معیشت کے بارے میں ابھی اچھی خبر نہیں ہے
- تحریر افتخار بھٹہ
- منگل 09 / اپریل / 2019
- 6800
پاکستان میں سیاسی قیادت انقلاب اور تبدیلی کے نعرے کو استعمال کرتی ہے حالانکہ موجودہ سسٹم میں تمام راہنما اسٹیٹس کو کے حامی ہیں۔ یہ نظام 71سال سے قرضوں اور ٹیکسیوں کے ذریعے چل رہا ہے، گزشتہ دہائیوں میں حکمران طبقات کی اشرافیہ کی زندگی میں جنت نما تبدیلی آئی ہے جبکہ عوام جہالت ، غربت ، بے روز گاری اور بیماریوں سے دو چار ہیں۔
معیاری تبدیلی کے معنی ہیں کہ لوگوں کو تعلیم ، صحت ، روز گار اور دیگر ضروریات زندگی کی سہولیات حاصل ہوں مگر ہم تبدیلی کیلئے بنیادی انتظامات اور اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس میں سب سے اہم انسان کو کار آمد بنانا ہوتا ہے ، قابلیت کے مطابق معاوضہ ملنا جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم، غیر طبقاتی نظام تعلیم اور نصاب میں سائنس کے علاوہ سوشل سائنس کے علوم کو شامل کرنا ہے ۔ ہم نظام کو گلوبل لائزیشن کے تقاضوں کے مطابق سماجی ، انتظامی ، معاشی اور سائنسی فکر کے حوالے سے تشکیل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم موجودہ نیم سرمایہ کارانہ اور جاگیر دارانہ نظام پر تنقید تو کرتے ہیں مگر ہمیں نظام کی تبدیلی کے کے بارے میں بہت کم علم ہے۔ اس کیلئے دنیا کے نظاموں کا تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں مختلف عقائد رکھنے والے ممالک میں ایک جیسا سیاسی نظام ملتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک جیسا مذہب رکھنے والے ممالک میں مختلف نظام دکھائی دیتے ہیں۔ آج آزاد منڈی کی معیشت میں نیو لبرل ازم کا معاشی ایجنڈا نافذ العمل ہے ۔ جس میں معاشی صنعتی اور تجارتی حوالوں سے ترقی پذیر ممالک کو پسماندہ ممالک پر معاشی بالا دستی حاصل ہے۔ ایکسپورٹ لیڈ گرؤتھ کا اس میں سب سے زیادہ کردار ہے جو کہ صنعتی پیدا واری عمل کے ساتھ منسلک ہوتی ہے ۔ پاکستان میں ایسا نہیں ہو سکا ہے ۔نہ ہی ہم جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچا سکے ہیں اور نہ ہی صنعت کاری کے عمل میں فروٖغ سے پید ا واری برآمدی گرؤتھ میں اضافہ کر سکے ہیں ۔ ایسا کرنا ہماری جمہوری اشرافیہ کی نظریاتی ، فکری اور شعوری کاوش میں شامل نہیں تھا جو بنیادی طور پر ہمارے اقتصادی، سماجی قانونی ، سیاسی اور عملی تعلقات و تصورات کو متعین کرتا ہے۔
ہماری حکومتوں نے انکم اور اخراجات کے فرق کو مقامی وسائل کو متحرک کرنے کی بجائے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا سہارا لیا ہے اور معیشت کے انجن کو چالو کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے نام نہاد ترقیاتی پروجیکٹس کے ذریعے وقتی طور پر روز گار اور صنعتوں کی پید ا وار سیمنٹ سریہ اور تعمیراتی سامان کو کھپانے کی کوشش کی ہے غیر ملکی قرضوں سے تمام سرمایہ کاری ایسے پروجیکٹس میں کی گئی ہے جن پر کوئی آمدن کی امید نہیں تھی جس سے قرضہ جات کو اتارا جا سکے یہی وجہ ہے ہم بتدریج قرضہ جاتی شکنجہ جات میں جکڑے جا چکے ہیں ہمارے ہاں صنعتی اور تجارتی سر گرمیاں کساد بازاری سے دو چار ہیں کسی مارکیٹ میں چلے جائیں وہاں پر تاجر شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سیل تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملازموں کی تنخواہیں ، بجلی کے بل اور کمپنیوں کے سپلائی شدہ مال کی ادائیگی نہیں ہو رہی ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پلازوں اور بازاروں سے کاروبار رول بیک کیے جا رہے ہیں ۔ یہی صورتحال صنعتوں کے حوالے سے ہے درآمدی مال سستا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹی انڈسٹری بند ہو رہی ہے ۔ بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے ۔
ملک میں سکڑتی ہوئی معاشی سر گرمیوں اور بڑھتے ہوئے خساروں کی ذمہ داری سابق حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ غیر پیدا واری اخراجات اور معاشی مفادات کے حصول کے تحت چلنے والی پالیسیوں نے اقتصادی بحران کو گھمبیر بنانے میں مدد دی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے اس معاشی بگاڑ میں بہتری کرنے کی بجائے اپوزیشن کی کرپشن اور بد عنوانی پر تنقید کر کے اپنی نا اہلیت کو چھپانے کی کوشش کی ہے ۔ تمام عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت آئندہ دو سال تک خراب رہے گی ۔مالی سال 2019میں شرح ترقی 3.4%اور سال2020میں2.7%جبکہ2021تک4%ہو سکتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2019میں جی ڈی پی کا خود مختار قرضہ 80%سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگا ، اگر پاکستان میں ہنگامی سٹرکچرل اصلاحات کی جائیں تو شرح نمو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مگر ہمارے حکمران ایسے کوئی اقدامات اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ براہ راست ٹیکس اور زرعی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگانا چاہتے ۔
ترسیلات زر تجارتی خسارے میں 70%زائد ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔ گزشتہ6ماہ کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں خاصی کمی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کے پیکج کیلئے مذاکرات جاری ہیں ۔پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی ہے۔ 2005سے2018تک پاکستان کی برآمدات 46%اضافہ ہوا تھا جو کہ16ارب ڈالر سے بڑھ کر 23ارب تک پہنچ گئی تھیں جبکہ بنگلہ دیش میں یہ اضافہ 286%ویتنام 563%بھارت میں193%ہے ۔پاکستان میں مسابقتی عمل کے متاثر ہونے کی وجوہات میں مہنگا کاروبار ، مہنگی بجلی، مالیات تک مشکل رسائی، شرح سود میں اضافہ کی وجہ سے تجارتی اور صنعتی قرضوں کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے ۔
ساؤتھ ایشیا اکنامک فورم کی رپوٹ کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والا خطہ ہے ۔عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے مطابق پاکستان میں اقتصاد ی بڑھوتی کا عمل آگے بڑھانا ہوگا ، جس کیلئے پاکستان میں ضابطہ جاتی تجارتی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ اشرافیہ کی سیاسی ترجیحات کے بر عکس معیشت کی بحالی کیلئے سخت انتظامات کرنے ہوں گے۔ لوگوں کو روٹی کم کھانے کی ہدایت کرنے کی بجائے اپنی چھپائی اور لوٹی ہوئی دولت کو کاروباری منڈی میں لانا ہوگا ۔جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والے اداروں کا قیام انسانی سرمایہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کوئی ملک محض کرپشن کے خلاف نعروں اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے خوشحال پیدا واری سماج کی تعمیر نہیں کر سکتا ہے۔ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی سے خوشحالی اور معاشی اخراجات کے اہداف پورے نہیں ہو سکتے ۔ آج سابق حکومتوں کے قرضوں اور استعمال کے بارے میں حکومتی راہنماؤں کی طرف سے بیانات دیئے جا رہے ہیں ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے جس ملک کی آمدنی سے اخراجات زیادہ ہوں وہاں قرضے لینا نا گزیر ہو جاتا ہے ۔ ملک میں صرف دو سیاسی خاندانوں نے کرپشن نہیں کی ہے نہ ہی وہ اقتصادی بد حالی کے ذمہ دار ہیں۔ اس میں ماضی کی حکومتو ں کے سیاسی مفادات کے حصول کی پالیسیاں پولیٹیکل اکانومی ، مالی بد عنوانی نا اہلیاں ، اشرافیہ کا باہمی گھٹ جوڑ، غیر پیدا واری نظام معیشت اور قرضوں کی لوٹ کھسوٹ شامل ہے۔ سابق سیاسی ادوار میں وہ طبقات بھی شامل ہیں جس کہ ہر دور میں اقتدار کا حصہ ہوتا ہے۔ مگر ان تمام کے احتساب کے بارے میں سوچا نہیں جا رہا ۔ بلکہ مخالفین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
موجودہ حکومت ایمنسٹی سکیم کی مخالف رہی ہے۔ اب نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے کے بارے میں سوچ رہی ہے ۔ملک میں کاروبار ٹھپ ہو چکا ہے رئیل اسٹیٹ جس کا تعلق براہ راست چالیس دیگر شعبہ جات سے ہے اس میں کوئی بڑے لین دین نہیں ہو رہے ۔ حکومت کو سرمایہ داروں کو ہراساں کرنے کی بجائے ان کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔ دنیا میں بینکنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات کی وجہ سے پاکستانی سرمایہ کاروں کیلئے بیرون ملک سرمایہ رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ لا کر اس کو قانونی شکل دے دی ہے وہ سب سے زیادہ محفوظ ہیں ۔ ایمنسٹی سکیم کے تحت ٹیکس نادہندگان ریگو لر ٹیکس ادا کرنے والوں کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ان سیکیموں سے ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ۔ملک میں ستر سالوں سے بے نامی اکاؤنٹس میں لین دین حقیقت ہے ۔اس وقت ہماری غیر دستاویزی معیشت کا حجم بڑھ چکا ہے جس کو نیٹ ورک میں لانے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تا کہ گھروں میں چھپا ہوا سرمایہ منڈی کی گردش میں آکر پیدا وار گرؤتھ میں اضافہ کا سبب بنے۔
ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے ریاستی اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہے، منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے نام پر سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کرنے کیلئے دیگر کالا دھن رکھنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات کرنے چاہئیں۔ کیونکہ ملک کے بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے ہم مزید اقتصادی بحران اور عالمی تنہائی سے دو چار ہو سکتے ہیں لہذا سیاسی انتشار کو ابھارنے کی بجائے معیشت کے سدھار کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔