مسلح گروہوں کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں: عمران خان

  • بدھ 10 / اپریل / 2019
  • 6880

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں اور انتہا پسندوں کے خلاف جاری کارروائیاں ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں اور یہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثردرست نہیں کہ یہ کارروائیاں 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' (ایف اے ٹی ایف) کے دباؤ پر کی جارہی ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ معیشت کی بحالی کی جانب مرکوز ہے۔ پاکستان بلیک لسٹ ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ معاشی پابندیوں سے مشکلات مزید بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدامات کے تحت حکومت 30 ہزار مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور انتہا پسند سوچ رکھنے والے ہزاروں افراد کی بحالی پر کام کر رہی ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور عوام نے طے کرلیا ہے کہ کسی مسلح گروپ کو ملک میں پنپنے نہیں دیں گے۔ یہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی پر داخلی مزاحمت سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا اس معاملے پرحکومت، فوج اور آئی ایس آئی ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ان کے بقول 'افغان جہاد' ختم ہونے پر ہم نے ایسے مسلح گروہوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا جو ایک غلطی تھی۔

عمران خان نے منگل کو نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو بھی ایک انٹرویو دیا۔ اپنے انٹرویو میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کی راہ میں مسئلہ کشمیر بڑی رکاوٹ ہے۔ دو ایٹمی قوتوں کے پاس مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بھارتی حکومت اور عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ دونوں ممالک کی پہلی ترجیح غربت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے قبل ضروری ہے کہ ہم باہمی اختلافات ختم کریں اور یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔