سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم مزید سات افراد گرفتار
- ہفتہ 06 / اپریل / 2019
- 6360
لندن میں مقیم انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم القسط کے مطابق سعودی عرب نے دوہری شہریت رکھنے والے امریکی شہریت رکھنے والے دو سعودی باشندوں کے علاوہ ایک حاملہ خاتون سمیت کم از کم سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار کیے گئے افراد کے ملک میں اصلاحات پر بحث و مباحثے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ القسط کا کہنا ہے کہ فروری سے ان افراد کو سفری پابندی کا سامنا بھی تھا۔ حالیہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت کی گئی ہیں جب جیلوں میں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پہلے سے موجود سماجی کارکنوں کے مستقبل سے متعلق تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
2018 کے اوائل میں شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد گزشتہ ماہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے 10 کارکنوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں سے تین کو پچھلے ہفتے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے اور اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں 36 ممالک ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حالیہ گرفتاریوں پر سعودی حکام کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ القسط کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں چھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ان افراد کی تعداد آٹھ ہے۔
گرفتار افراد میں سے ایک خدیجہ الحربی ہیں جو حقوق نسواں کی حامی مصنفہ اور حاملہ ہیں اور امریکی اور سعودی شہریت رکھنے والے صلاح الحیدر، جن کی والدہ ان کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کو حال ہی میں رہا کیا گیا تھا۔ گرفتار کیے گئے دوسرے امریکی اور سعودی شہری بدد الابراہیم ایک مصنف اور ڈاکٹر ہیں۔