پاکستانی معیشت خطے کی معاشی ترقی پر بوجھ بن جائے گی: آئی ایم ایف

  • بدھ 17 / اپریل / 2019
  • 7170

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ  کے محکمہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت مستقبل میں بڑے پیمانے پر سست روی کا شکار ہوگی اور یہ خطے کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح پر بوجھ بن جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان  کے معاشی منظر نامے کے حوالے سے عالمی معاشی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مذکورہ خطوں میں پالیسی سازی کی کوششیں تیز تر کی جائیں۔ اس خطے کے تیل کے درآمد کنندگان کے لیے شرح نمو 2018 میں 4.2 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 3.6 فیصد تک ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ کمزور عالمی معاشی ماحول ہے۔

جہاد آزور نے کہا کہ تیل درآمد کرنے والے متعدد ممالک کے لیے قرض کی بڑھتی ہوئی شرح بڑے پیمانے پر اقتصادی استحکام کیلئے چیلنج بن چکی ہے اور بھاری قرض کے سبب صحت، تعلیم، انفرا اسٹرکچر اور سماجی پروگراموں میں اہم سرمایہ کاری کے لیے مالیاتی امکانات محدود ہوگئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ بجٹ پر پڑنے والا یہ دباؤ اصلاحات کے علاوہ  شرح نمو میں تیزی سے اضافے کا متقاضی ہے۔  ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے کاروباری ماحول اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جائے اور مزدوروں کے لیے مارکیٹ میں لچک اور مارکیٹ میں مسابقت کو مضبوط کیا جا سکے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے ڈائریکٹر کے مطابق سست ہوتی عالمی معاشی شرح نمو اور تجارت کے ساتھ ساتھ عالمی سیاسی تناؤ اور دیگر بیرونی دھچکوں کے سبب اس خطے کو معاشی طور پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ فوری طور پر ایسی اصلاحات پر عمل کیا جائے جن سے اقتصادی لچک اور محفوظ مجموعی شرح نمو حاصل کی جا سکے۔

ایک رپورٹ میں آئی ایم ایف نے بڑھتے ہوئے عالمی قرض پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی قرض اب 164 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 225 فیصد ہے اور خبردار کیا کہ دنیا بھر کے عوام اور نجی شعبے 2008 کے مالیاتی بحران کے مقابلے میں زیادہ قرض میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ اس وقت عالمی قرض اپنی بلند ترین شرح پر تھا جو مجموعی جی ڈی پی کا 213 فیصد تھا۔

عالمی قرضوں میں اضافے کی وجہ تیزی سے ترقی کرتی معییشتیں  بھی ہیں لیکن گزشتہ دس سال میں چین جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقتیں بھی اس اضافے کی ذمے دار ہیں۔  2007 سے اب تک صرف چین عالمی قرض میں کل 43فیصد اضافے کی وجہ بنا۔