اس طرح تونہیں ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں!
- تحریر
- جمعہ 12 / اپریل / 2019
- 4590
ہاں ناں کا دراز سلسلہ بالآخر کسی ٹھکانے لگنے کو ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کے لئے واشنگٹن پہنچ چکے اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اندازہ ہے کہ اس ماہ کے آخر تک آئی ایم یف کے نئے پروگرام کے خدو خال تکمیل پا کر معاہدے کی صورت اختیار کر لیں گے۔ واشنگٹن روانگی سے قبل البتہ ہماری اقتصادی ٹیم سے میڈیا اور ملک میں بلا ارادہ ایک وقتی ہیجان کی سی فضا پیدا ہو گئی ۔ وزیر خزانہ نے معیشت کو آئی سی یو سے جنرل وارڈ میں شفٹ کرنے کی نوید سنائی تو تبصروں اور تاویلات کے کئی دفتر کھل گئے۔ وزیر تجارت نے اپنی حکومت کے دفاع میں یہ کہہ دیا کہ ان کی پارٹی کی ہوشیار قیادت نہ ہوتی تو ملک کنگال ہو جاتا۔ اپنے تئیں صاف گوئی کی ان معصوم کوشششوں نے حصص مارکیٹس سمیت سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
اسٹاک مارکیٹ کے قدم ہی پہلے لڑ کھڑا رہے تھے ۔رواں ہفتے بدھ والے دن مارکیٹ انڈکس ایک ہی دن میں ساڑھے پانچ سو پوائنٹ گری اور یوں 2016 کے لیول پر جا رکی۔ اسٹاک مارکیٹ میں بقول شخصے ’ بلڈباتھ‘ کی ایک وجہ تو مالیاتی مسائل اور بے یقینی کا تسلسل تھا، دوسری وجہ یہ کہ اس ہفتے ایک کے بعد ایک عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس جاری ہوئیں جن میں پاکستان کے اقتصادی مسائل پر چھائے گہرے سائے مزید گہرے ہونے کی تصدیق اور مزید اندیشے تھے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک، ورلڈ بنک اور پھر آئی ایم ایف، یوں لگا جیسے یہ ادارے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے معاشی مسقبل کی پیش بینی میں ان میں زیادہ مایوس کن خبر کون دے گا۔
چند ہفتے قبل اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جائزہ رپورٹ میں قیامت کے اس سامان کی نشاندہی کر دی گئی تھی کہ معاشی شرح نمو رواں سال بمشکل ساڑھے تین فی صد ہو گی۔ ورلڈ بنک نے اس شرح کو مزید کم کرتے ہوئے اپنا تخمینہ 3.4% دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اگلے دو سالوں میں شرح نمو تین فی صد سے بھی کم ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے اعداد و شمار اس ہفتے جاری کر دئے گئے ہیں۔ اچھی خبر یہ کہ تجارتی خسارہ کچھ قابو میں آیا ہے، درآمدات میں کمی آئی لیکن روپے کی قدر میں اندھا دھند کمی کے باوجود برآمدات میں صرف 1% کا’ خاطر خواہ‘ اضافہ ہو سکا۔
بیرونی امداد کے کچھ وعدے وعید ادھر ادھر سرک گئے جس وجہ سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ ہے۔ ایسے میں سرمایہ کاروں کو ڈالر میں کشش نظر آئی تو ڈالر نے راتوں رات 148 تک اڑان بھر لی۔ مالیاتی حلقوں میں ایک بار پھر ہیجان برپا ہو گیا۔ وزیرخزانہ ایک بار پھر وضاحتیں دیتے رہے کہ اب روپے کی جو قدر ہے وہ حقییقی ہے، مزید بے قدر ی کی ضرورت ہی نہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ اپنا سرمایہ ضائع نہ کریں اور ڈالر کے پیچھے خوار نہ ہوں۔ ا س کے ساتھ ہی حکومت نے ایف آئی اے کو حرکت کا اشارہ دے دیا۔ دو چار چھاپوں کی خواری کے بعد ہی سٹّے باز سکون سے بیٹھ گئے اور روپے ڈالر کی قدر کا پہلا سا لیول بحال ہو گیا لیکن اس ساری مارا ماری میں معیشت میں پیدا بے یقینی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوا۔
ایک زمانہ تھا کہ موسم ایک ایسا موضوع تھا جس پر ہر خاص و عام کھل کر تبصرہ آرائی کرتا۔ پھر حالات نے سہولت فراہم کی اور سیاست کے موضوع نے بھی ایسے ہی قبولِ عام کا درجہ پا لیا۔ ہر ہما شما اپنی اپنی پسندیدگی اور غصے کے مطابق اب سیاست پر ماہر ہے اور دلائل اور دشنام کے کشتوں کے پشتے لگا سکتا ہے۔ ایک دو موضوعات کی دستیابی میں البتہ کچھ وقت کے بعد بوریت سی ہو جاتی ہے بالخصوص میڈیا پر ایک دو موضوعات پر چابک برساتے رہنے سے ریٹنگ ادھ موئی ہونے لگتی ہے۔
قدرت بڑی مہربان اور مسبّب الاسباب ہے، معیشت جو کبھی ایک خاص موضوع سمجھا جاتا تھا اب حالات اور ریٹنگ کی ضرورت نے اسے ابھی موسم اور سیاست کی طرح آسان بنا دیا ہے۔ سو اب ہر خاص و عام معیشت کا ماہر ہے۔ کچھ اعداد و شمار یاد ہوں تو بہتر ورنہ اپنے اپنے سیاسی میلان کے مطابق تبصرہ کرنا کبھی اتنا آسان نہ تھا۔ حکومتی پارٹی سے ہمدردی ہے تو گزشتہ حکومتوں پر ملبہ کہ معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا، بیرونی قرضے جیب میں ڈال ملک کو مقروض کر دیا، درآمدات کیوں زیادہ ہونے دیں؟ برآمدات کیوں نہیں بڑھائیں؟ ٹیکس وصولیاں کیوں کم رہیں ؟ انہوں نے قومی دولت لوٹ لی ہے، یہ لوٹی دولت آج واپس کر دیں تو ملک کے دلدر دور ہو جائیں۔ ان کا احتساب شروع ہوا ہے تو ان کی چیخیں نکل رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دوسری جانب اگر سیاسی میلان اپوزیشن میں سے کسی پارٹی سے ہو تو بھی جارحانہ پن اور تنقید کی شدت وہی رہتی ہے صرف سوالات کی ترتیب کچھ ادل بدل ہو جاتی ہے، ہم نے تو اتنا برا حال نہ کیا تھا، ہمیں بھی مشکلات ورثے میں ملیں لیکن ہم نے جیسے تیسے استحکام حاصل کر لیا۔ ہم نے تو آتے ہی آئی ایم ایف کو رام کر لیا تھا ، ان کو تو معاملات کی کچھ سمجھ ہی نہیں، اب دیکھیں ناں پچھلے نو ماہ میں اتنے ہزار ارب روپے نئے قرضے لئے گئے کہ تاریخ میں اتنی کم مدت میں کسی نے نہ لئے اور اس پر طرہ یہ کہ معیشت کا پہیّہ کا جام ہو گیا ہے، بے روزگاری بڑھ گئی ہے، لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ اس پر تماشا کہ گیس اور بجلی کے بل اتنے بڑھے ہیں لوگ بلبلا اٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
معیشت پر نقد و نظر یوں سیاسی تعصب کا شکار ہوئی ہے کہ اب مکالمہ اور بامعنی گفتگو مشکل سی ہو رہی ہے۔ اس پورے ماحول میں صبر کا دامن ہے کہ چھوٹ چھوٹ جاتا ہے۔ ہاتھوں پہ سرسوں کبھی جمی نہ شاید کبھی جمے تاآنکہ سائنس کوئی انسٹنٹ فارمولا ایجاد کردے لیکن نقاد ہیں کہ نو ماہ میں سرسوں کے کھیت حاضر نہ پا کر بے چین اور اضطراب میں ہیں۔ مان لیا کہ گزشتہ حکومتوں سے بھی کوتاہیاں ہوئی ہوں گی بلکہ یقیناًبہت سے ہوئیں لیکن موجودہ حکومت تو آئی ہی اقتدار میں ان کوتاہیوں سے پیدا ہونے والے خلا کی وجہ سے۔ گزشتہ حکومتوں پر تنقیدسیاسی ضرورت سہی لیکن ایک حد تک، اب اس حکومت کو آئے ہوئے نو ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ اس کی فیصلہ سازی اور تدبر کے جوہر کچھ سامنے آ چکے اور کچھ ہر آنے والے دن مزید کھل رہے ہیں۔ تدبر اور فراست کے بھرم مشکل فیصلوں کے ہاتھوں پرکھے جا رہے ہیں۔ اعتماد سازی پیدا کرنے اور بے یقینی دور کرنے کے لئے جس طرح کی خود اعتمادی، ٹھہراؤ اور زبان پر کنٹرول درکار ہوتا ہے اس کا بھرم بھی ہر آئے روز کھل رہا ہے۔ اب حکومت پر اپنے نوماہی اقتدار کے دوران کارکردگی اور معاملہ فہمی کا بوجھ جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ حکومتوں پر ہونے والی تنقید ابتدائے حکومت میں کچھ اثر رکھتی تھی لیکن اب اقتدار کا بوجھ یعنی Incumberence ہر آنے والے دن حاوی ہو رہا ہے۔ اب سوال کرنے کے ساتھ ساتھ جواب کا تقاضا مسلط ہو رہا ہے۔
حکومت کی اب تک کی گئی تدابیر کی خیر ہو لیکن اب تغافل کی گنجائش ہے نہ بے دھیانی سے کلام کرنے کی۔ امید فاضلی کا ایک حسبِ حال شعر لمحہ موجود کا خلاصہ ہے:
جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائے
بند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہے