سوڈان میں حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، صدر عمر البشیر زیر حراست، آئین معطل
- جمعرات 11 / اپریل / 2019
- 9140
تیس سال تک ملک پر حکومت چلانے والے سوڈان کے صدر عمر البشیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ملک کے وزیر دفاع عود ابن عوف نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ سوڈان کی فوج نے ملک کے انتظامی امور سنبھال لیے ہیں اور دو سال کے عرصے میں ملک میں انتقال اقتدار کے عمل کو مکمل کیا جائے گا جس کے بعد عام انتخابات منعقد ہوں گے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اس وقت ملک میں تین ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ 1989 سے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے صدر عمر البشیر کے خلاف سوڈان میں گزشتہ کئی ماہ سے مظاہرے ہو رہے تھے۔ وزیر دفاع عود ابن عوف نے کہا کہ سابق صدر کو 'محفوظ' مقام پر رکھاجائے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ملک کے آئین کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سوڈان کی سرحدیں اگلے اعلان کیے جانے تک بند ہیں جبکہ ملک کی فضائی حدود اگلے24 گھنٹے کے لیے بند کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر کے نام عالمی عدالت برائے جرائم کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا عالمی وارنٹ جاری کیا گیا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ وہ سوڈان کے علاقے دارفر میں جنگی جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔
اس سے قبل سوڈان کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا تھا کہ ملک کی مسلح افواج عنقریب اہم اعلان کرنے والی ہیں جس کے بعد ملک بھر میں صدر عمر البشیر کے خلاف فوجی بغاوت ہونے کی افواہیں زور پکڑ گئی تھیں۔ گزشتہ 30 سال سے برسرِ اقتدار عمر البشیر کے خلاف سوڈان میں گزشتہ کئی ماہ سے مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک درجنوں افراد مارے جاچکے ہیں۔ جمعرات کو ملک بھر میں اس وقت افواہوں کو بازار گرم ہوگیا جب سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ فوج جلد ہی ایک اہم اعلان کرے گی اور قوم اس اعلان کے لیے تیار رہے۔
سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر اس اعلان کے بعد سے قومی ترانے نشر ہو رہے ہیں جس کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ فوج نے صدر البشیر کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ سوڈان میں جاری سیاسی بحران گزشتہ ہفتے اس وقت شدید ہوگیا تھا جب ہزاروں مظاہرین نے دارالحکومت خرطوم میں وزارتِ دفاع اور مسلح افواج کے صدر دفتر کے باہر دھرنا دے دیا تھا۔
صدر بشار الاسد کی رہائش گاہ بھی وزارتِ دفاع کے اسی چار دیواری میں واقع ہے جہاں مظاہرین کئی روز سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ احتجاجی تحریک کے رہنماؤں نے فوج سے اپیل کی تھی کہ وہ صدر البشیر کے اقتدار کے خاتمے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مداخلت کرے۔
کمپاؤنڈ کے باہر منگل کو صورتِ حال اس وقت کشیدہ ہوگئی تھی جب بعض انٹیلی جنس اور سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی تھی جس پر فوجی اہلکار مظاہرین کو بچانے کے لیے میدان میں آگئے تھے۔ فوجیوں اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں 11 افراد مارے گئے تھے جن میں وزیرِ اطلاعات کے مطابق فوج کے چھ اہلکار بھی شامل تھے۔
منگل کو ہونے والی خونریزی کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد تاحال وزارتِ دفاع کے دفتر کے باہر موجود ہے۔ فوج کی جانب سے اہم اعلان کی اطلاع نشر ہونے کے بعد صدر کے خلاف احتجاجی مہم کی قیادت کرنے والی تنظیموں نے خرطوم اور گرد و نواح کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوراً دھرنے کے مقام پر پہنچیں۔
صدر عمر البشیر کے خلاف حالیہ احتجاجی تحریک کا آغاز گزشتہ سال 19 دسمبر کو اس وقت ہوا تھا جب حکومت نے روٹی کی قیمت میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے اس اعلان پر سوڈان کے شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے تھے اور اس کے بعد سے ملک بھر میں وقفے وقفے سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوگ صدر البشیر کے تین دہائی طویل اقتدار سے اکتائے ہوئے ہیں اور ملک کی خراب معاشی صورتِ حال اورایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوام میں پہلے سے ہی غصہ تھا جو مظاہروں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔