صدر ٹرمپ نے یمن جنگ کے خلاف کانگریس کا بل ویٹو کردیا
- بدھ 17 / اپریل / 2019
- 5980
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی جنگ میں امریکہ کی شرکت کے خلاف کانگریس کا منظور کردہ مسودہ قانون ویٹو کردیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان نے اس ماہ وائٹ ہاؤس کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے یمن میں جاری جنگ میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کی معاونت ختم کرنے کا بِل منظور کیا تھا۔ ایوانِ نمائندگان سے قبل سینیٹ نے بھی اسی نوعیت کا ایک بِل کثرتِ رائے سے منظور کیا تھا۔ مذکورہ بِل 1973 کے 'وار پاور ایکٹ' کے تحت منظور کیا گیا تھا جس کے تحت امریکی صدر بیرونِ ملک کسی تنازع میں امریکی فوج کو استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی اجازت کے پابند ہیں۔
امریکہ کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے اس قانون کا استعمال کیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس پہلے ہی واضح کرچکا تھا کہ صدر ٹرمپ اس قانون کو ویٹو کردیں گے کیوں کہ اس سے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔
صدر نے وائٹ ہاؤس کے انتباہ کے عین مطابق بدھ کو مجوزہ قانون ویٹو کردیا۔ کانگریس کے پاس صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے حامیوں کے پاس ویٹو غیر موثر کرنے کے لیے درکار اکثریت نہیں ہے۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس سے جاری حکم نامے میں صدر نے ویٹو کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کانگریس کی قرارداد غیر ضروری اور صدر کے آئینی اختیارات کو کمزور کرنے کی خطرناک کوشش ہے۔ صدر نے مزید لکھا ہے کہ کانگریس کے اس بِل کے نتیجے میں امریکی شہریوں اور فوجیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوں گی۔
ڈیموکریٹس اور یمن جنگ کے مخالف ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں امریکہ کے تیار کردہ میزائل اور اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو عام شہریوں کی جانیں لینے کا سبب بن رہا ہے۔
عالمی برادری یمن میں سعودی اتحاد کی بمباری میں بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت اور اسپتالوں، اسکولوں اور شہری املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتی آئی ہے۔