افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات نہ کروانے پر عالمی عدالت پر تنقید
- ہفتہ 13 / اپریل / 2019
- 9210
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان میں امریکی فوج کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی اجازت نہ دینے پر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ فیصلہ حیران کن اور متاثرین کو تنہا چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔
ایمنسٹی کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر براج پاٹک کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا ناکافی بجٹ اور افغانستان حکومت کی جانب سےتعاون فراہم نہ کرنے کے فیصلے کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس افسوسناک فیصلے کو امریکہ کی دھمکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے چیف پراسیکیوٹر کا ویزا روک لیا تھا۔
بین الاقوامی عدالت انصاف یا آئی سی سی ججوں نےجمعے کے روز عدالت کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جنگی جرائم اور تنازع سے منسلک امریکی فورسز کے مبینہ جرائم کے بارے میں تفتیش دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
عدالت کے ایک بیان میں ججوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی تفتیش انصاف کے مفادات حاصل نہیں کر پائے گی اور یہ پراسیکیوشن امکانی طور پر کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ امریکی اور افغان عہدے داروں اور طالبان سے، جنہیں درخواست میں ہدف بنایا گیا ہے، تعاون کی توقع نہیں ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان متاثرین کے لیے ایک زبردست دھچکا ہے جو بلا کسی داد رسی کے سنگین جرائم کا نشانہ بن چکے ہیں۔