فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے: چیف جسٹس
- ہفتہ 13 / اپریل / 2019
- 6680
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ جبکہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں، بار میں وکلا مجھے اور ساتھی ججز کو جنون گروپ کہتے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ عدلیہ کی طرح پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی انصاف کے شعبے میں بہتری کے لیے ذمہ داری لینا ہوگی۔
مقدمات کے التوا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کے لیے کئی تجربات کیے گئے۔ کبھی قانون میں ترمیم تو کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی۔ لیکن ججز کو ڈو مور کا نہیں کہا جاسکتا۔ ہمارے ججز جتنا کام کر رہے ہیں، اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر 3 ہزار ججز ہیں۔ گزشتہ سال عدلیہ نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے جبکہ ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے۔
غیر ملکی عدالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹاتی ہے جبکہ برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ سالانہ 100 مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 26 ہزار مقدمات نمٹائے۔ اس کے باوجود فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کو کم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ فوجداری کیس کی تحقیقات 2 ہفتے میں مکمل ہوں، 2 ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے۔ چالان جمع ہونے کے بعد عدالت کا کام ہے کیس کا شیڈول بنائے۔ برطانیہ میں آج بھی کیس دائر کریں تو سال بعد کی تاریخ ملتی ہے۔ برطانیہ میں جب کیس لگ جائے تو پھر التوا نہیں دیا جاتا، ٹرائل کورٹ میں التوا کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔
ماڈل کورٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالتیں مشن کے تحت قائم کی گئی تھیں۔ ماڈل عدالتوں کا مقصد التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا اور عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے کیونکہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان عدالتوں میں گواہان پیش کرنے میں پولیس کا تعاون مثالی ہے۔ پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کرکے چالان پیش کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی قیدیوں کو لانے والی پولیس وینز کا باقاعدہ انتظام کرنا چاہیے۔ ملزمان کی عدالت میں حاضری یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے فوری انصاف کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی۔ تاہم اب مقدمات کا التوا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم نے کوئی قانون تبدیل کیا ہے نہ ضابطہ کار، مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والوں کو سلیوٹ کرتا ہوں۔