نا اہلیت کے بحران سے دو چار نیا پاکستان
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 05 / اپریل / 2019
- 7520
پاکستان کے مرکزی بینک کی ششماہی رپورٹ نے حکومت کی معیشت میں بہتری کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ۔ دوست ممالک سے قرضے اور امداد ملنے کے باوجود معیشت اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں ناکام رہی ہے ۔مجموعی قومی پیدا وار کا ہدف نصف اور مہنگائی گزشتہ چار سالوں کی نسبت دگنی 9%ہو گئی ہے۔ محصولات کی وصولی میں کمی تین سو پچاس ارب روپے ہے، قرض کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات میں اضافہ ،ترقیاتی کاموں میں نصف سے زیادہ کٹوتی ، روپے کی ڈالر کے مقابلے میں کمی جو کہ اب 144روپے کا ہے اور مستقبل قریب میں 160روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
گیارہ ،بارہ ارب ڈالر کے خیراتی پیکج کے باوجود بچٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ۔سرکلر ڈیٹ16سو ارب روپے ہے جس میں لائن لاسز اور 5سو ارب روپے نا دہندگان کے ہیں۔ حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کا خسارہ اور اخراجات کو پورا کرنے کیلئے خستہ حال عوام پر بلاوسطہ ٹیکسوں، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتو ں میں اضافہ کے ذریعے بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ جبکہ تنخواہیں ، اجرتیں اور معاوضے وہی ہیں۔ دنیا میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا بلکہ قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں ۔ اب گیس کی قیمتیں بڑھانے کی تیاریاں ہیں دوسری طرف امیر طبقات کی دولت اور منافوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ تاجر اور صنعت کار اپنی مرضی سے چیزوں کو مہنگا کرتے چلے جا رہے ہیں ہوٹلوں اور ریسٹو رانوں کے اپنے ریٹ ہیں اب کوئی شخص ڈھابے پر سستا کھانا کھانے کا تصور نہیں کر سکتا ۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہو چکا ہے ، صنعتی اور زرعی پیدا وار میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے ، کسانوں کو اپنی اجناس کے صحیح نرخ نہیں مل رہے ۔ مہنگی کھاد ، بیج اور بجلی کی وجہ سے پید اواری لاگت بڑھ چکی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کیلئے صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے ساتھ قرضہ جاتی پیکج کو قبول کیا جائے ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق آئندہ سالوں میں پاکستان کو قرضے ادا کرنے کیلئے نئے قرضے لینے ہوں گے۔ آئندہ پانچ سال میں پاکستانی معیشت کی بہتری کے بارے میں کوئی امید رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگر اسٹاک مارکیٹ میں لوگوں نے سرمایہ کار کر کے بیرونی منڈیوں تک رسائی حاصل نہ کی تو ہم شمالی کوریا بن سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ کو سوچنا چاہیے کہ اس کی اپنی پارٹی کے سرمایہ دار صنعت کاری کے عمل میں حصہ کیوں نہیں لے رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ ان کے ذاتی سیاسی اور مالیاتی مفاد ہیں جبکہ قومی تبدیلی کا کوئی ایجنڈا موجود نہیں ہے۔ سب سے حیران کن بات وزیر اعظم عمران خان نے کی ہے کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے نظریات ایک ہیں۔ یہی صورتحال سندھ میں قائم گرینڈ الائنس کی ہے جو کہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کی قیادت کیے خلاف رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے تمام لاثانی و قوم پرست گروہ اور ملک کی دو مقبول عام سیاسی جماعتوں کی قیادتیں ایک ہی کمپنی کی ملازم ہیں جبکہ پنجاب کے سیاسی خاندان کی ناراضگی وقتی ہے اور ان سے مقتدرہ طبقات کسی وقت بھی صلح کر سکتے ہیں۔ میری ان گزارشات کی روشنی میں آپ آئندہ ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے حرکیات کو سمجھ سکتے ہیں ۔
وزیر اعظم کی معاشی ایڈوائزری کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے موجودہ صورتحال میں نہ ہی پچاس لاکھ مکان اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں فراہم کی جا سکتی ہیں ۔نئی ملازمتوں کی گنجائش بنانے کیلئے معیشت کی قومی ترقی کی شرح نمو کو مسلسل کے ساتھ 7%تک لے جانا ہوگا اس مقصد کیلئے سرمایہ کاری اور صنعتی کارے کے عمل کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔1993میں ڈالر کی قیمت 52روپے تھی جو کہ اب 144روپے ہے ۔ 2ہزار946ارب روپے قرضے 29ہزار8سو 80ارب روپے تک پہنچ گئے ہے۔ 2018 میں پاکستان کے عوام نے تبدیلی کے نام پر جس حکومت کو منتخب کیا تھا ،وہ ابھی تک عوام دوست ریلیف دینے والی خوشگوار تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے عوام کو دکھائے جانے والے خوبصورت خواب اشیائے ضرورت اور یوٹیلٹی بلز کے اضافوں کی وجہ سے خوفزدہ ہونے اور چیخیں نکالنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ جبکہ اشرافیہ کے چاروں طبقات اور اقتدار کے شراکت داروں کی من مانی اور استحصالی رویے قائم ہیں ۔ اوپر سے اخراجات کم کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کی چھریوں سے عوام کی کھال اتارنے کی تیاریاں ہیں ۔یہ تمام طبقات اصلاحات کے ذریعے ملک سے بدعنوان نظام اور غیر پید اواری ساکت سماجی ، تجارتی ،معاشی اور صنعتی سر گرمیوں میں اضافہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ اسی روایتی طریقوں کے ذریعے ریاستی اخراجات قرضوں کے ذریعے چلانا چاہتے ہیں ۔
گزشتہ 8ماہ کے دوران احتساب کے حوالے سے بیانات کے علاوہ کرپشن کا ایک ڈالر بھی بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔ اور سابق حکومتوں کو کوسنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا رہا ۔گزشتہ حکومت کے دوران معاشی ترقی کی شرح 5.8%ہو گئی تھی ، جتنی تیزی کے ساتھ آج قرضہ لیا جا رہا ہے ماضی میں ایسا نہیں ہوا۔پہلے جو کام ہزاروں روپے میں کیے جا سکتے تھے انہیں لاکھوں میں بھی مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ معاشی ترقی کیلئے مربوط پالیسیاں بنانے کی بجائے غربت کے خاتمے کے نام پر مرغبانی اور پچھڑے پالنے کے پروگرام دیئے جا رہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں55لاکھ بزرگ خواتین کی امداد ہوتی تھی اس میں بگاڑ پیدا کرنے بارے سوچا جا رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے اس پروگرام کو غریب عورتوں کو گھریلوں سطح پر سلائی ، تعلیم ، روز گار اور اضافی وسیلوں کے کاموں سے جوڑا جائے مگر ایسا کچھ نہیں ہو رہا ۔
کچھ عرصہ قبل معاف کروائے ہوئے قرضوں کی ریکوری کے بارے میں شعور و غوغا سنا جا رہا تھا جو کہ چار کھرب روپے کے لگ بھگ ہے۔ یہ تمام قرضے سیاسی طور پر معاف کروائے گئے ہیں جبکہ ان لوگوں کے اثاثے اب بھی موجود ہیں ان کا وہی معیار زندگی قائم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے یہ قرضے مرضی سے ڈیفالٹ کیے گئے تھے ۔ انہی لوگوں نے ملک کو قرضہ جاتی بحرانوں میں پھنسا دیا ہے۔ ان سے قرضے وصول کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک کے تمام امیر طبقات سے براہ راست ٹیکس وصول کرنے چاہئیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے پیدا واری لاگت میں کمی اور پیدا وار بڑھانے کی ضرورت ہے تا کہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ 18ویں ترمیم اور ساتویں مالی ایوارڈ پر صوبوں سے محاذ آرائی کرنے کی بجائے وفاقی حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔ پید اواری بجٹ کو انسانی وسائل کی ترقی ، صحت ، تعلیم تربیت اور ٹیکنکل تعلیم کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق بنانے پر صرف کیا جائے۔ زرعی شعبہ سے ٹیکس وصول کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت بھی پاکستان کے حکمران خاندانوں کے اقتدار کا تسلسل ہے جن کے پاس سیاسی اور معاشی حکمت عملیوں سے عوام کی تکالیف کم کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ وہ محض محاذ آرائی کی کیفیات کی بڑھوتی کے ذریعے اپنی نا اہلیت کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کسی کو معلوم نہیں کہ نیا پاکستان بنانے والے کہاں ہیں ۔ہر طرف شعور و غوغا ، دھول اڑتی اور پگڑیاں اچھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ ہم ابھی تک اٹھارویں اور انیسویں صدی کے گرداب میں گرفتار ہیں ۔جاگیر دار طبقات ابھی تک زراعت کو معیشت کی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں صنعتی انقلاب میں داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے جس کیلئے جدیدت ، روشن خیالی اور ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر معاشی اور ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے ہیں ۔