مصر ميں شمِ نسيم تہوار

مصر ايك ثقافتى ملک ہے- يہاں ہر سال بے شمار ثقافتى تہوار منائے جاتے ہيں- ان تہواروں ميں شم نسيم بھی ایک اہم تہوار ہے- يہ تہوار  قديم مصرى تہذيب كا ہے جو فرعون كے دور سے لے كر اب تك منايا جاتا ہےاور موجودہ دور میں یہ عوامى تہوار بن گيا ہے-

شم نسیم موسمِ بہار  میں زیادہ تر مصرى قبطی اور مسلمان مناتے ہیں- یہ تہوارمصريوں كے سوا كوئى اور نہيں مناتا- اس دن پورے ملك ميں تعطيل ہوتى ہے-  اس تہوار میں لوگ اپنے دوست احباب كو گھر بلاتے ہيں اور  بہت سارے لوگ سيروتفريح كے ليےباغات اور تفريح گاہوں کا رخ کرتے ہيں- شم نسیم تہوار کے موقع پر خاص قسم كے كھانے كا انتظام كيا جاتا ہے۔ان پکوانوں میں انڈے، رنكہ مچھلى، نمكدانى مچھلياں اور پياز کو خاص طور پر پکایا جاتا ہے جواس دن كا خاص كھانا ہوتاہے –

قديم مصرى اب بھی اسے اپنے طور پر مناتے تھے- لوگ كشتيوں پر سوار ہوتے ہیں اور دريائے نيل نغموں سے ترنم پیدا کرتے اورلوگوں کو لبھاتے ہیں۔

اس دن لوگ اپنے گھروں كو پھولوں سے سجاتے ہیں اوررنگا رنگ ملبوسات  پہنتے  ہیں- فرعون کے زمانے كے تہواروں کے فلكيات كامظاہرہ  اور فطرت كے پہلوؤں كے ساتھ ان كے تعلقات سے بہت گہرا رشتہ ہے ۔اس ليے فرعون قديم مصرى مہينے برہمات25 كو موسمِ بہار كےتہوار  كو مناتے تھے-  اسی دن برجِ ِحمل ميں سورج  آتا ہے  اور  دن اور رات دونوں عين 12 گھنٹے كے ہوتے ہيں- وه مانتے تھے كہ يہ دن ، جيسا كہ ان كى مقدس كتاب ميں بتايا گيا ہے، دنيا كى تخليق كا آغاز ہے- اس كے علاوه اس دن لوگ غروبِ آفتاب كے وقت ہرم شمال كى سمت ميں جایا كرتے تھےتاكہ غروب آفتاب ديكھ سکیں۔ كيونكہ اس دن عجيب و غریب واقعہ رونما ہوتا تھا اور سورج ہرم كى اونچائی پر كھڑا دکھائی دیتا تھا- يہ منظر اب تك دیکھا جاتا ہے-

 فرعون نے اس تہوار كا نام "شموش كا تہوار" ركھا تھا  جس كا مطلب  “زندگى كا بعث “ہے- وقت كے ساتھ ساتھ اور خاص طور پر قبطى زمانے ميں  اس کانام تبديل ہو كر "شم"ركھا گيا اور  اس ميں نسيم کالفظ شامل کیا گیا- جو  تازه ہوا سے مناسبت رکھتا  ہے اورموسمِ بہار كى آمدكا اعلان ہے-

 فرعون اور ملك كے بڑے سياست داں اس تہوار ميں شامل ہوتے تھے- فرعون كے دور سے”شم نسيم” منانے كے رسومات آج تك قائم ہیں۔  

اس تہوار کو منانے والےاس دن  اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ باغات، پاركوں اور كھيتوں پر جاتے ہيں- اور اپنے ساتھ اشيائے خوردنى،  موسيقى كے آلات اور تفريح كے سامان لے جاتے ہيںلوگ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اس تہوار کومنانے ميں  سارا دن گزارتے ہيں- اس كے علاوه  بہت سارے لوگ سیر سپاٹےسےواپسى كے بعد بھی تہوار منانا جارى ركھتے ہیں ۔جوگھروں اور شہر کے مختلف جگہوں پرمنايا جاتا ہے-

 اس دن مختلف  كھانا بنانے  كااہم رسم ورواج ہے جو کہ “شم نسيم” منانے  كا ايك لازمى حصہ ہے -  یہ رسم فراعین کے دور سے ایک روایت بن گئى-  شم نسيم تہوار ميں فرعونوں کی روایت كى طرح مصرى  انڈوں كو رنگوں سے سجاتے ہيں- فرعون مانتے تھے كہ انڈے زندگی كى تخليق كى علامت ہے-  وه انڈوں كو اميدوں اور صلوات سے سجاتے تھے پھر باغات كے درخت پر لٹكاتے تھے تاكہ ديوتا نكلتے ہى ان كى اميد کو پوراكرے- اور یہ بھی مانتے تھے كہ زمين پر زندگى پانى ميں شروع ہوئى ہے- اس بات كا ثبوت زنده مچھلياں ہيں جو دريائے نيل ميں پائى جاتى ہيں

فرعون دريائے نيل كى تقديس كرتے تھے اور انہوں نے اسے "جعبى كا ديوتا" کا نام ديا تھا- فراعین کا عقیدہ تھا كہ جنت سے دريائے نيل نكلتا ہے-

اس تہوار كے كھانوں ميں سبز پياز بھى اہم ہے- قديم مصرى اساطير كى ايك داستان بيان كرتى ہے كہ فرعونوں ميں سے ايک بادشاه تھا جس كا  اكلوتا بچہ تھا، جو  عجیب و غریب  بيمارى ميں مبتلا ہو گيا تھا اور تمام روايتى طبى علاج معالجوں كا اس پر كوئى اثر نہ ہوا - اس بيمارى كى وجہ سے كچھ سالوں تک بچہ بستر پر رہا تھا- يہاں تک کہ "آمون" كے مندر كے سب سے بڑے كاہن نے دريافت كیا كہ يہ بچہ ان ديكھى قوتوں اور برى روحوں كے اثر سے بيمار ہوا ہے  اور پياز كے استعمال سے اس كا علاج  ہو سکتا ہے - كاہن سوئے ہوئے بچے كے تكيے كے نيچے پياز ركھتے تھےاور اس كے  بستر، كمرے كے دروازےاور محل كے دروازوں پر پياز لٹكایا گیا تاكہ برى روحیں بھاگ جائیں- اس طرح بچے كا علاج كيا گيا - اس دوران شم نسيم كے تہوار كا وقت تھا اس لئے سب لوگ اپنے گھروں كے دروازوں پر پياز لٹكانے لگے تاكہ بادشاه كے بچے  كى شفا كو مباركبا د ديں-  اس طرح پياز ،انڈےاور نمكدانى مچھلی شم نسيم كےتہوار کے کھانوں کا اہم جزو بن گئے-

جيسا كہ پہلے بيان كيا گيا ،شم نسيم كے تہوار كى  روايت كاتعلق فرعونوں سے ہے- قابل ذكر  یہ بھى ہے كہ  مشرق اور مغرب كے ممالک ميں موسمِ بہار منانے والے مصر كے شمِ نسيم  كے بعض رسم ورواج كو اپنے تہواروں ميں استعمال كرتے ہيں ۔جيسے بچوں كے تكيوں كے نيچے پياز ركھنا،  كمر وں كے دروازوں  پر پياز لٹكانا اور انڈوں كو مختلف رنگوں سے رنگنا- مغربى لوگوں نے ان انڈوں  كو "مشرق كا انڈا" کا نام دیا ہے 

 يہ تہوار مصر كى تہذيب كا ايك قديم عوامى تہوار ہے- فرعون 2700 قبل از مسيح  اسے مناتے تھے- مصر كے لوگوں كو اس تہوار پر فخر ہے اس لئے كہ يہ تہوار  صرف ان کےملک مصر سے متعلق رکھتا ہے

شم نسيم كو ہر سال اپريل كے مہينے ميں موسمِ بہار کی آمد پر منايا جاتا ہے- اس تہوار كی بہت سی رسومات دنيا كے کئی ملک ميں منتقل ہو چکی ہیں  ۔ليكن اس تہوار کا نوروز  سے كوئى تعلق نہيں ہے ۔جو قبطى سال  كے آغاز اور موسم ِ بہار  ميں منايا جاتا ہے-