وکی لیکس کے بانی جولین اسانج ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار

  • جمعرات 11 / اپریل / 2019
  • 5680

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو 7 سال کی طویل سیاسی پناہ گزارنے کے بعد برطانیہ میں سفارتخانے سے گرفتار کرلیا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق جولین اسانج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے گرفتار کیا گیا۔

میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق وکی لیکس کے بانی کو سینٹرل لندن پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ ’جہاں وہ اس وقت تک رہیں گے جب تک انہیں جلد از جلد ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا‘۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ایکواڈور کی حکومت کی جانب سے سیاسی پناہ واپس لینے کے بعد سفارتکاروں  نے پولیس کو سفارتخانے میں بلایا تھا۔ وکی لیکس کے بانی جنسی زیادتی کیس میں سویڈن حوالگی سے بچنے کے لیے 7 سال سے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں مقیم تھے۔ تاہم ان کی سیاسی پناہ ختم کرنے کے اعلان پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے میں ناکام ہونے پر جولین اسانج کو گرفتار کیا گیا۔ ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد جولین اسانج کی سیاسی پناہ واپس لے لی گئی ہے۔

تاہم وکی لیکس کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ ایکواڈورنے ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر جولین اسانج کی سیاسی پناہ کو ختم کیا۔ برطانوی سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس نے وکی لیکس کے بانی کو گرفتار کرلیا ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ جولین اسانج پولیس کی حراست میں ہیں اور وہ برطانیہ میں انصاف کا سامنا کررہے ہیں‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’قانون سے کوئی بالاتر نہیں، میں تعاون پر ایکواڈور اور پیشہ وارانہ مہارت پر میٹ پولیس برطانیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔

47 سالہ جولین اسانج نے سفارتخانہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وکی لیکس کی سرگرمیوں کے لیے سوالات پر انہیں امریکہ منتقل کیا جاسکتا ہے۔

گرفتاری سے متعلق برطانوی وزیر خارجہ سر ایلن ڈنکن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ’دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات ہوئے ہیں‘۔ ایکواڈور کے صدر لینن مورینو کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے ایکواڈور کو ضمانت دی گئی کہ جولین اسانج کو اس ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا جہاں موت کی سزا ہو۔

لینن مورینو کا کہنا تھا کہ ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ہمارے بھرپور عزم کے تحت میں نے برطانیہ سے درخواست کی کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ جولین اسانج کو ایسے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا جہاں انہیں تشدد یا سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’برطانوی حکومت نے اپنے قوانین کے مطابق تحریری طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے‘۔