صرف خوشخبری کافی نہیں!

  • تحریر
  • جمعہ 29 / مارچ / 2019
  • 8030

کسی کو دعا دینے میں کوتاہی کیسی لیکن یہ دعا ہی اپنے لئے تھی ، سو ہم نے فوراٌ ہاتھ اٹھا کر اور جی بھر کر لمبی دعا مانگی۔ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز بتایا کہ دو تین ہفتوں میں قوم کو ایک زبردست خوشخبری مل سکتی ہے، قوم دعا کرے۔ انہوں نے اس خوشخبری کے امکان کا تذکرہ چند ماہ قبل بھی کیا تھا جب اس امریکن آئل کمپنی نے دس سال کے بعد دوبارہ پاکستان میں آکر کھلے سمندر میں تیل کی تلاش کے کام کا آغاز کیا۔ یہ امریکن کمپنی ایک اور اٹالین کمپنی کے اشتراک کے ساتھ کراچی کے ساحل سے 230 کلو میٹر دور کھلے سمندر میں جنوری سے گہری کھدائی میں مصروف ہیں۔ گو ان کمپنیوں کی جانب سے تو کوئی ابتدائی ’ خوشخبری‘ نہیں آئی لیکن وزیر اعظم اب تک ملنے والی رپورٹس سے بہت پر امید ہیں۔
اپنے حصے کی دعا مانگنے میں ہم نے اس لئے بھی جلدی کی کہ تیل اور گیس کے ملنے یا نہ ملنے کے امکانات میں تلاش کا یہ مرحلہ فیصلہ کن ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پر امید ہیں کہ اگر یہ ذخائر حسبِ توقع نکلے تو پاکستان کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ بقول وزیر اعظم پاکستان اگلے پچاس سال تک تیل اور گیس کی ضروریات میں خود کفیل ہو جائے گا۔ کئی جلد باز احباب نے تو اس تلاش کو گیم چینجر قرا ر دے دیا۔پاکستان نے گزشتہ سال تیل کی درآمدات پر 14 ارب ڈالرز سے زائد صرف کئے۔ رواں مالی سال میں تیل کی قیمتوں میں عالمی اضافے کو بھی شامل کریں تو تیل کا درآمدی بل بیس ارب ڈالرز تک ہو سکتا ہے۔
ظاہر ہے اگر سارے جھنجھٹ سے گیس اور تیل کی دریافت کی وجہ سے جان چھوٹ جائے تو او رکیا چاہئے؟ کہاں یہ کہ دو دو تین تین ارب ڈالرز ادھار کے لئے وزیر اعظم مارے مارے پھرتے ہیں اور کہاں گھر بیٹھے بٹھائے بیس ارب ڈالرز سالانہ زرِ مبادلہ کی بچت۔ ہمارے دیرینہ دوست عبدل تو ابھی سے جذباتی ہو گئے ہیں اور پلان بنا بیٹھے ہیں کہ اِدھر گیس اور تیل کے یہ ذخائر دریافت ہوئے ادھر ہم نے آئی ایم ایف کو ’ جھنڈی ‘ کرا دینی ہے۔ بہت ہو گئی عزت اور منّت سماجت آئی ایم ایف کی!
اگلے چند ہفتے وزیر اعظم، قوم اور دونوں کمپنیاں انتظار کی ٹکٹکی پر اٹکے رہیں گے۔ ہم ٹھہرے سدا کے رجائیت پسند، ہمیں امید ہے کہ یہ ذخائر ضرور دریافت ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ تیل اور گیس کی دریافت کو قابل استعمال شکل میں لانے میں کچھ وقت اور کثیر سرمایہ تو درکار ہوگا لیکن منزل واضح ہو تو انتظار اور راہ میں رکاوٹوں سے نمٹنے کا حوصلہ بھی پیدا ہو ہی جاتا ہے۔ سو اسی جذبے کے تحت ہم اپنے حصے کی دعا کے بعد خوشخبری کے انتظار میں ہیں۔
اسی انتظار میں تھے کہ میڈیا پر وینزویلا کے بارے میں کچھ رپورٹس نظر سے گزریں، اشیاء کی قلت ، غربت اور کئی سالوں کی سیاسی رسہ کشی کے بعد خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔ امریکہ اپوزیشن لیڈر کو عوام کا اصل صدر قرار دے چکا ہے۔ کچھ یورپی ملکوں نے بھی اس کا ساتھ دیا لیکن دنیا کے باقی ممالک ابھی تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ اس دوران روس نے اپنے کچھ فوجی دستے وہاں پہنچا دیے ہیں تاکہ امریکہ بہادر سمیت دیگر ’ہلہ شیری‘ دینے والے ممالک کو خبر ہو کہ وینزویلا کے بھی ایک سپر پاور سے قریبی تعلقات ہیں، صدر ماڈورو کو تر نوالہ سمجھنے والے اب سوچ میں ہیں کہ روس کی افواج نے شام میں قدم رنجہ فرما کر امریکہ بہادر اور ان کے حواریوں کا بنا بنایا کھیل خراب کر دیا۔ ۔۔ سو، اب وینزویلا ہے اور بے رحم بے یقینی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا خونیں کھیل ہے۔ رہے عوام تو وہ روزمرہ کی اشیاء کو ترس رہے ہیں اور غربت کی چکی کے پاٹ ہیں کہ پھیلتے اور تیز تر ہوتے جا رہے ہیں۔
وینزویلا گو آبادی کے اعتبار سے بڑا ملک نہیں لیکن تیل پیدا کرنے والے دنیا بھر کے ممالک میں اس کا 10واں نمبر اور تیل برآمد کرنے والے ممالک میں اس کا 12واں نمبر ہے۔ اس کے باوجود اس کا اقوام متحدہ کے سالانہ ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس یعنی HDI میں 186 ممالک میں 78 واں نمبر ہے۔ اسی فہرست میں دو اور ممالک کا قصہ بھی دلچسپ اور حیرت انگیز ہے۔ نائیجیریا دنیا میں تیل کی پیداوار میں 12ویں اور تیل برآمد کرنے والے ممالک میں 8 ویں نمبر پر ہے لیکن HDI فہرست میں 157 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی ایک تہائی آبادی شدید غربت کا شکار ہے۔ افریقہ کا ایک ملک انگولا بھی تیل اور ہیروں کے وسائل سے مالامال ہے۔ تیل پیداوار کرنے والے ممالک میں اس کا 14واں اور تیل کے برآمدی ممالک میں ا س کا 9واں نمبر ہے۔ انگولا میں بھی ایک تہائی آبادی شدید غربت کا شکار ہے، HDI میں انگولا 149ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان اس فہرست میں اس کا ہمسایہ ہے یعنی 150 ویں نمبر پر۔
ان رپورٹس کے مطالعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی خواہش میں برابر کی شرکت کے باوجود البتہ چند نکات قابل غور سامنے آئے کہ صرف وسائل کی موجودگی سے عوام کے دلدر دور نہیں ہوتے۔ بلکہ انگولا اور افریقہ کے کچھ ممالک میں تو وسائل کی لوٹ مار کے لئے ان کے ہاں خانہ جنگی کی آگ لگا کر سالہاسال سے کئی یورپی ممالک ان وسائل کو سستے داموں ہتھیا کر اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ ان وسائل میں ہیرے، سونے سمیت قیمتی دھاتوں کی موجودگی، ان ملکوں کے لئے دردِ سر بن گئی۔ اس صورت حال کو معیشت دان resource curse کا نام دیتے ہیں یا وسائل کا عذاب۔بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قدرتی اور قیمتی وسائل کی دریافت اور موجودگی ایک نعمت ہے لیکن فقط اس کی موجودگی عوام کی خوشحالی اور آسودگی کے لئے کافی نہیں۔
اس تقابل کے علاوہ دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک میں گورننس کی شفافیت، وسائل کے استعمال میں Broad base یعنی عوام تک پھیلاؤ اور ترقی میں Inclusive اپروچ یعنی خوشحالی اور آسودگی کے لئے ان اسباب تک تمام طبقات کا تصرف ضروری ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں وافر قدرتی وسائل بالا دست طبقات کی لوٹ کھسوٹ کے تو کام خوب آتے ہیں لیکن عوام کے دن نہیں پھرتے۔ یورپی ممالک اور منی لانڈرنگ کے لئے محفوظ پناہ گاہوں میں ایسے ممالک کے اربوں ڈالرز کو پڑے پڑے پھپھوندی لگ جاتی ہے، بعض اوقات دولت لوٹ کر لے جانے والے خاندان خود بے گھر ہو جاتے ہیں لیکن یہ دولت اپنے ملک کے کسی کام نہیں آتی ۔
حالیہ سالوں میں تاریخ اور سیاست کی معروف ترین کتاب Why Nations Fail کا بنیادی نکتہ اب دنیا میں ایک اہم انکشاف کے طور پر زیرِ بحث ہے کہ قوموں کی ترقی اور زوال میں بنیادی کردار ان اداروں کا ہوتا ہے جو نظام میں سماجی توازن، انصاف اور وسیع تر عوامی شرکت کو ممکن بناتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس حقیقیت سے مفر نہیں کہ کرپشن کے خاتمے ، اصلاحات ، بہتر انتظامی و مالیاتی گورننس ، اداروں اور نظام میں ہمہ جہت تبدیلی کے بغیر کوئی معجزاتی تبدیلی نہ ہو سکے گی ۔ تیل اور گیس کے ان ممکنہ ذخائر کے لئے تمام تر دعائیں اور خواہشیں ہیں لیکن یہ دریافت اسی صورت میں عوام کے کام آئے گی اگر ایک شفاف اور انصاف پر مبنی گورننس حکمرانی کا نظام رو بہ عمل ہو جس کا وعدہ پی ٹی آئی کرتی آئی اور عوام نے بھی اس کے خواب دیکھے ورنہ نری خوشخبری سے تو کوئی معجزہ ہونے سے رہا !