پاکستان کی قومی پیدا وار اڑھائی فیصد تک گر سکتی ہے: آئی ایم ایف

  • بدھ 10 / اپریل / 2019
  • 5990

آئی ایم ایف نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی شرح نمو 2024 تک 2.5 فیصد تک رہنے کا اندیشہ ہے۔ اس میں بہتری کے لئے وسیع معاشی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ اس سے قبل عالمی بینک پاکستان میں 3.6 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کرچکا ہے۔ یہ دونوں اندازے حکومت کے تخمینہ اور ملک کی ضرورت سے کم ہیں۔

وزیر خزانہ اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹر فنڈ کے 3سالہ بیل آؤٹ پیکج پر حتمی گفتگو کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں جہاں عالمی مالیاتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پروگرام منظور نہ کیا گیا تو پاکستان کی شرح موجودہ اور آئندہ مالی سال بالترتیب 2.9 اور 2.8 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

روزنامہ ڈان کے مطابق اسد عمر کی سربراہی میں جانے والے وفد میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا، ڈویژن سیکریٹری معاشی امور نور احمد اور ان اداروں کے سینئر آفیشلز موجود ہیں جو 9 سے 14اپریل تک ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اسی کے دوران ملکی معیشت میں استحکام کے لیے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دیں گے۔

واشنگٹن روانگی سے قبل وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے مجوزہ پروگرام کو اس اجلاس کے دوران ہی حتمی شکل دی جائے گی جس کے بعد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن پاکستان کا دورہ کر کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔

تاہم آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کے بارے میں خوشگوار پیش گوئی نہیں کی ہے۔  اس ادارے کے مطابق پاکستان کو ادائیگیوں میں مسائل کا سامنا رہے گا اور  بیروزگاری کی شرح  میں بھی کمی نہیں ہوگی۔

حکومت آئی ایم ایف کو اپنے میکرو اکنامک اعدادوشمار کے ساتھ ساتھ استحکام اور شرح نمو کے حوالے سے حکمت عملی سے آگاہ کر چکی ہے جو اس پروگرام میں پاکستان کے معاشی منظرنامے کی بنیاد تصور کیے جا رہے ہیں۔