کرائسٹ چرچ دہشتگرد پر 50 افراد کو قتل کرنے کی فرد جرم عائد کردی گئی

  • ہفتہ 06 / اپریل / 2019
  • 6300

نیوزی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد پر 50 افراد کے قتل کی فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اس سے قبل آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ پر قتل کی ایک فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ 5 اپریل کی سماعت میں مزید فرد جرم عائد کی گئیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’5 اپریل کو کرائسٹ چرچ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں دہشت گرد پر قتل کی 50 اور اقدام قتل کی 39 فرد جرم عائد کی گئیں‘۔

28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ آک لینڈ جیل سے کرائسٹ چرچ کی عدالت میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہؤا۔ رواں ہفتے عدالت کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پیشی مختصر ہوگی، جس میں دفاع کی قانونی نمائندگی سے متعلق معلوم کیا جائے گا اور دیگر کارروائی کی جائے گی۔

برینٹن ٹیرنٹ نے 16 مارچ کو پہلی پیشی کے بعد عدالتی وکیل کی کسی بھی قسم کی معاونت لینے سے انکار کردیا تھا جس نے ان خدشات میں اضافہ کردیا تھا کہ وہ اپنی نمائندگی خود کرنا چاہتا ہے۔ اس اقدام کو ٹرائل کو پروپیگنڈا پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش بھی سمجھا گیا تھا۔

علاوہ ازیں عدالت نے دہشت گرد کی تصاویر اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ پولیس نے کہا کہ برینٹن ٹیرنٹ پر مزید الزامات عائد کیے جانے سے متعلق غور کیا جارہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ الزامات کیا ہیں۔

اس حوالے سے یہ بھی اہم ہے کہ عدالت اسے دہشت گرد حملہ قرار دیتی ہے یا نہیں کیونکہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈر ن بارہا اسے دہشت گردی قرار دے چکی ہیں۔

تاہم 9/11 کے بعد نیوزی لینڈ میں ٹیرارزم سپریشن ایکٹ متعارف کیا گیا تھا جس کا بہت کم استعمال کیا گیا ہے اور یہ عدالتی کارروائی کو پیچیدہ بناسکتا ہے۔ قتل اور اقدام قتل کے الزامات کی پیروی آسان ہے لیکن پراسیکیوٹرز کی جانب سے حملہ آور کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ ماہ انکشاف کیا گیا تھا ٹیرنٹ کو دیگر قیدیوں سے علیحدہ کردیا گیا ہے اور اس کی سی سی ٹی وی کیمرے یا عملے کی جانب سے مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔ دہشت گرد کو ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات تک رسائی بھی نہیں ہے۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔