آئی ایم ایف سے تمام معاملات طے پا گئے: اسد عمر

  • ہفتہ 13 / اپریل / 2019
  • 6280

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے تمام معاملات پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے۔ آئندہ ایک دو روز میں بقیہ امور بھی طے کر لیے جائیں گے جس کے بعد تکنیکی امور طے کرنے کے لیے چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان جائے گا۔

واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے الیکشن ہی معاشی نظام میں بنیادی اصلاحات کے نام پر لڑا تھا اور ہم یہ بنیادی اصلاحات آئی ایم ایف کی ایما پر نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں کے توازن کی صورت حال  سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کرنا پڑے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔ لیکن یہ اقدامات زیادہ تر اٹھائے جا چکے ہیں، اس کے بعد بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے کام کیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم نے فوری طور پر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کیا کیونکہ ان کی تجاویز پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر نہیں تھیں اور ہم نے دیگر آپشن تلاش کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن کہتے ہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا یہ کہنا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ معیشت کی بہتری کے لیے ہے، قرضوں کی ادائیگی کے لئے نہیں، غلط ہے۔ کیونکہ اب بھی بجٹ خسارہ اتنا زیادہ ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف سے حاصل کردہ رقم بھی قرضوں کی ادائیگیوں پر ہی خرچ کرنا ہو گی۔

ڈاکٹر شاہد حسن نے بتایا کہ ’ ہمارا اس سال  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ خطرے کے نشان پر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بھی پاکستان بحرانی کیفیت میں ہے۔ اور ادائیگیوں کے توازن کے لیے ہی قرضہ لینا ہے۔ اسد عمر کی بات صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر دوستوں سے قرضے لیے ہیں۔ وہ ایک سال کے لیے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک سال کے بعد اس کی تجدید نہ کریں۔ بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات، جس کا نئی حکومت نے وعدہ کیا تھا، وہ اب تک نہیں کی گئیں۔ جائیداد پر ٹیکس اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لئے اقدامات نہیں ہوئے تو پھر یہ قرضہ سوائے قرضوں کی ادائیگیوں کے اور کس لیے ہو سکتا ہے’؟

تاہم اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت نزاعی صورت حال سے نکل چکی ہے اور استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 12 سے 18 مہینوں میں یہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے گی۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی بیشتر شرائط پر عملدرآمد کر چکے ہیں لیکن اس ادارے کا شریک چیئرپرسن بھارتی نمائندہ ہے اور بھارت پہلے ہی کہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کے لئے ہر ممکن وسائل استعمال کرے گا۔ پاکستان نے اس حوالے سے اپنے تحفظات اظہار کردیا ہے لیکن ادارے کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا