کتاب دوست افتخار مجازبھی چل دیے
- تحریر
- بدھ 10 / اپریل / 2019
- 6630
’لو جی، کتاب دوستی کی باتیں چل نکلی ہیں تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ میری ان دنوں پی ٹی وی لاہور اسٹیشن پر پوسٹنگ تھی، حالاتِ حاضرہ کا شعبہ میرے سپرد تھا۔مجھے ہیڈ آفس سے کرنٹ افیئرز کے ڈائریکٹر کا فون آیا۔ بولے، یہ نام اور فون لکھوا رہا ہوں۔ ان سے آپ نے خود رابطہ کرنا ہے اور ان کے انٹرویو کا انتظام کرنا ہے۔ خیال رہے بہت بااثر آدمی ہے اور کہلوایا بھی بہت اوپر سے ہے۔
خیر جی ، رابطہ ہوا اور میں شام کو ان کے دیے ہوئے ایڈریس پر پہنچ گیا۔ لاہور کینٹ میں پانچ چھہ کنال کا بہت بڑا سا گھر، درجن بھر ملازمین اور کوئی نصف درجن لش پش مختلف ماڈلز کی گاڑیاں۔ ملازم ڈرائینگ روم میں بٹھا کر اندر اطلاع کرنے چلا گیا۔ اس دوران میں نے ڈرائینگ روم پر طائرانہ نگاہ ڈالی۔ سلیقے اور ذوق کا باکمال مظہر تھا۔ایک کونے میں اردو انگریزی کی کتابوں پر مبنی ایک بڑی سی الماری تھی جس میں میر تقی میر، غالب،اقبال، فیض اور دیگر کئی مشہور شعراء کی کلیات اور دیوان ترتیب وار رکھے ہوئے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں میزبان کی کتاب دوستی اور ذوق کی داد دی۔ اتنے میں وہ صاحب بھی آگئے، رسمی سلام دعا کے بعد میں نے بے ساختہ ان کی کتاب دوستی اور ذوقِ مطالعہ کی تعریف کی۔
ایک خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے اس الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سارا میری وائف کا ذوق ہے۔ مجھے تو ان کے نام بھی شاید ڈھنگ سے معلوم نہیں۔ اس نے جب ڈرائینگ روم کی ڈیکوریشن فائنل کی تو اس نے خاصی محنت کرکے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسی کتابیں جمع کیں جو ڈرائینگ روم کی کلر اسکیم کے ساتھ میچ کرتی تھیں۔ ان کی یہ بات سن کر میں شرمندہ بھی ہوا اور دل ہی دل میں ان پر غصہ بھی آیا۔ لیکن بات یہ ہے جناب کہ کتاب دوستی اور کتابوں پراب ایسا ہی وقت ہے، جنہیں آسودگی میسر ہے انہیں ذوقِ مطالعہ میسر نہیں اور جن کے پاس ذوقِ مطالعہ ہے انہیں روزی روٹی سے ہی فراغت میسر نہیں۔ ہم ایسے کوئی خال خال ہی رہ گئے ہیں جو کتاب دوستی کا دم بھرتے ہیں اور ابھی تک اسی بھرم کے ساتھ جیتے ہیں ‘۔
یہ تھی لاہور کی علمی و ادبی محفلوں کی معروف شخصیت ، کتاب دوست، بذلہ سنج اور اپنی ذات میں انجمن افتخار مجاز۔ راوی کنارے شاہدرہ میں کھیلتے کودتے انہوں نے جوانی میں قدم رکھا، مالی تنگ دستی اگر نہ تھی تو بہت آسودگی بھی نہ تھی، ا س لئے گریجوئیشن کے دوران ہی مختلف اخبارات کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ پنجاب یونی ورسٹی سے صحافت میں ماسٹرز کیا اور کچھ عرصے بعد 80 کی دِہائی میں پی ٹی وی جائن کر لیا۔ ابتدا میں پبلک ریلیشنز اور بعد ازاں کرنٹ افیئرز کے شعبے ان کا مستقل مستقر ٹھہرے۔ریٹائرمنٹ سے قبل وہ پی ٹی وی لاہور میں کرنٹ افیئرز کے انچارج تھے۔ اسّی کی دِہائی سے لے کر ان کی 2014 میں ریٹائرمنٹ تک کے سیاسی اور میڈیا کے بہت سے واقعات کے شاہد تھے اور کچھ کے کردار بھی تھے۔ موقع محل پر پوری جزئیات سمیت اپنے مخصوص انداز میں واقعہ بیان کرتے تو پورا منظر گویا آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ۔ وقت اور حاضرین بہم ہوتے تو سنانے والا اور سننے والے تادیر حظ اٹھاتے۔
ان کے ساتھ کئی ایسی یاد گار محفلوں میں شرکت کا موقع ملا لیکن اب یہ موقع ہمیشہ کے لئے افتخار مجاز کے ساتھ پردہءِ مجاز میں گم ہو گیا۔ دل کا عارضہ تو انہیں پہلے سے تھا لیکن کوئی چھ ماہ قبل انہیں ایک اسٹروک نے بستر سے لگا دیا۔ گفتگو محدود اور حرکت محدود تر ہو گئی۔ بعد ازاں دل کا عا رضہ پھر سے لوٹ آیا۔ طبیعت قدر ے سنبھلی تو کئی ماہ کی فزیوتھراپی سے گفتگو اور چلنے پھرنے میں کچھ بہتری آگئی۔ اب وہ منتطر تھے کہ ڈاکٹر انہیں فِٹ قرار دے اور وہ دوست احباب سے محفل آرائی کا سلسلہ جاری کریں اور نئی کتابوں کی ورق گردانی کر سکیں۔ قضا کو لیکن کچھ اور ہی منظور تھا۔ یکے بعد دیگرے سب امراض عود کر آئے، تین چار دن تو انہوں نے امراض کا مقابلہ کیا لیکن پھر وہی ہوا جو ہم سب کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے یعنی اجل کا بلاوا آگیا۔
کتاب سے بہت گہرا تعلق تھا۔ ان کی کتاب دوستی کا شہرہ دور دور تک تھا ، ان کے پاس دور پار سے بہت سے لوگ، ان کے شناسا اور دوست اپنی نئی کتابیں انہیں اس لئے اہتمام سے پہنچاتے یا پیش کرتے کہ وہ ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جو کتابوں کے رسیا تھے۔ نہ صرف موصول ہونے والی اور خریدی ہوئی کتابیں پڑھتے، اکثر احباب کے ساتھ ان کتابوں پر تبصرہ بھی کرتے بلکہ بیشتر کتابوں پر کالم بھی لکھتے۔
افتخار مجاز اس اعتبار سے منفرد کالم نگار تھے کہ ان کے کالمز کے موضوعات عموماٌ اس زمانے کے پی ٹی وی سے متعلق واقعات، سیاسی، علمی و ادبی اور نئی شائع کتابوں سے متعلق ہوتے، ان موضو عات او ر روایت گوئی کی اپنی اس طرز کو وہ یادنگاری سے تعبیر کرتے۔ باعثِ افتخار اور باتوں باتوں میں کے عنوان سے دو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے کالم لکھتے۔ ہمارے سمیت بہت سے احباب گاہے گاہے مشورے دیتے کہ ان میں بیشتر کالمز اپنے عہد کی تصویر ہیں اس لئے انہیں کتابی صورت میں شائع کریں لیکن وہ اپنی کسرِ نفسی کا سہارا لے کر بات کا رخ کہیں اور موڑ دیتے۔
ان کی تحریر کی بے ساختگی اور سلاست کے دو نمونے ملاحظہ ہوں۔ ریٹائرمنٹ کے تجربے پر یوں رقمطراز ہوئے : ’ بڑھاپے میں یا ریٹائرمنٹ کے بعد عمومی طور پر زندگی اتنی اور اس قدر متحرک نہیں رہتی جس سے عملی زندگی عبارت ہوتی ہے۔ تاہم بڑھاپے اور ریٹائرمنٹ کی زندگی کا ایک اپنا مزہ، لطف اور decorum ہوتا ہے۔ جو لوگ اس عمر اور اس عہد کو پا لینے کے بعد زیست کے اِن دنوں کی حقیقت سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں، دیکھا گیا ہے کہ ان کی زندگی کا یہ دور بھی خوش گوار گزرتا ہے۔ بڑھاپے اور ریٹائرمنٹ کی زندگی کے ان دِنوں کا ایک بڑا سرمایہ اور متاع زندگی کی یادیں ہو تی ہیں‘۔
افتخار مجاز معروف شاعر، براڈ کاسٹر اور ہمہ جہت شخصیت اعزاز احمد آذر کے چھوٹے بھائی تھے ۔چند سال قبل بڑے بھائی کی وفات نے اندر سے انہیں بہت تنہا کر دیا تھا۔ ایک جگہ اس کرب اور تنہائی کے درد کا ذکر کچھ یوں کیا : ’ مجھے اعتراف ہے کہ آذر بھائی کی رحلت کے بعد ان کے احباب نے پہلے سے کہیں بڑھ کر برادرِکلاں کی طرح محبتوں سے میرے مشامِ جاں کو معطر رکھا ہے۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں آذر بھائی کی جدائی کے بعد مسلسل فراز کے اس شعر کی کیفیت میں رہتا ہوں:
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں اب کون ہے آنے والا
ان کے انتقال سے ایک ہفتہ قبل ہم خبر گیری کے لئے ان کے گھر گئے تو وہ ہشاش بشاش اور ایک بار پھر پراعتماد دکھائی دئے۔ دوستوں کے ساتھ اگلی محفل کا پروگرام بھی زیرِبحث رہا۔ واپسی پر انہوں نے تاریخِ فرشتہ کی دو جلدیں اور معروف ادیب، صحافی اور کالم نگار حمید اختر پر لکھی ایک کتاب مرحمت کی۔ پہلی دو عاریتاً اور تیسری تحفتاً۔ اس سے قبل پاکستان کے اوّلین سالوں کے معروف صحافی مولوی محمد سعید کی نایاب آپ بیتی آہنگ باز گشت انہوں نے ہری پور سے ایک اور کتاب دوست زاہد کاظمی سے منگوا کر دی۔ ملاقات میں تاخیر ہو تی تو عموماٌ میر تقی میر کایہ شعر پڑھتے جو گزشتہ ہفتے ان کی وفات کے بعد اب شایدان کے احباب کی ایک مستقل کیفیت کا اظہار ہے:
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف
عمر بھر اک ملاقات چلی جاتی ہے