بلوچستان: ہزار گنجی دھماکے کے خلاف دھرنا جاری، مظاہرین کا لانگ مارچ کا اعلان
- ہفتہ 13 / اپریل / 2019
- 5900
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دہشت گرد حملے کے خلاف ہزارہ قبیلے کے افراد کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔ حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گی۔
ہزار گنجی میں حملہ جمعہ کو اس وقت پیش آیا جب ہزارہ قبیلے کے پھل اور سبزی فروش وہاں خریداری کے لیے گئے تھے۔ اس واقعہ میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ سانحہ کے بعد ہزارہ قبیلے کے افراد اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا اور مغربی بائی پاس پر ہزارہ ٹاؤن کے قریب دھرنا دیا جو اب بھی جاری ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس دھرنے کو ختم کروانے کے لیے مغربی بائی پاس جا کر شرکا سے ملاقات کی لیکن انہوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جلیلہ حیدر نے ہزار گنجی میں پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے محنت کش طبقے کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ سال ان واقعات کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے فی الفور کاروائی کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ایک سال تک ہم نے ریلیف محسوس کیا لیکن ہزار گنجی کے واقعے نے پورے سال کی کسر پوری کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی سے تنگ آ چکے ہیں۔ حکومت بے اختیار ہے ہم اس سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اسلام آباد جائیں گے اور پاکستان کی ہر گلی اور کوچے سے گزر کر یہ بتائیں گے کہ ہم کون ہیں اور ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔؟‘