بھارت میں پانچ ہفتے طویل انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ شروع ہوگئی
- جمعرات 11 / اپریل / 2019
- 5600
بھارت میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اٹھارہ ریاستوں اور وفاق کے زیرِ انتظام دو علاقوں کے 91 حلقوں میں جمعرات کو عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
بھارت کے عام انتخابات سات مراحل میں ہوں گے۔ آخری مرحلے کے لیے پولنگ 19 مئی کو ہو گی جب کہ حتمی نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔ مجموعی طور پر 90 کروڑ ووٹرز انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندرمودی دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کی بنیاد داخلی سلامتی، قوم پرستی اور مسلح افواج کے وقار میں اضافے پر قائم ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عوام کے ساتھ پرکشش وعدے بھی کیے ہیں۔ پہلے مرحلے میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، مہاراشٹر، میزورم، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اڑیسہ، سکم، تلنگانہ، تری پورا، اترا کھنڈ، مغربی بنگال، جزیرہ انڈمان نکوبار اور لکش دیپ میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
نریندرمودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں متعدد چھوٹی بڑی جماعتیں میدان میں ہیں۔ لیکن ان کا اصل مقابلہ کانگریس کے ساتھ ہے۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے بھرپور انتخابی مہم چلا کر پارٹی کو متحرک کیا ہے۔ کچھ ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی جماعت کے خلاف انتخابی اتحاد بھی قائم کیا ہے۔
اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد ہے۔ جب کہ بہار میں کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور بعض دوسری چھوٹی جماعتیں مل کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ لیکن مہاراشٹر میں کانگریس اور نیشلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد قابلِ ذکر ہے۔
اپوزیشن جماعتیں، حکمران جماعت اور بالخصوص وزیرِ اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ وزیرِ اعظم نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ سالہ دورِ اقتدار میں رافیل جنگی طیارے کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی، نوٹ بندی، معیشت کو کمزور کرنے سمیت مہنگائی میں اضافے جیسے معاملات کے باعث نریندر مودی مکمل طورپر ناکام رہے ہیں۔
ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے انتخابات میں ایک ارب 30 کروڑ آبادی پر مشتمل بھارت میں ہزاروں سیاسی جماعتیں اور امیدوار لوک سبھا کی 543 نشستوں پر مدِ مقابل ہیں۔ اترپردیش سب سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ منتخب کرتا ہے جہاں کل 80 نشستیں ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں بی جے پی کو یہاں سے 73 نشستیں ملی تھیں۔
ریاست میں پہلے مرحلے میں آٹھ نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔ یہ تمام مغربی یو پی میں ہیں جہاں مایاوتی، اکھلیش اور اجیت سنگھ کا اتحاد بی جے پی کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ یہاں چھ نشستوں پر اپوزیشن اتحاد کی کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔