دہائی اور رہائی
- تحریر محمد ناصر اقبال خان
- منگل 09 / اپریل / 2019
- 4810
دنیا کے مہذب معاشروں کے سیاستدان تعمیر ریاست کیلئے سیاست کرتے اوراپنے ہم وطنوں کیلئے نجات دہندہ بن جاتے ہیں مگرہمارے ہاں سیاستدانوں کے روپ میں سرمایہ دار طبقہ ریاست کے ساتھ سیاست جبکہ قومی وقاراور مفادکوبلڈوز کرتاہے۔
بدقسمتی سے اقتدارپرست اہل سیاست کوریاست پر رحم آتاہے اورنہ رعایا کے ساتھ انہیں کوئی ہمدردی ہے ۔ہمارے ہاں ضیائی آمریت کے بعدسے نظریاتی سیاست اورنظریاتی صحافت ناپیدہوگئی ۔ مالیاتی سیاست اورمالیاتی صحافت نے ریاست اورنظام کونیم مردہ کردیا۔ سیاستدان اپنے بچاؤکیلئے ریاست کو کمزورکر تے رہے۔ آج ریاست قومی چوروں کوچھوڑنے کامژدہ سناتے ہوئے ان سے اپنے پیسوں کی واپسی کیلئے بھیک مانگنے پرمجبور ہے کیونکہ اب ریاست میں چوروں کوزیادہ دیرتک حراست میں رکھنے کی سکت نہیں رہی ۔ ہمارے نام نہاد رہبرو ں نے ایساآئین بنایاجوان کیلئے موم کی ناک جبکہ عام آدمی کیلئے لوہے کاچنا ہے۔مٹھی بھربدعنوان ،بدزبان اوربے لگام سیاستدان پاکستان سمیت اس کے ریاستی نظام کوتختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔
پی آئی اے اورپاکستان سٹیل ملز سمیت ریاستی ادار وں کی ابتری کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے جبکہ سیاسی اشرافیہ کے نجی ادارے ریکارڈ بزنس کررہے ہیں ۔ حکمران اشرافیہ نے اپنے اپنے مفادات کیلئے ڈیل اورڈھیل کازہر ریاست کی رگ رگ میں اتارا ۔مخصوص عناصردھڑلے سے ریاستی نظام کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے۔ سات دہائیوں سے عوام دہائیاں دے رہے ہیں جبکہ مٹھی بھر لوگوں نے نظام کو اپناغلام بنایاہوا ہے ۔پاکستان میں بنک مخصوص افراد کوراتوں رات قرض دیتے اوروہ سیاست کی طاقت سے انہیں ہڑپ کر تے رہے ۔دھونس اور دیمک زدہ سیاست نے ریاست کوریزہ ریزہ کردیاہے۔پاکستان کے اندرڈالر کی حالیہ پرواز سمیت بے چینی اوربے یقینی کے پیچھے بے رحم سیاستدانوں کامجرمانہ دماغ اورناجائزسرمایہ ہے۔ 2013 سے2018 تک عالمی مالیاتی اداروں سے سخت شرطوں پرقرض درقرض لے کر میٹروبس اوراورنج ٹرین سمیت ان منصوبوں پرپیسہ پانی کی طرح بہایاگیا ،جہاں یہ ہمیشہ کیلئے ڈوب جائے۔ اورخدانخواستہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے۔ پاکستان کے اہم ریاستی ادارے آئی ایم ایف کی دسترس میں چلے جائیں۔
آج شہریوں کی ہوشربا گرانی سے پریشانی فطری ہے مگر جس وقت شعبدہ بازی کرتے ہوئے مقروض ملک کاپیسہ انتہائی فضول منصوبوں پر لگایاجارہا تھااس وقت وہ کیوں خاموش رہے۔ ملک میں ہوشربا مہنگائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگریہ عوام کی مجرمانہ خاموشی کانتیجہ ہے ۔ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدرگرانے والے کوئی اورنہیں ہمارے اپنے ہیں ۔ اس سازش کاواحدمقصدعوام پرمہنگائی کے ہنٹربرسانا،کپتان کوناکام وبدنام کرنا اورتبدیلی کاراستہ روکنا ہے ۔جولوگ نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کے نزدیک سکیورٹی رسک اورغدارتھے آج وہ سبھی ایک ناؤمیں سوار ہیں،آج ان کامقصد،محوراورمنزل ایک ہے۔ ان عناصر کی دشمنی عمران خان سے ہے مگراس نفرت کی قیمت پاکستان کے عوام چکا رہے ہیں۔
عمران خان اس قدراناڑی نہیں۔ انہیں اپنے مدمقابل سیاسی مافیاکی عیاری اور مکاری کاسامنا ہے۔ کپتان کے مخالفین ان کی ناکامی اوربدنامی کیلئے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں۔ میں وثوق سے کہتا ہوں ہماری ریاست کی اس حالت زارمیں مالیاتی سیاست اورمالیاتی صحافت نے مجرمانہ کرداراداکیا۔ہمارے ہاں رائج سیاست ہماری ریاست کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جبکہ نام نہادجمہوریت صرف اہل سیاست کوراس آئی کیونکہ بیچارے عوام توسات دہائیوں بعد بھی اس کے ثمرات کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔
زیادہ تراہل سیاست کا خودکوریاست سے مقدم سمجھناایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ مٹھی بھر بدعنوان عناصراپنے بچاؤکیلئے قوم اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ جبکہ نیب کوعیب قراردیاجارہا ہے ۔نیب قوانین میں ترمیم کی ڈیمانڈکرنے یا تجویز دینے والے یقینااحتساب کے حق میں نہیں ہیں۔سیاستدانوں نے اپنے حامی کارکنان کے کندھوں پربندوق رکھی ہوئی ہے جبکہ نیب سمیت ریاستی ادارے ان کے نشانے پر ہیں۔جولوگ چاردہائیوں سے عیش وعشرت کیلئے قومی وسائل میں نقب لگاتے رہے اور دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہے تھے، آج اپنی ناجائز دولت چھپانے اورخودکواحتساب سے بچانے کیلئے کیاکیا ہتھکنڈے آزمارہے ہیں ۔تعجب ہے چاردہائیاں اقتدارمیں گزارنے والے آج مہنگائی کی دہائیاں دے رہے ہیں۔
عمران خان کی نیک نیتی کافی نہیں،وہ بھی اپنی ناؤکے بوجھ میں کمی اورباصلاحیت ٹیم ممبرزتلاش کریں ۔کپتان پاکستان میں تبدیلی کیلئے اپنارویہ تبدیل کریں۔ انہیں تکبر نہیں تدبر کی ضرورت ہے لہٰذا وہ ہروقت ٹانگ پرٹانگ رکھ کربیٹھنا چھوڑدیں۔انہیں ڈیلیورکرنے کیلئے اسدعمر ،عثمان بزدار اور فوٹوسیشن کے شوقین مشیروں سے فوری جان چھڑاناہوگی ۔ راقم نے بہت شروع میں بھی عمران خان کی اہلیہ اور عثمان بزدارکے بارے میں لکھاتھا ۔ آج پھر کہتا ہوں عمران خان اپنی اہلیہ سے والہانہ محبت اوران کی بے پایاں عزت کریں مگر امورریاست سے انہیں دوررکھیں۔انہوں نے تخت لاہورسمیت متعدد معاملات کے بارے میں اپنی اہلیہ کی بجائے کسی دیوارسے مشورہ کیاہوتاتوآج صورتحال یقیناًبہت مختلف ہوتی۔ہمارے قلم کار عثمان بزدار کے خلاف پھٹ پڑے ہیں ۔ انہوں نے شروع میں موصوف کے حق میں بھی بہت لکھا ہے مگرمیں شروع سے'' بزدارنہیں بردبار'' پرزوردے رہا ہوں ۔عمران خان یادرکھیں بائیس برس کی یوٹرن زدہ سیاست اورانتظامی مہارت میں زمین آسمان کافرق ہے۔ انہیں اس بندگلی سے'' درازقد''وزیر اور" بزدار" نہیں بلکہ "بردبار"ٹیم ممبر باہرنکال سکتے ہیں۔نعیم الحق نے کپتان کے ساتھ دوستی کاحق اداکیا مگراب وزیراعظم اس دوستی کاحق اداکرنے کیلئے کسی اہل کاحق نہ ماریں ۔اپنے احبا ب کوایوان وزیراعظم سے بہت دوراپنے نجی ڈرائنگ روم تک محدودرکھیں اورجہانگیرترین سمیت دوسرے ماہرین سے مشاورت کریں۔
عمران خان کے پاس مخلص ساتھیوں کی کمی نہیں ،وہ جہانگیرخان ترین اورمیاں اسلم اقبال پرآنکھیں موندکراعتمادکرسکتے ہیں۔ ملتان کے تین میں سے دومخدوم عمران خان کے ساتھ شریک سفررہے ۔ ایک مخدوم نہ صرف انہیں چھوڑگیا بلکہ جاتے جاتے ان کی تھالی میں چھیدبھی کرگیا جبکہ لودھراں ڈسٹرکٹ ملتان کاپڑوسی شہر ہے وہاں سے باوفا،باصفااورباحیا جہانگیر ترین کا کپتان کے ساتھ تعلق سودوزیاں سے بے نیاز ہے ۔میرے نزدیک جہانگیر ترین اب تک کپتان کاواحد بہترین انتخاب ہیں۔دوسری طرف لاہورسے انتھک اورزیرک میاں اسلم اقبال ہیں مگران کے اوصاف حمیدہ سے کپتان شایدانجان ہیں ۔عمران خان کوریاستی نظام کی تبدیلی کیلئے اپنے ٹیم ممبرز کوتبدیل کرناہوگا۔عثمان بزدارہزارسال میں بھی ڈیلیورنہیں کرسکتے ۔ پنجاب میں عمران خان کے مخلص اورمعتمدمیاں اسلم اقبال سے ان کی خدادادصلاحیتوں کے مطابق کام لیا جائے۔
عمران خان نے ایک بارپھر این آراودینے سے صاف انکارکردیا جبکہ متحدہ اپوزیشن والے اس کی تردیدکررہے ہیں۔ پرویزی آمریت کے دورمیں شریف برادران کی جیل سے جدہ کیلئے جلاوطنی تحریری ڈیل کاشاخسانہ تھی۔ مگر شریف خاندان کے افراد حجازمقدس میں بیٹھ کرمسلسل اس سمجھوتہ کی تردیدکرتے رہے۔ تاہم 2008 میں نوازشریف نے لندن سے لاہورکیلئے ٹیک آف کرتے وقت ڈیل پرمہر تصدیق ثبت کردی تھی ۔پرویز ی آمریت کے ابتدائی دورمیں راقم نے پہلی بار'' ڈیل اورڈھیل''کی اصطلاح استعمال کی تھی ۔مارچ 2015 میں راقم نے ایک کالم بھی بعنوان '' ڈیل سے ڈھیل تک''سپردقلم کیاتھا ۔آج پھرہم ملک میں'' این آراو '' کی بازگشت سن رہے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کئی بار کہا ،''ہم این آراونہیں دیں گے''۔''شہبازشریف این آراومانگ رہے ہیں''۔ یہ عوامی مسلم لیگ کے دبنگ سربراہ اوروفاقی وزیرریلوے شیخ رشید کادعویٰ ہے ۔ نوازشریف کی طبی بنیادوں پرڈیڑھ ماہ کیلئے عارضی رہائی سے بے یقینی مزید بڑھ گئی اورہرکوئی سوالیہ نگاہوں سے ایک دوسرے کودیکھ رہا ہے۔اسیری کے بعدباعزت رہائی ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی ۔ کبھی رہائی سے رسوائی کا پہلونکل آتاہے۔
نوازشریف کی عارضی رہائی پران کی جماعت کاجشن فطری ہے تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور کارکنان کو عدالتی فیصلے کچھ دیر بعد سمجھ آتے ہیں۔ اس وقت تک پل کے نیچے سے بہت زیادہ پانی گزرچکا ہوتا ہے۔ نوازشریف کی بیماری کے باوجودمسلم لیگ (ن) کے جشن سے اس کاسیاسی موقف کمزورہوا،جس جماعت کاقائدبسترمرگ پرہو، اس کے کارکنان دھمال نہیں ڈال سکتے۔عدالت عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ دوررس اثرات کاحامل ہے کیونکہ ہماری ریاست کوجس قسم کے چیلنجز کاسامنا ہے اس کی بقا اورمضبوطی کیلئے مقبول نہیں معقول فیصلے کرناہوں گے۔ نوازشریف کی رہائی میں مریم نواز کی دہائی کابڑاہاتھ ہے۔زندان میں مقیدعام مجرمان کا نوازشریف کے ساتھ موازنہ کرنادرست نہیں ۔کیونکہ عام قیدی نوازشریف کی طرح تین بار منتخب وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات قائد نہیں ہیں۔ایک طرف اسیر نوازشریف اوردوسری طرف پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے حامی ریاست کوبلیک میل کرنے کیلئے ریاست کے خلاف راست اقدام کرنے کاعندیہ دے رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اندربلاول بھٹو زرداری نے انگلش میں مغرب کی مقتدرقوتوں سمیت مغربی اوربھارتی میڈیاکو جو پیغام دیا وہ ایک بڑاسوالیہ نشان ہے۔ہماری ریاست نے اب تک بڑے صبر وتحمل کامظاہرہ کیا ہے اورشایداسے ابھی مزیداپنوں کے ہاتھوں دردسہناپڑے گا ۔ مسلم لیگ (ن)کے قائدین نوازشریف کی بیماری کے ایشوپرپوائنٹ سکورنگ کررہے تھے جوان کی عارضی رہائی کے بعدختم ہوگیااوریقینادوبارہ وہ اس پرسیاست نہیں چمکاسکتے ۔ اب حمزہ شہبازکی گرفتاری کیلئے نیب کی ریڈ پرکچھ دن شورمچایاجائے گاپھراس کے بعدشایدکوئی اورایشوان کے ہاتھ آجائے۔ نوازشریف کوریلیف ملنے سے پیپلزپارٹی کی قیادت کے بیانیہ میں واضح فرق محسوس کیا جاسکتا ہے ۔کوٹ لکھپت جیل میں نوازشریف اوربلاول زرداری کے درمیان ہونیوالی ملاقات کے باوجودمسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کا ایک دوسرے پرا عتماد بحال نہیں ہواتھا۔
نوازشریف کی رہائی کے بعدپیپلزپارٹی مزید محتاط ہوجائے گی ۔ آنیوالے دنوں میں دونوں سابق حکمران پارٹیوں کے درمیان دوبارہ فاصلے بڑھنا اورمیڈیا کے محاذ پرایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیانات شروع ہوجائیں گے۔ان حالات میں سیاسی پنڈت پی ٹی آئی کی وفاق اورپنجاب میں حکومت کیلئے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کررہے ۔مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے قائدین کی'' کمزوریاں اورمجبوریاں ' 'انہیں مستقبل میں بھی کبھی اکٹھانہیں ہوں دیں گی لہٰذا متحدہ اپوزیشن کی سیاسی پوزیشن دن بدن بدسے بدترہوتی چلی جائے گی ۔ اس وقت اگروزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کیلئے گرین سگنل دیتے ہیں توپنجاب میں حکمران اتحاد باآسانی عثمان بزدار کامتبادل لے آئے گا ۔
وزیراعظم عمران خان کومرکزمیں اپنے اقتدار کے دوام اوراستحکام کیلئے پنجاب میں کمزورنہیں مضبوط اورموزوں وزیراعلیٰ کی اشدضرورت ہے ۔ انہیں دس ہزاربزداربھی سیاسی اورانتظامی طورپر وہ فائدہ نہیں دے سکتے جو کوئی نیک نام ، انتھک اور بردبار وزیراعلیٰ دے سکتا ہے۔