تانیثیت مردوں کے لئے ہے خواتین کے لئے نہیں
- تحریر آبیناز جان علی
- بدھ 10 / اپریل / 2019
- 8330
حضرت عمرابن الخطاب ؑ ایک بار ہنستے ہنستے روپڑے۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ انہیں وہ دن یاد آیا جب وہ اپنی بیٹی کو دفنانے کے لئے زمین کھود رہے تھے اور ان کی بیٹی اپنے ابو کی داڑھی میں سے ریت صاف کر رہی تھی۔ عورت ہر روپ میں صرف پیار نچھاور کرنے والی ہوتی ہے لیکن شاید اسے کم سمجھا گیا ہو ۔اسلام کی آمد سے خواتین کو اتنی عزت ملی جتنی کہ اسے پہلے نصیب نہیں ہوئی تھی۔
عہدِ جاہلیہ میں لڑکیاں زندہ دفنائی جاتی تھیں۔ اس لئے قرآن نے سخت تاکید کی کہ قیامت کے دن اس لڑکی سے پوچھا جائے گاکہ تجھے کس گناہ میں مارا گیا۔ اسلام سے قبل خواتین کو کم قدرومنزلت دی جاتی تھی۔ وہ بیچی جاتی تھی اور اسے جائداد کا حق نہیں تھا۔ اسلام نے اسے دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی ہونے کا حق دیا اور اس کے لئے حقوق طے کئے۔ طلاق مانگنے کا حق دے کر بہتر زندگی کا حق دیا اور طلاق شدہ خواتین کو دوبارہ شادی کی اجازت دی اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کابھی حق دیا۔
ایک بچی جب پیدا ہوتی ہے تو اسے نازوں سے پالا جاتا ہے اور اس کے تحفظ پر پورا دھیان دیا جاتا ہے۔ گڑیا اور کھریلو کھلونے خرید کے دئے جاتے ہیں۔ فیس بک کی سی۔او۔او محترمہ شیریل سانڈبرگ کی کتاب ’لین این ‘میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ درج ہے جس میں ایک پانچ سال کی لڑکی اسکول سے واپس روتی ہوئی آتی ہے۔ ماں کے کئی بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ آج استانی نے پوچھا کہ بڑی ہوکر تم کیا بنو گی اس نے جواباًکہا : ’ میں خلاباز بننا چاہتی ہوں۔‘ ماں نے پھر کہا یہ اچھی بات ہے۔ پھر کیوں رو رہی ہو؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کلاس میں جس لڑکے کو وہ پسند کرتی ہے وہ بھی خلا باز بننا چاہتا ہے۔ تو ماں نے پھر دریافت کیا کہ اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔ پانچ سال کی لڑکی نے پھر اپنی تشویش پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ دونوں خلا میں چلے جائیں گے تو ان کے بچے کا خیال کون رکھے گا؟‘
یہ بات غور طلب ہے کہ ایک پانچ سال کے لڑکے کو یا ایک پچاس سال کے مرد کو یہ بات کم ہی پریشان کرتی ہوگی کہ جب وہ کام پر جاتے ہیں تو ان کے بچوں کا کون خیال رکھے گا۔ البتہ بپچن سے ہی یہ بات لڑکیوں کے ذہن میں ڈال دی جاتی ہے کہ انہیں اپنے بچوں کو ترجیح دینی ہے۔ میں نے ہمیشہ ثانوی اسکول کی ملازمت کو ترجیح دی ہے کیونکہ میرا ماننا ہے کہ جب میں اسکول میں رہوں گی تو میرے بچے اسکول میں ہوں گے اور جب میں گھر پر رہوں گی تو میرے بچے میرے ساتھ گھر پر رہیں گے۔ پھر میں نے خود کو یاد دلایا کہ میری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی میرے کوئی بچے ہیں۔ پھر یہ ذہنیت کہاں سے پیدا ہوئی؟
لڑکوں کو بچپن سے ملازمت کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو بچپن سے ازدواجی اور گھریلو ذمے داریوں کو پورا کرنے کے پند و نصائع دئے جاتے ہیں۔ چونکہ بچہ ماں کے دودھ کا محتاج رہتاہے اس کی پرورش کی ذمے داری ماں کی ہی مانی جاتی ہے۔ عصرِ حاضر میں تعلیم حاصل کرنا اور ملازمت کرنا بڑھتی ہوئی معیارِ زندگی کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ بیوی اگر نوکری کرے گی تو دونوں آرام دہ زندگی گزار پائیں گے۔ اسکولوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکیاں ابتدائی سے ثانوی سطح پر لڑکوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ لیکن یونیورسٹی اور ملازمت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی لڑکے ان پر سبقت لے جاتے ہیں۔ ملازمت کی چیلنج بھری زندگی کا سامنا کرنے کی تلقین انہیں بچپن سے ہی مل چکی تھی جبکہ لڑکیوں کا ذہن ازدواجی زندگی کے پیچ و خم میں مبذول تھا۔ ملازمت کا وقت آنے تک خواتین ملازمت کے لئے تیار نہیں ہو پاتیں اور انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیز لڑکیوں کو یہ نصیحت بھی دی جاتی ہے کہ اچھا رشتہ اور ازدواجی زندگی کی کامیابی اس کی حیات کا محور ہے۔ اس طرح لڑکیوں کے درمیان ایک مقابلہ سا بن جاتا ہے کہ بہتر رشتہ کس کو نصیب ہوگا اور خواتین کے درمیان وہ قربت اور رفاقت پیدا نہیں ہو پاتی جو مردوں کے درمیان عام طور پر دیکھی جاتی ہے۔
پھر بھی حالات بدل رہے ہیں۔ آج ایسے مرد بھی سامنے آرہے ہیں جو خواتین کا سہارا بن کر قدم قدم پر انہیں آگے بڑھنے کے لئے مشعلِ راہ بن رہے ہیں۔ ایسے والد، بھائی اور شوہر ہال میں بیٹھ کر اسٹیج پر کھڑی خاتون کے لئے تالی بجانے سے نہیں گھبراتے۔ میری نظر میں تانیثیت خواتین کے لئے نہیں بلکہ مردوں کے لئے ہے۔ وہ مرد جو خواتین کو اپنے مقاصد کے حصول کی خواہش پر انہیں پستی کی طرف ڈھکیلنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ آگے جانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ان میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔ کچھ مرد اور خواتین عورتوں کی کامیابی کو ازدواجی مسرت وطمانیت تک ہی دیکھ پاتے ہیں اور دوسری طرف کچھ مرد اور عورت ازدواجی ذمہ داری اور پیشہ وارانہ کامیابی میں بھی خواتین کو کامیاب دیکھنا معیوب نہیں سمجھتے۔
خواتین کو خواتین کا ساتھ دے کر ایک دوسرے کو آگے بڑھانے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارر لا کر دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑنے کی طرف راغب کرنا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آئے دن ایسی خبریں سرخیوں میں آرہی ہیں جہاں ایک خاتون نے گھریلو اذیتیں برداشت کرتے کرتے آخرکار شوہر کے ہاتھوں ہی دم توڑ کر دنیا کی تکلیفوں سے نجات پائی۔ ایسی خبریں جب عام ہوتی ہیں تو لوگ غصّہ سے تلملا کر کہہ دیتے ہیں کہ اگر شادی سے خوش نہیں تھی تو شوہر کا گھر کیوں نہیں چھوڑا؟ پھر ذرا خود کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچوں کی وجہ سے تمام تکلیفیں برداشت کرتی رہی۔
جس سماج اور خاندانی نظام میں خواتین کو بچپن سے یہ اپدیش دیا جاتا ہے کہ تیرا شوہر اور تیرا گھر ہی تیرا سب کچھ ہے اور چھوڑی ہوئی عورت کی کوئی قدر نہیں کرتا اور خود مختار اور اپنے حق کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے والی کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، وہاں ذہنی اور داخلی تصادم کی شکار خواتین کیا کریں؟ وہ کب تک فرسودہ رسومات کی زنجیروں کو توڑتی رہے گی اور پدرانہ نظام سے جوجھتی رہے گی؟ مجھ سے ایک بار کسی لڑکی نے کہا تھا کہ اس کی نانی نے اسے صاف صاف بتایا کہ جب تک تیری شادی نہیں ہوگی اس وقت تک تو میری بیٹی نہیں۔۔۔
میں ان مردوں کی قدر کرتی ہوں جو خواتین کی صلاحیتوں کو سراہتے ہیں اور ان کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ جب دنیا میں مرد اور عورت دونوں کی قدر کی جائے گی دنیا اسی وقت پرسکون بن پائے گی اور انسانی ترقی کی جانب پامال راستے اسی وقت بن پائیں گے۔