بھارت کے انتخابات میں دوسرے مرحلے کی پولنگ

  • جمعرات 18 / اپریل / 2019
  • 5460

بھارت میں جاری انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران 11 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام خطے پڈوچیری میں لوک سبھا کی 95 نشستوں کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

پہلے مرحلے میں 11 اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے جب کہ پولنگ کا آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا۔ بھارت کا الیکشن کمیشن 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان ہکرے گا۔ ریاست تمل ناڈو کی 39 میں سے 38 نشستوں کے لیے بھی جمعرات کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ البتہ تمل ناڈو کے حلقے ویلور میں الیکشن کروڑوں روپے کی رقم پکڑے جانے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

تمل ناڈو کے علاوہ کرناٹک میں 24، مہاراشٹر میں 10، اتر پردیش میں آٹھ، آسام، بہار اور اڑیسہ میں پانچ پانچ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال میں تین تین، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو اور منی پور اور پڈوچیری میں ایک ایک نشست کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ اڑیسہ کے 35 اسمبلی حلقوں کے لیے بھی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

دوسرے مرحلے میں 1600 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس مرحلے میں کل 15 کروڑ 80 لاکھ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔  مزید پانچ مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل، 6، 12 اور 19 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

جو اہم شخصیات اس مرحلے میں میدان میں ہیں ان میں مرکزی وزرا جتیندر سنگھ، سدا نند گوڑا، بی جے پی کی امیدوار ہیما مالنی، سابق وزیرِ اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا، اے راجہ، کنی موژی، راج ببر، فاروق عبداللہ اور ویرپا موئلی قابل ذکر ہیں۔

پولنگ شروع ہونے کے ابتدائی گھنٹوں میں متعدد مقامات سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور پیپر ٹریل مشینوں میں خرابی کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کئی بوتھ پر پولنگ میں تاخیر ہوئی۔

جمعرات کو پولنگ کے آغاز پر جن اہم شخصیات نے اپنے ووٹ ڈالے ان میں تمل سپر اسٹار رجنی کانت، کمل ہاسن، پی چدمبرم، سشیل کمار شنڈے، منی پور کی گورنر نجمہ ہیبت اللہ اور وزیرِ دفاع نرملا سیتا رمن قابل ذکر ہیں۔

پولنگ اسٹیشنز پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس سمجھے جانے والے 8200 بوتھوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات ہے۔