حمزہ شہباز کی دس روزہ ضمانت منظور، نیب گرفتار نہیں کرسکتی
- سوموار 08 / اپریل / 2019
- 6290
لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت 17 اپریل تک منطور کرلی ہے۔ انہیں ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ لیگی رہنما کی جانب سے امجد پرویز اور قومی احتساب بیورو کی لیگل ٹیم بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئی۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اتنے زیادہ لوگوں کو یہاں بلا لیا ہے، یہ سب کیا ہے؟ اس پر حمزہ شہباز نے جواب دیا کہ ہم نے کارکنوں کو نہیں بلایا۔ عدالت کی جانب سے نیب کے وکیل سے استفسار کیا گیا کہ آپ حمزہ شہباز کو کس کیس میں گرفتار کرنا چاہتے ہیں، جس پر نیب وکیل نے جواب دیا کہ حمزہ شہباز کے خلاف مجموعی طور پر 3 کیسز ہیں۔
دوران سماعت نیب کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ کسی کی گرفتاری سے قبل 10 دن کا وقت دینا ضروری نہیں۔ اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ ہم تفصیلی دلائل بعد میں سنیں گے۔
عدالتی ریمارکس پر وکیل نیب نے کہا کہ حمزہ شہباز کے اکاؤنٹس سے غیر قانونی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔ گرفتاری کا مقصد یہ ہے کہ حمزہ شہباز ریکارڈ کو غائب نہ کردیں۔ لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت مسترد کرے۔
بعد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
خیال رہے کہ 6 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب کو 8 اپریل تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
عدالت نے اپنے 3 صفحات کے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہیں 8 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔