کوئٹہ میں ہزارہ پھر نشانے پر، دھماکے میں 20 افراد جاں بحق

  • جمعہ 12 / اپریل / 2019
  • 6560

کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکے سے 20 افراد جاں بحق اور 48 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ بلوچستان کے وزیرداخلہ ضیا اللہ لانگو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ تاہم جاں بحق افراد میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔

سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے وزیر داخلہ  کا کہنا تھا کہ منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سے قبل ڈپٹی جائے وقوع پر موجود انسپکٹر جنرل بلوچستان عبدالرزاق چیمہ نے بتایا تھا کہ دھماکے میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ہزارہ کمیونٹی کے افراد روزانہ یہاں سبزی لینے کے لیے قافلے کی شکل میں آتے ہیں جن کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پولیس اور ایف سی اہلکار بھی ہمراہ ہوتے ہیں۔

آج بھی وہ 11 گاڑیوں کے قافلے میں آئے جس میں 55 افراد سوار تھے اور معمول کے مطابق پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے انہیں منڈی میں پہنچا کر سبزی منڈی کے مرکزی دروازے اور اطراف میں پوزیشنز سنبھال لی تھیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق آلو کی دکان سے سامان گاڑیوں میں لوڈ کرتے ہوئے دھماکا ہوا۔  دھماکا خیز مواد آلو کی بوریوں میں چھپایا گیا تھا۔

دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ حتمی تحقیقات کے بعد ہی کہا جاسکتا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول تھا یا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ منڈی کے دروازے پر دھماکا خیز مواد چھپا کر پہلے بھی دھماکا کیا گیا تھا جس میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق دھماکا صبح سویرے ہوا اور اُس وقت منڈی میں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد پولیس، سیکیورٹی اور ریسکیو اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو خالی کروا کر لوگوں کی آمدو رفت پر پابندی لگادی جبکہ لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

حکام کے مطابق زخمیوں کو جائے وقوع سے قریب بولان میڈیکل کملیکس منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دینے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ خیال رہے کہ کوئٹہ کا علاقہ ہزار گنجی اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ دھماکوں کی زد میں رہ چکا ہے۔

صدر ملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ دھماکے میں قیمتی جانوں ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کا گھناؤنا فعل ہے جو ہمارے لیے بحیثیت قوم اس بات کی یاددہانی ہے کہ اس لعنت کے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے کام اب بھی باقی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی کوئٹہ دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کرلی ہے۔  اس کے ساتھ ہی زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یٰسین زئی، وزیراعلیٰ جام کمال خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے بھی دھماکے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

وزیراعلٰی بلوچستان جام کمال خان نے ہزار گنجی میں دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے شہداء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ شدت پسند سوچ کے حامل افراد معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ ماہ بھی 3 دھماکے ہوئے تھے جس میں 4 دہشت گردوں سمیت کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔