ایک اور ایمنسٹی اور میثاقِ معیشت کی خواہش
- تحریر
- جمعہ 05 / اپریل / 2019
- 5990
گزشتہ سال ان ہی دنوں ایک ٹیکس ایمنسٹی کا ڈول ڈالا گیا۔ حکومت نئے الیکشن کی وجہ سے چھ آٹھ ہفتوں کی مہمان تھی لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ ن کی حکومت نے دولت اور اثاثے ظاہر کرنے کے لئے ایک اور ایمنسٹی کا اعلان کیا تو اس کی ٹائمنگ پر کئی سوال اٹھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی اور اپنے تئیں نئی حکومت کی منتظر پارٹی پی ٹی آئی نے سرے سے کسی بھی طرح کی ایمنیسٹی کے تصور کی ڈٹ کر مخالفت کی۔
پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان نے بار بار اپنے اس موقف کو دوہرایا کہ یہ اسکیم حکمرانوں نے اپنی لوٹی ہوئی دولت کے تحفظ کے لئے جاری کی۔ ان کا استدلال تھا کہ یہ کیا بات ہوئی، ملک کی دولت دونوں ہاتھ سے لوٹو، ٹیکس چوری کرو اور پھر ایک دن مزے سے ایمنسٹی اسکیم کا سہارا لے کر سب لوٹی اور چوری کی دولت سفید دھن میں تبدیل کر لو۔ اس طرح قومیں ترقی نہیں کرتیں! کچھ ایسے ہی خیالات اسد عمر کے بھی تھے جو اس وقت پی ٹی آئی کے مالیاتی امور کے ماہر اور حرفِ آخر سمجھے جاتے تھے۔ دونوں رہنماؤں سمیت پی ٹی آئی نے اس ایمنسٹی اسکیم کی بھرپور مخالفت کی۔
مگریہ کیا ؟ ٹھیک ایک سال بعد اب وہی اسد عمر جو اب وزیر خزانہ ہیں نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ایک نئی ایمنسٹی اسکیم لا رہے ہیں! ہم ایسے طالب علموں کا فہم تو یہی ہے کہ دولت ٹیکس چھپا کر جمع کی گئی یا کسی اور ذریعے سے جمع ہونے والاکالا دھن قانون کا مجرم ہی ہوتا ہے، ملک میں اندوختہ ہو یا ملک سے باہر، پاکستانی روپے کی صورت میں ہو یا امریکی ڈالر یا کسی اور غیر ملکی کرنسی کی شکل میں، رئیل اسٹیٹ کی پردے میں ملفوف ہو یا کسی اور طرح کے اثاثوں کا غلاف اوڑھ رکھا ہو۔ یہ کالا دھن گزشتہ سال کی ایمنسٹی سے قبل بھی کالا ہی تھا اور اس ایمنسٹی کا منتظر آج کی تاریخ کا دھن بھی اسی رنگت کا ہے۔ البتہ ایک فرق پڑا ہے کہ گزشتہ سال اس ایمنسٹی کا ڈول مسلم لیگ ن نے ڈالا تھا اور اب پی ٹی آئی کی حکومت نے ۔ اب کی بار کی اس جیسی ایک اور ایمنسٹی کی تعریف میں اسد عمر کی تعریف و توصیف سن کر دماغ بھی کنفیوژ ہے کہ وہ کل درست تھے یا آج؟
وزیر خزانہ اپنی اس ایمنسٹی اسکیم کے فضائل اور اوصاف کے اس قدر قائل ہیں کہ ابھی سے انہوں نے ان لوگوں کو وارننگ دے دی ہے جنہوں نے اس ایمنسٹی سے فائدہ نہ اٹھایا۔ وارننگ وہی شناسا سی۔۔۔ چھوڑیں گے نہیں! اسماعیل میرٹھی کی اسکول کے دنوں میں یاد کی ہوئی نظم ذہن میں گونج رہی ہے جس کا ایک بند کچھ یوں تھا۔۔۔
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا
کہ جنگل کاجنگل ہرا ہو گیا
ایمنسٹی کیا ہے؟ ناجائز ذرائع اور قانون کو غچہ دے کر جمع کئے گئے اثاثے اور دولت کو ایک بارگی قانونی تحفظ دے کر اقتصادی دھارے میں شامل کرنے کے عمل اور اس کے قانونی فریم ورک کو ایمنسٹی کہا جاتا ہے۔ اس کی کئی شکلیں رائج ہیں، کچھ ملکوں میں بیرون ممالک رکھی ہوئی دولت اور اثاثے کو ملک میں لانے کے لئے ایسی اسکیمیں نافذ کی گئیں اور کچھ ممالک میں مقامی طور پر کالے دھن کو قانونی شکل دینے کے لئے ایسی اسکیمیں لائی گئیں۔ دونوں صورتوں میں کچھ جرمانہ یا ایک بارگی ٹیکس کی چھوٹ دے کر ایسی دولت یا اثاثوں کو وائٹ کرنے کا راستہ فراہم کیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں ماضی میں دی گئی بیشتر ایمنسٹی اسکیمیں مطلوبہ نتائج پر منتج نہیں ہوئیں۔وجہ بہت سادہ سی ہے کہ ایسی اسکیمیں تب کامیاب ہوتی ہیں جب دولت اور اثاثے چھپانے والوں کو اندازہ ہو کہ اب اگر پکڑے گئے تو اس سارے دولت سے بھی گئے اور قانون کے شکنجے کی صعوبتیں الگ۔لیکن جب ہر دوسرے چوتھے سال ایک نئی نویلی اور پہلے سے پر کشش ایمنسٹی دل لبھانے کو آن دھمکے تو کون کم بخت ہر سال باقاعدگی سے ٹیکس گزاری کے جھنجھٹ میں پڑا رہے اور سفید دھن پر مسلسل گڑی میلی نظروں سے اسے بچانے میں جان کھپائے۔ بقول وزیر خزانہ کے نئی ایمنسٹی کی تفصیلات تو ابھی مکمل طے نہیں ہوئی ہیں لیکن کاروباری طبقات کی ’ذبردست‘ ڈیمانڈ پر بجٹ سے قبل یہ اسیکم پیش کر دی جائے گی۔۔۔ ہائے کون مر نہ جائے اس سادگی پر !
اس ایمنسٹی اسکیم کا جواز وہی جانا پہچانا ہے، معیشت مشکل حالات میں ہے۔ ٹیکس واجبات کی وصولی حسب منشا نہیں ہے۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں۔ بڑے پیداواری اداروں Large scale manfacturing کی پہلے آٹھ ماہ میں شرح نمو منفی ہے۔ روپے ڈالر کی شرح مبادلہ کی وجہ سے درآمدی اشیا ور خام مال کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ افراطِ زر پانچ سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھی ہوئی قیمتوں نے تیل اور گیس کی قیمتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس پر بجلی اور گیس سیکٹر میں چوری ، ترسیل کے دوران زیاں اور سرکلر ڈیٹ کے ہر آن پھولتے غبارے نے حکومت اور صارفین کو مزید پریشان کر رکھا ہے۔ گو مانگے تانگے کے ایک دو ارب ڈالرز کی وصولی کی خبریں بھی ہیں لیکن زرِ مبادلہ کے ذخائرکا حال مفلس کے چراغ جیسا ہی ہے۔ تجارتی خسارہ کم کرنے کی کوششوں سے ٹیکس آمدنی میں کمی آئی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ معیشت کی شرح نمو اب چار فی صد سے بھی کم متوقع ہے جس کی وجہ سے معیشت کے یہ تمام اشارئے منفی رخ پر ہیں۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں ہمارے معیشت کے جغادری بالعموم ایمنسٹی اسکیم کے امرت دھارے کو ڈھونڈ کر لاتے ہیں، کیا سیاسی اور کیا غیر سیاسی ادوار، سب نے اس امرت دھارا کو ہی آخری سہارا کہہ کر نافذ کیا، اب تو خیر سے بقول وزیر خزانہ کاروباری طبقے کی زبردست ڈیمانڈ بھی ہے۔ جس کسی کوسمجھ نہیں آتی کہ ہم اور ہمارا نظام دائرے میں کیسے سفر کرتے ہیں، ان کے لئے یہ مثال کافی ہونی چاہئے۔
اپوزیشن میں رہ کر حکومتِ وقت کی کسی مناسب پالیسی کے بھی چیتھڑے اٹھانا کس قدر آسان ہے لیکن اسی اپوزیشن پارٹی کا حکومت میں آنے کے بعد اپنی پالیسیوں کے پرزے اڑتے دیکھنا بڑا مشکل کام ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب حکومت کو اچانک یاد آتا ہے کہ اپوزیشن کو اس کے اچھے اقدامات ، پالیسیوں اور دور رس اہمیت کے مشکل فیصلوں کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہئے۔اس وقت سیاست اور معیشت کو الگ الگ رکھنے کا فلسفہ بھی یاد آتا ہے۔ گزشتہ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی اپوزیشن کو میثاقِ معیشت کی اہمیت بتاتے اور دعوت دیتے رہے۔ان کی دعوت کا اپوزیشن نے وہی حال کیا جو مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کی اس دعوت کا کیا تھا۔ اب موجودہ وزیر خزانہ کو بھی یہی انکشاف ہوا ہے کہ قوم کو ایک میثاقِ معیشت کی ضرورت ہے۔ اب موجودہ اپوزیشن کی باری ہے کہ اس دعوت کا وہی حشر کرے جو ان کے ساتھ اس وقت کی اپوزیشن نے کیا تھا۔
برا ہو اس کیمرہ ٹیکنالوجی کا جو اپنے سامنے بولے ایک ایک لفظ کو محفوظ کر لیتا ہے۔ ایک سال قبل مسلم لیگ ن حکومت کی پیش کردہ ایمنسٹی پر کل کی اپوزیشن کے بار بار ٹی وی پر چلائے جانے والے کلپس سنیں اور پھر آج ان سے ان کی حکومت کی پیش کردہ ایمنسٹی کے فضائل اور برکات سنیں تو عجیب سرد و گرم کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ ہنسیں تو ہنسی نہیں آتی ، روئیں تو کس بات پر !