وزیر خزانہ اسد عمر مستعفی ہوگئے، سیاسی رہنماؤں اور معاشی ماہرین کی تشویش
- جمعرات 18 / اپریل / 2019
- 5740
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کابینہ میں دوسرا قلمدان قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے سماجی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسد عمر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے بیل آؤٹ پیکج پر گفتگو کے لیے واشنگٹن گئے تھے اور ان کی وہاں عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
تاہم اسی دورے کے دوران ان کو عہدے سے ہٹائے جانے اور کابینہ میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جسے حکومت نے مسترد کردیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر خزانہ سلمان شاہ نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے پروگرام میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اسد عمر کی جگہ فوری طور پر نیا وزیرخزانہ لگانا ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف سے پروگرام آخری مرحلے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کی۔ پہلے حکومت کا خیال تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ جب انہوں نے مالی خسارہ دیکھا تو پھر انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ اب انہیں آئی ایم ایف سے فوری طور پر معاملات طے کرلینے چاہئیں کیونکہ تاخیر کی وجہ سے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
15 اپریل کو حکومت نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ میں 15 اپریل کی صبح سے ہی یہ خبریں گردش میں تھیں کہ حکومت نے وزیر خزانہ سمیت 5 اہم وزارتوں کے قلمدان میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور جلد ہی اس سلسلے میں اعلان متوقع ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومتی وزرا کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ وزرا کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے مزید لکھا تھا کہ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
بعدازاں 16 اپریل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اے آر وائی نیوز اور بول نیوز کو وفاقی کابینہ اور وفاقی وزرا کے قلمدان میں تبدیلی کی خبر نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ پیمرا کی جانب سے دونوں نشریاتی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’ یہ خبر جعلی تھی کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے فوری طور پر ایسی کسی خبر کو مسترد کردیا تھا‘۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے تمام معاملات اسد عمر طے کر چکے ہیں اور معاہدے پر دستخط کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کا دورہ رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے.
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پہلے دن کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت انا، ضد اور تکبر کی زد میں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کر معیشت کو ترجیح دیں۔ میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے پہلے دن سے ہی میثاق معیشت کی پرخلوص پیشکش کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر وقت ضائع نہ کیا جاتا تو ملک کو موجودہ معاشی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسد عمر کے ہٹائے جانے کے بعد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں آنے کے8 ماہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی پالیساں غلط تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن وزرا کے تعلقات کالعدم تنظیموں سے رہے ہیں ان کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔