، بیانات کی شدت اور اور جائزوں کے حصار میں الزامات کا طوق بہر حال سیاست دانوں کے گلے کا ہار ہی بنتا ہے۔ ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے خواہ کوئی بھی ہوں ، ان کے بارے میں شناسائی رکھنے کے باوجود، اگر، مگر، لیکن، کیوں، کیسے ، جیسے لاحقے استعمال کرتے ہوئے ہر بیان اور تبصرہ بالآخر سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
یہ ماننے کے باوجود کہ اس ملک میں سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کی جد و جہد جمہوریت کی ترویج کی بجائے اقتدار کے حصول کی دوڑ سے عبارت رہی ہے، لیکن ملک میں اگر جمہوریت کا نام باقی ہے اور اس کے لئے کوششیں دیکھنے میں آتی ہیں تو اس کا کریڈٹ بھی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کو ہی دینا پڑے گا۔ اسی طرح ملک میں اگر چہ آزادی رائے اور میڈیا کی غیر جانبداری کو محدود کرنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں اور خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا کو سرکاری ترجمان میں تبدیل کرلیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں رائے کی آزادی، صحافت کی خودمختاری، خبر کی صداقت اور تبصرے کی اصابت کے لئے ہونے والی کوششیں بھی اسی لئے ممکن ہوئی ہیں کہ آزادی صحافت کے لئے ہر دور میں قربانیاں دینے والے صحافی اور ان کے لیڈر موجود رہے ہیں۔ انہیں بہرطور خراج تحسین پیش کرنا پڑے گا۔
اسی طرح ان صحافیوں کی بہادری اور عظمت کو سلام بھی کرنا ہوگا جو لالچ و تحریص کے باوجود اپنے پیشہ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرنے پر تیار نہیں ہوتے خواہ اس کے لئے انہیں اپنے خاندان کی معاشی بدحالی کو قبول کرنا پڑا اور اپنے ہی ساتھیوں سے گھمنڈی اور عاقبت نااندیش کے طعنے سننے پڑے۔ ان ہی لوگوں کے دم قدم سے ملک میں اب بھی آزادی رائے کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کرنے کا چلن موجود ہے ۔ سیاسی عمل کے ذریعے ملک کا انتظام چلانے کی بری بھلی صورت بھی اسی لئے دکھائی دیتی ہے کہ اس ملک میں سیاست دان تمام تر ناموافق حالات کے باوجود جمہوریت ہی کو واحد قابل عمل اور قابل قبول نظام قرار دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لئے متعدد عوامل کارفرما رہے ہیں ۔ ان میں درپردہ قوتوں کی سابقہ حکمران جماعتوں سے مایوسی اور عوام میں عمران خان کو ’آؤٹ سائیڈر‘ کے طور دیانت دار سیاست دان سمجھتے ہوئے ایک موقع دینے کے نعرے کی مقبولیت کا بھی کردار رہا ہے۔ جولائی 2018 میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ عام لوگوں کو بھی تحفظات رہے ہیں۔ خاص طور سے جس طرح طاقت ور سیاسی گھرانے آخری ہفتوں یا مہینوں میں تحریک انصاف کا حصہ بنے اور انتخاب کے بعد مرکز کے علاوہ پنجاب میں اسے اقلیتی جماعت سے اکثریتی پارٹی بنانے والے ’آزاد ارکان‘ نے جوق در جوق جس طرح عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ، اس سے عمران خان کی سیاست، منشور، قیادت اور اہلیت سے زیادہ، ان کے لئے ’ قبولیت ‘ کا عمل دخل تھا۔ یہ کھیل چونکہ پاکستان میں تواتر سے کھیلا جاتا رہا ہے اور سیاست میں پاکستانی شہریوں کو گہری دلچسپی بھی رہتی ہے، اس لئے ہر کس و ناکس کو اس بات کا اندازہ ہے کہ گزشتہ برس ہونے والے انتخابات کے بعد جو جمہوری انتظام معرض وجود میں آیا ہے ، وہ نیم جمہوری ہے اور فیصلوں کے لئے پارلیمنٹ سے زیادہ درپردہ مفاہمت و مواصلت پر انحصار کیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف کو انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے اور وہ قابل ذکر تعداد میں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یہ بات فراموش کرنا بھی جمہوریت سے گریز ہوگا کہ اس انتظام میں کسی بھی قسم کا خلل جمہوریت کو زیر دست رکھنے والی قوتوں کی کامیابی ہوگی۔ ملک میں ایسے سیاست دان موجود ہیں جو اس چور راستے سے موجودہ پارلیمنٹ میں ’ان ہاؤس‘ تبدیلی کے ذریعے اقتدار میں آنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ خالص سیاسی و جمہوری بنیاد پر فیصلوں کی وجہ سے ایسی تبدیلی جمہوری روایت کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں اس قسم کی تبدیلی کے لئے غیر منتخب طاقتوں کی اشیر واد پر تکیہ کیا جاتا ہے اور ان ہی کے تعاون کسی حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش و امید کی جاتی ہے۔ ایسا عمل کبھی بھی جمہوریت کے استحکام کا سبب نہیں بن سکتا جس میں غیر جمہوری قوتوں کے کردار کو تسلیم کیا جارہا ہو ۔
اس پس منظر میں موجودہ سیاسی صورت حال پر غور سے پہلے یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ہوگی کہ ملک کے سیاست دانوں کی خود پسندی، کرپشن، بد انتظامی اور سیاسی غلطیوں پر تو دفتر سیاہ کئے جاتے ہیں لیکن ملک میں کسی آئینی اختیارکے بغیر حکومت کرنے والی عسکری قوت کی غلطیوں اور سیاست میں مداخلت کے بارے میں سرسری بات کرکے اور اس کا ملبہ بھی سیاست دانوں کے سر ڈال کر آگے بڑھنے کا چلن عام رہا ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرز عمل کو منصفانہ نہیں کہا جاسکتا۔ خاص طور سے مخالف سیاست دانو ں کی کردار کشی کی بنیاد پر سیاست کرنے والے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں تیس پینتیس برس لولے لنگڑے جمہوری انتظام کے تحت حکومت کرنے والے سیاست دان اگر قومی دولت لوٹ کر ذاتی خزانے بھر چکے ہیں تو باقی ماندہ مدت میں ملک پر مطلق العان حکومت کرنے والے فوجی لیڈروں کی لوٹ مار کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی۔
ملک کے قیام کے ساتھ ہی جمہوریت کے خلاف ساشوں کا حصہ بننے والے اور بعد میں آئین پامال کرکے فوجی حکمران کے طور پر دس برس تک حکمرانی کرنے والے ایوب خان کے دور حکومت کو تو عمران خان ’پاکستان کا سنہرا دور‘ قرار دینے میں حجاب محسوس نہیں کرتے۔ اسی مزاج کا شاخسانہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے 9 ماہ بھی پورے نہیں ہوئے کہ اس حکومت کی ناکامیوں اور غلطیوں کے قصے عام کئے جارہے ہیں۔ اس قسم کی رائے کو زبان خلق کا درجہ دلانے کی کوشش کرنے والے لوگ ’بدعنوان سیاسی لیڈروں‘ کے تنخواہ دار نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی زبانوں کے نشتر کسی دوسرے سان پر تیز ہوتے ہیں۔
یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو جمہوری مباحث میں توازن قائم کیاجاسکتا ہے اور سیاسی قوتیں اور مبصر سیاست دانوں کو تختہ مشق بنانے کے علاوہ ، اصل خطرات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن تحریک انصاف کے خلاف کسی سیاسی مہم جوئی کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملکی سیاست میں خفیہ قوتوں کو حرف آخر سمجھنے کے مزاج کے تحت یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اسٹبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر حکومت مخالف مہم نہیں چلا سکتی۔ میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے بعد اب یہ چہ میگوئیاں عام ہو رہی ہیں کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور اس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے بعض پرجوش اس سال کے آخر تک عمران خان کی جگہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوانا چاہتے ہیں اور ’مصلحت پسند‘ عمران خان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرکے سول ملٹری تعاون کے ہنی مون کو جاری رکھنے کا اہتمام کریں ۔ اس طرح تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج بھی آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہے گا۔
البتہ ملک کے سیاسی منظر نامہ کو سمجھنے کے لئے صرف خفیہ ہاتھوں اور اشاروں کو حتمی قرار دینے کے علاوہ دیگر عوامل پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ ان میں ملک کے انتہا پسندوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کا عالمی سطح پر اعتبار، معیشت میں ہیجان کی کیفیت کا خاتمہ اور سیاسی مکالمے میں الزام تراشی کی بجائے افہام و تفہیم کی ضرورت ، قابل ذکر پہلو ہیں۔ وزیر اعظم بدستور ان پہلوؤں سے اجتناب کرتے ہوئے صرف دو باتوں پر توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں ۔ ایک یہ کہ سیاسی مخالفین کی کردار کشی جاری رہے تاکہ تحریک انصاف کا نئے پاکستان کا مقبول نعرہ بکتا رہے۔ دوسرے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا جائے جنہیں عمران خان کو ’غریبوں کا ہمدرد لیڈر‘ ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکے تاکہ ان کی مقبولیت کا گراف بدستور اونچا رہے۔
گزشتہ روز وزیر اعظم نے غربت کے خلاف ’احساس‘ کے نام سے جس مالی اور انتظامی منصوبہ کا اعلان کیاہے ، وہ بھی انہی سیاسی کوششوں کا حصہ ہے۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ غربت کا خاتمہ خیرات بانٹنے سے ممکن نہیں ہے بلکہ ایسے انتظام کو تو غریبوں کو غریب رکھنے کا منصوبہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ملک میں غربت، سماجی علتوں کو ختم کرنے، معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور قومی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے ہی ختم ہوسکتی ہے۔ مالی امداد یا گھر بنا کر دینے کے منصوبوں کی بجائے نوجوانوں کو روزگار اور خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کے معاشی پروگرام شروع کرنا اہم ہوگا۔
پاکستان کی پیداواری صلاحیتیں، آبادی میں اضافے، غیر پیداواری اخراجات اور سماجی بے یقینی کی وجہ سے متاثر ہورہی ہیں۔ ان مشکلوں پر قابو پائے بغیر’ احساس ‘ کی کوئی قوت عام شہریوں کو ’ تحفظ‘ فراہم نہیں کرسکتی۔