عرب ممالک اسرائیل کے خدشات دور کریں: اومانی وزیر خارجہ کا مشورہ
- منگل 09 / اپریل / 2019
- 6520
سلطنت آف اومان کے وزیر خارجہ نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے خدشات دور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک طاقت بن چکا ہے لیکن عربوں کے درمیان غیر عرب ریاست کے طور پر خوف زدہ ہے۔
خبروں کے مطابق اومان کے وزیر یوسف بن علاوی بن عبداللہ نے اردن کے ساحلی علاقے میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران غیر رسمی ملاقاتوں میں اسرائیل کے حق میں اپنے مطالبات دہرائے۔
یوسف بن علاوی بن عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’مغرب نے اسرائیل کو سیاسی، معاشی اور عسکری تعاون کی پیش کش کی تھی جس کے بعد اب اس کے پاس ایک طاقت کے تمام لوازمات موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود 40 کروڑ عربوں کے درمیان ایک غیر عرب ملک کے طور اس کو اپنے مستقبل کے حوالے سے خوف کا سامنا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے کہ عرب اس معاملے کو جانچ سکتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ مختلف اقدامات اور حقیقی معاہدوں کے ذریعے اس کے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں‘۔
اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، تسلیم نہیں کر رہے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ انہیں تسلی ہو کہ ان کو مستقبل میں کوئی خطرہ نہیں ہے‘۔
مصر کے علاوہ اسرائیل سے تعلقات رکھنے والے عرب ملک اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اومانی وزیر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مسئلہ عرب سرزمین پر قبضے کا ہے‘۔
اردن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’عرب دنیا اسرائیل کی موجودگی پر اس کے حقوق کو تسلیم کرچکی ہے اور فلسطینی بھی ان کے حقوق کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے‘۔
اردن کے وزیر خارجہ نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے جس کا اظہار کئی مرتبہ کیا گیا ہے اور سب نے سن رکھا ہوگا‘۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں عرب ریاستوں کو تعلقات بڑھانے کی دعوت بھی دی تھی۔ رواں سال فروری میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اومانی خارجہ امور کے وزیر سے عالمی کانفرنس میں براہ راست ملاقات کی تھی۔ جہاں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکام بھی شریک تھے۔
اکتوبر 2018 میں نیتن یاہو نے اومان کا اچانک دورہ کیا تھا اور مسقط میں اومان کے سلطان قابوس سے ملاقات کی تھی جس پر فلسطین کی جانب سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔