مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کردیا گیا
- جمعرات 18 / اپریل / 2019
- 7720
کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ یہ واقعہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں پیش آیا۔
انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ کے مطابق بزی ٹاپ کے علاقے میں رات ساڑھے بارہ سے ایک بجے کے درمیان تقریباً 15 سے 20 مسلح افراد نے کراچی سے گوادر آنے اور جانے والی 5 سے 6 بسوں کو روک کر ان میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ متاثرہ افراد کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر قریب فاصلے سے گولیاں ماری گئیں۔ دہشت گردوں نے کل 16 مسافروں کو بسوں سے چن کر اتارا تھا تاہم مسافر2 بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ لوگ قریبی لیویز چیک پوسٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہیں اورماڑہ ہسپتال لے جایا گیا۔
قتل کیے گئے افراد کی لاشیں نور بخش ہوٹل سے ملیں، جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جائے وقوع پر لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پہنچ گئے اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ واقعے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئیں۔
بلوچستان کے چیف سیکریٹری حیدر علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے فرنٹیئر کورپس کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں۔ مقتولین میں نیوی اور کوسٹ گارڈ کا اہلکار بھی شامل ہیں۔
فائرنگ کے واقعے پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور جائے وقوع سے فرار ہونے والے مسلح حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں اور ہم اس بدتر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے۔
واضح رہے کہ اب تک مسلح افراد کی جانب سے ان افراد کو قتل کرنے کی وجوہات نہیں معلوم ہوسکی جبکہ مقتولین کی شناخت کے بارے میں بھی ابھی واضح نہیں کیا گیا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے مکران کوسٹل ہائیوے پر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے دہشت گردانہ عمل کی سخت مذمت کی ہے۔
خیال رہے کہ بسوں سے اتار کر مسافروں کو اس طرح قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پلے بھی یہاں ایسے واقعے رونما ہوچکےہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ 2015 میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پیش آیا تھا۔ اس وقت مسلح افراد نے کراچی سے تعلق رکھنے والی کوچز کے تقریباً 2 درجن مسافروں کو اغوا کرلیا تھا۔ جس کے بعد کھڈ کوچا کے علاقے میں پہاڑوں پر 19 افراد کو قتل کردیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان میں 2 دہشت گردی کے واقعات بھی ہوئے تھے۔ ان میں کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکے میں 20 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ اسی روز چمن میں بھی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔