تحریک انصاف نے فیض آباد دھرنا کیس میں نظر ثانی کی درخواست دائر کردی
- جمعہ 12 / اپریل / 2019
- 7550
پاکستان تحریک انصاف نے 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے فیض آباد میں دیے گئے دھرنا کیس مین سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ درخواست میں فیصلہ سنانے والے جج پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ان کا نام نومبر 2017 کے دھرنے کے فیصلے سے نکالنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس دھرنے کی وجہ سے 20دن تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل ارشد داد نے اپنے وکیل بیرسٹر ظفر علی سید کے توسط سے جمع کروائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا جپ کہ اس مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے، درخواست گزار اور اس کے اراکین کے کردار کے حوالے سے تعصب رکھتے ہیں۔ اسی لئے اس معاملے میں 2014 کے دھرنے کا حوالہ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ میں سخت ریمارکس دیے تھے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے خلاف مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج کا فیصلہ یک طرفہ اور سخت تھا جس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جج متعصب اور جانبدار تھے۔ اس درخواست میں 1989 کے محمد اکرم شیخ کیس کا حوالہ دیا گیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج ایسے مقدمات کے بینچ میں بیٹھنے سے گریز کریں جس میں یہ معمولی گمان ہو کہ اسے جانبدار تصور کیا جا سکتا ہے۔
درخواست میں عدالتی قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار نے کہا کہ مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج سپریم کورٹ کے جج کے طور پر برقرار رہنے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اس ضابطے کے آرٹیکل3 کی خلاف ورزی کی جو یہ کہتا ہے کہ ججز کو ناراضی کے اظہار سے بلند تر ہونا چاہیے اور معاملات چاہے ذاتی ہو یا سرکاری، ججز کو اپنا رویہ ہر صورت میں کسی بھی معاملے میں نامناسب نہیں رکھنا چاہیے۔
درخواست میں کہا گیا کہ جس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ نامکمل معلومات پر مبنی رائے، اندازوں اور مفروضوں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی قسم کے حقائق پیش نہیں کیے گئے۔ یہ بات ایک راز ہے کہ کس بنیاد پر اس طرح کا فیصلہ دیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ کہ 6فروری کے فیصلے سے ان کا نام نکالا جائے۔ ایڈووکیٹ امان اللہ کنرانی کے ذریعے جمع کروائی گئی نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 6 فروری 2019 کے مشکوک حکم کے خلاف سول ریویو پٹیشن کو یہ اجازت دی جائے کہ انصاف کے مفاد میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے فیصلے کے پیرا 4 میں موجود درخواست گزار کا نام نکالا جائے۔
اس فیصلے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق، پی ٹی آئی علما ونگ اسلام آباد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شیخ حمید شیخ کے نام شامل تھے۔
درخواست میں شیخ رشید احمد نے موقف اختیار کیا کہ اگر اس فیصلے کے پیرا 4 سے ان کا نام نہ نکالا گیا تو اس سے ان کی زندگی اور ساکھ پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔
درخواست گزار نے کہا کہ اپنے پورے سیاسی کیریئر میں انہوں نے ملک میں امن و امان کو فروغ دیا اور کبھی بھی غیرقانونی اور منفی سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔