فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے فوج کے حوصلے پست ہوئے: نظر ثانی اپیل

  • بدھ 17 / اپریل / 2019
  • 17610

وزارت دفاع نے فیض آباد دھرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے چھ فروری کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ سے فوج اور اس کے خفیہ اداروں سے متعلق فیصلے میں لکھی جانے والی سطروں کو واپس لینے کی درخواست کی گئی ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پاکستانی فوج کے حوصلے پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ اگر اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو انڈیا سمیت ملک دشمن عناصر کو فوج کے خلاف جھوٹا پروپگینڈا کرنے کا موقع ملے گا۔

اٹارنی جنرل کے توسط سے وزارتِ دفاع کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ افواج پاکستان اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں افواج پاکستان کے سربراہان کو جو ہدایات دی ہیں وہ مبہم اور غیر واضح ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔

یاد رہے کے چند روز قبل حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائرکی تھی جس میں  سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے کے خلاف سنائے گئے ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل میں فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا ذکر کر کے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کی نظرثانی کی اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مسلح افواج کے کسی اہلکار کے ملوث ہونے یا اس کی نشاندہی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔  اپیل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی افواج میں حلف کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ حلف کی خلاف ورزی ایک سنگین الزام ہے جسے سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

نظرثانی کی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ٹھوس شواہد کے بغیر نامعلوم افراد کے خلاف حلف کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ فوج فیض آباد دھرنے میں ملوث ہے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

نظرثانی کی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی فیض آباد دھرنے میں ملوث تھی۔ اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں دی گئی آبزرویشن کی بنیاد اخباری خبریں اور مفروضے ہیں۔

اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصلے میں فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں  جج صاحبان کی طرف سے دی گئی  آبزرویشنز کو حذف کیا جائے۔