جناب وزیراعظم ! کیا آپ اس عہدہ کے اہل بھی ہیں؟

عمران خان نے گھوٹکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جو  عامیانہ لب و لہجہ اختیا رکیا ہے ، اس کے بعد انہیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ  جس عہدہ جلیلہ  پر وہ نصف صدی کی جد و جہد کے بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ، کیا وہ  اس کے اہل بھی ہیں۔

وزیر اعظم   کے طور پر 7 ماہ  مکمل ہونے کے باوجود  عمران خان ملک کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور اپنی حکومت کی مجبوریوں کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔   انہیں معاشی معاملات سے لے کر خارجہ تعلقات تک  مسلسل  ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گو کہ گزشتہ ماہ  بھارت کی طرف جارحیت کے مظاہرے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کو  لائف لائن  ملی تھی  کیوں کہ عوام کے علاوہ دیگر اپوزیشن پاٹیوں نے بھی بھارتی حکومت کے غیر معقول اور ناجائز رویہ کے خلاف  بیک آواز افواج پاکستان اور حکومت کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا تھا۔ اس طرح مسلسل ناکامیوں  کی صورت میں عمران خان کی حکومت کو کچھ سکھ کا سانس لینا نصیب ہؤا تھا۔  اب یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم  اس مہلت سے فائدہ اٹھانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ وہ  اپوزیشن پر الزام تراشی کے ذریعے اپنی ناکامیوں اور حکومت کی ناقص کارکردگی کو چھپانے کی ناکام اور بھونڈی کوشش کررہے ہیں۔

گھوٹکی کے جلسہ عام میں وزیر اعظم کی گفتگو سطحی اور ان کے سابقہ مقبول عام رویہ کے عین مطابق تھی۔  لیکن  حکومت سنبھالنے  کے نصف برس بعد  اپوزیشن  کے سیاسی اور سماجی بائیکاٹ کی صورت حال پیدا کرتے ہوئے بھی اگر  ان کی حکومت بنیادی نوعیت کے  معاملات میں بہتری پیدا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے تو اس کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کی بجائے تحریک انصاف  اور اس کے چئیر مین کو ہی قرار دیا جائے گا۔   

وہ بڑے اصرار سے شریف خاندان اور آصف زرداری کی لوٹ مار   کو ملک کے موجودہ معاشی  بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔   اپوزیشن میں رہتے ہوئے  ان کا یہ دعویٰ یوں قابل قبول ہو سکتا تھا کہ  ان کے پاس اختیار نہیں تھا اور وہ  بڑے لیڈروں کی  کرپشن سے آگاہ ہونے کے باوجود  ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے سے قاصر تھے۔ لیکن اب انہیں حکومت سنبھالے  سات  ماہ کی مدت بیت چکی ہے۔ وہ پوری قوم کو  ملک کی اہم اپوزیشن پارٹیوں کی کرپشن  کے قصے ازبر کروانے  کے علاوہ   بیرونی دوروں میں عالمی  لیڈروں اور سامعین کو بھی یہ بتاتے رہے ہیں  کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ملک میں جاری کرپشن ہے جس کی وجہ سے عوام غریب اور حکومت مجبور ہے۔ لیکن اب اس نکتہ پر شریف خاندان یا زرداری کو مطعون کرنے کی بجائے انہیں خود اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ ان کی حکومت نے اس مدت میں  بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کتنے مقدمات قائم کئے ہیں، کون سے نئے قوانین منظور کئے گئے ہیں، نیب یا  بدعنوانی کا سراغ لگانے والے دیگر اداروں کو کتنا مضبوط کیا گیا ہے اور وہ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں  کہ ان کے ’سایہ عاطفت‘ میں پناہ لینے والے سیاست دانوں  کے علاوہ ملک کے سب سیاست دان چور اور لٹیرے ہیں؟

حکومت اور اس کے نمائیندے   ملک میں  نیب اور دیگر اداروں کی طرف سے اہم سیاسی لیڈروں کے خلاف کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اکثر  ہاتھ اٹھا کر  معصومیت سے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ  یہ مقدمے ان کی حکومت نے قائم نہیں  کئے ، اس لئے اس پر سیاسی  انتقام کا الزام لگانا  درست نہیں  ہے۔   شریف خاندان  ہو یا آصف زرداری اور ان کے دوست و اہل خانہ، وہ اس وقت انہی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں جو دہائیوں پہلے ان کے خلاف قائم کئے گئے تھے ۔لیکن ملک کے ناقص  نظام عدل اور کمزور قانون سازی کی وجہ سے نہ الزامات ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی  یہ مقدمات ختم ہوتے ہیں۔

ہر ایسے موقع پر جب کسی  سیاسی قوت   کو منظر نامہ سے ہٹانا مقصود ہوتا ہے اور جب  سیاست دانو ں  کے خلاف ناگوار فضا  پیدا کرکے کسی مختلف سیاسی قوت کے ہاتھ مضبوط کرنا مطلوب  ہوتا ہے ،  تو  پرانے مقدمات کو زندہ کرکے احتساب اور قانون کی بالا دستی کا علم اونچا کرلیا جاتا ہے۔  اب وزیر اعظم  ان پرانے مقدمات کی گرفت میں آئے ہوئے سیاست دانوں  کے بارے میں یہ نعرہ بلند کررہے  ہیں کہ وہ انہیں ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ دوسرے لفظوں  میں وہ اس بات کی تصدیق کررہے  ہیں کہ ملک  میں استغاثہ اور عدل کا نظام غیر جانبدار  اور خود مختار نہیں ہے  بلکہ حکومت وقت کے اشاروں کا محتاج ہے۔ حکومت جس سیاست دان کو  پابند سلاسل کرنا چاہے گی ، نظام بھی اس کا ساتھ دے گا اور وہ جسے رعایت دینے کا فیصلہ کرے گی ملک کی عدالتیں  اور احتساب ادارے،  ہاتھ باندھ کر انہیں رہا کردیں گے۔

وزیر اعظم کا یہ بیان تکنیکی لحاظ سے توہین عدالت کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ جس  شخص کو بات کرتے ہوئے اس بات کا احساس تک نہ ہو کہ اس کی کون سی بات ملک کے مروجہ قوانین اور  عدالتی روایت سے متصادم ہے ، اسے  کیوں کر ملک پر حکمرانی   کا  اہل سمجھا جاسکتا ہے؟  وزیر اعظم کے طور پر ان کی حکومت  اپنے زیر نگیں اداروں کو بدعنوانی میں ملوث لوگوں کے خلاف تحقیقات  کرنے اور عدالتوں میں شواہد پیش کرنے کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔  لیکن اس کے بعد ان الزامات  کی نوعیت  کا تعین کرنا اور ثبوتوں کو پرکھنا عدالتوں کا کام ہے۔ کوئی  مجاز عدالت ہی  کسی شخص  کو بدعنوانی یا کسی بھی دوسرے الزام میں  قصور وار ٹھہرا کر سزا دے سکتی ہے۔ جیسے   مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف  کو سپریم  کورٹ نے پبلک عہدہ سے نااہل قرار دیا لیکن  انہیں سزا دینے کا فیصلہ مناسب عدالتی کارروائی کے بعد نیب عدالت کے  ججوں  نے کیا ہے۔

  اب ان فیصلوں  کے خلاف اپیلیں  ہائی کورٹ میں   زیر سماعت ہیں   جبکہ وہاں  شنوائی نہ ہونے کی صورت میں نواز شریف ہوں یا دوسرے لوگ، سپریم  کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔ ملکی عدالت عظمی کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا۔ قانونی اور آئین لحاظ  سے   حکومت یا پارلیمنٹ بھی   کسی  مجرم کی سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں۔  اگرچہ صدر مملکت کے پاس یہ آئینی اختیار ضرور ہے کہ وہ کسی مجرم کی سزا میں تخفیف یا معافی کا فیصلہ کرسکے۔ تاہم ایک پارلیمانی جمہوری نظام میں کوئی صدر ، وزیر اعظم کے مشورہ کے بغیر ایسا اقدام نہیں کرتا۔

اب وزیر اعظم  اگر عام جلسوں  میں اپوزیشن لیڈروں  کو     قومی خزانے کی  لوٹی ہوئی دولت واپس کرکے رہائی حاصل کرنے کی  ’پیش کش ‘ کررہے ہیں۔ انہیں بتانا چاہئے کی کیا حکومت نے پارلیمنٹ سے کوئی ایسا قانون منظور کروا لیا ہے کہ  وزیر اعظم  قومی دولت لوٹنے والے کسی شخص   کو رقم   واپسی کی صورت میں  معافی دینے  کا مجاز  ہے؟     یا عمران خان اس اعلان سے یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت بالآخر  وہ ’این آر او‘ دینے کی تیاری کررہی ہے ،   جو نہ دینے کا اعلان  وزیر اعظم   نے  دس بارہ دن پہلے لاہور  میں ایک بار پھر کیاتھا؟

یوں لگتا ہے کہ  وہ اپنے خوابوں کی بنیاد پر  نیا این آر اور تیار کرتے ہوئے  اسےاس بات سے مشروط کررہے ہیں  کہ  جو بھی ان کی حکومت کو روزمرہ اخراجات چلانے کے  لئے چند ارب روپے فراہم کردے گا ، وزیر اعظم اس کے گناہ معاف کرکے اسے تمام سہولتیں  دینے پر آمادہ ہوں گے۔ کیا عمران خان  ایک نیا یو ٹرن لیتے  ہوئے سیاسی لیڈروں  پر الزام تراشی  رہے ہیں اور گھوٹکی کے معصوم لوگوں کو  گواہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں؟  تاکہ  کل کو اس بارے میں سوال اٹھنے پر وہ یہ کہہ سکیں کہ انہوں نے یہ فیصلہ ’وسیع تر  قومی مفاد ‘ میں کیا تھا۔

آج کے خطاب میں وزیر اعظم نے اپنے  اختیار سے بڑھ کربات  کرنے کے علاوہ  دراصل  اپنی بے بسی اور مایوسی کو اپوزیشن  پر کیچڑ اچھال کر چھپانے کی کوشش کی ہے۔ عمران خان آج تک یہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں  کہ سیاست   باہمی احترام،  معاملات کی تفہیم اور  سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کا نام  ہے۔  فیصلوں کا اعلان جلسوں میں کرنے والے لیڈر کے بارے میں یہ سمجھنا دشوار نہیں ہوتا کہ  وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہورہا ہے اور اس خفت میں مخالفین پر   الزام تراشی کی گولہ باری  کرکے خود سوالوں سے بچنا چاہتا ہے۔ اس قسم کے غصیلے بیان کسی بھی  سربراہ حکومت کی طرف  سے  اپنی ناکامی کا اعلان ہوتے ہیں۔ اس لئے عمران خان کو ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کرنا  چاہئے کہ  جو عہدہ انہوں نے  ہزار جتن اور سینکڑوں ساتھیوں ور دوستوں  کی امیدوں پر پانی پھیر کر حاصل کیا ہے، کیا وہ اس کے اہل بھی ہیں؟

عمران خان اگر    حکومت کے سربراہ کے طور پر معاملات سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ اس کے باوجود اس عہدہ سے چمٹے رہنے سے بڑی بدعنوانی اور دھوکہ دہی کوئی نہیں ہوسکتی۔